"میمونہ بنت حارث" کے نسخوں کے درمیان فرق

*[[ابن ابی شیبہ|امام ابن ابی شیبہ]] (متوفی [[235ھ]]) اور [[ابو بکر بیہقی|امام بیہقی]] (متوفی [[458ھ]]) نے آپ کے بھتیجے یزید بن اَصَم سے ایک روایت بیان کی ہے کہ: اُم المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا مکہ المکرمۃ میں شدید بیمار ہوگئیں۔ آپ نے فرمایا :’’ اَخْرِجُوْنِیْ مِنْ مَّکَۃَ فَاِنِّیْ لَا اَمُوْتُ بِھَا انَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَخْبَرَنِیْ اَنْ لَّا اَمُوْتَ بِمَکَّۃ ‘‘
*’’مجھے مکہ سے باہر لے جاؤ، یہاں مجھے موت نہیں آئے گی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا تھا کہ میرا وصال مکہ میں نہیں ہوگا۔‘‘
چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا کو سَرَف کے مقام پر اُس درخت کے پاس لے جایا گیا جِس کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شادی کے بعد اِن سے ملے تھے ، اور وہیں اُن کا وصال ہوگیا۔<ref>[[جلال الدین سیوطی]]: [[الخصائص الكبرٰی]]، جلد 2 ص 428۔</ref> آپ کی نمازِ جنازہ [[عبد اللہ بن عباس|عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ]] نے پڑھائی۔ <ref>[[ابن عبد البر|امام ابن عبدالبر قرطبی]]: [[الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب]]، جلد 4، صفحہ 1918۔ تحقیق: علی محمد البجاوی، مطبوعہ اول، دارالجیل، [[بیروت]]، [[لبنان]]، [[1992ء]]</ref> آپ کی تدفین آپ کی وصیت کے مطابق سَرَف کے مقام پر ہی کی گئی جہاں آپ نے وفات پائی تھی (اِسی مقام پر آپ کا نکاح رسول اللہ علیہ وسلم سے ہوا تھا)۔<ref>علامہ ابی جعفر محمد بن حبیب الہاشمی البغدادی: کتاب المحبر، صفحہ 92، مطبوعہ منشورات دارالافاق الجدیدۃ، [[بیروت]]، [[لبنان]]</ref>
 
آپ کی نمازِ جنازہ [[عبد اللہ بن عباس|عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ]] نے پڑھائی۔ <ref>[[ابن عبد البر|امام ابن عبدالبر قرطبی]]: [[الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب]]، جلد 4، صفحہ 1918۔ تحقیق: علی محمد البجاوی، مطبوعہ اول، دارالجیل، [[بیروت]]، [[لبنان]]، [[1992ء]]</ref>
 
==روایت حدیث==