"خدیجہ بنت خویلد" کے نسخوں کے درمیان فرق

←‏وفات: حوالہ/حوالہ جات کی درستی, درستی
(←‏وفات: حوالہ/حوالہ جات کی درستی, درستی)
}}
'''خدیجہ بنت خویلد''' (پیدائش: [[556ء]]– وفات: [[30 اپریل]] [[619ء]]) [[مکہ]] کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے [[قریش]] سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے [[محمد]] {{درود}} کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ {{درود}} کی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلیٰ اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ نے حضور {{درود}} کو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو حضور {{درود}} نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ حضور {{درود}} صرف پچیس سال کے تھے۔ خدیجہ نے سب سے پہلے [[اسلام]] قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔
 
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ساری کی ساری اولاد خدیجہ سے پیدا ہوئی اورصرف ابراہیم جو ماریہ قبطیہ سے تھے جو [[اسکندریہ]] کے بادشاہ اور قبطیوں کے بڑے کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بطور ہدیہ پیش کی گئی تھیں۔
 
== نام و نسب ==
 
== نکاح ==
باپ نے ان صفات کا لحاظ رکھ کر شادی کے لیے [[ورقہ بن نوفل]] کو جو برادر زادہ اور [[تورات]] و [[انجیل]] کے بہت بڑے عالم تھے، منتخب کیا، لیکن پھر کسی وجہ سے یہ نسبت نہ ہو سکی اور ابو ہالہ ہند بن بناش تمیمیبن تمیم سے [[نکاح]] ہو گیا۔<ref>استیعاب، ج 2 ص 378</ref><ref name=":0">[[طبقات ابن سعد]]، ج 8 ص 27</ref><br/>ابو ہالہ کے بعد عتیق بن عابد مخزوم کے عقد نکاح میں آئیں۔<ref name=":0" />
ابو ہالہ کے بعد عتیق بن عابد مخزومی کے عقد نکاح میں آئیں۔
 
اسی زمانہ میں حرب الفجار چھڑی، جس میں خدیجہ کے والد لڑائی کے لیے نکلے اور مارے گئے<ref>طبقات ابن سعد، ج 8 ص 9</ref>یہ عام الفیل سے 20 سال بعد کا واقعہ ہے۔<ref>طبقات ابن سعد، 81:1، ق1</ref>
 
== آپﷺ سے نکاح ==
خدیجہ کی دولت و ثروت اور شریفانہ اخلاق نے تمام [[قریش]] کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا اور ہر شخص ان سے نکاح کا خواہاں تھا،تھا لیکن کارکنان قضا و قدر کی نگاہ انتخاب کسی اور پر پڑ چکی تھی، [[محمد بن عبد اللہ|محمد]] {{درود}} مال تجارت لے کر شام سے واپس آئے تو خدیجہ نے شادی کا پیغام بھیجا،بھیجا۔ نفیسہ بنت مینہ (یعلی بن امیہ کی ہمشیر) اس خدمت پر مقرر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور فرمایا،<ref>طبقات ابن سعد، 84</ref> اور شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی، خدیجہ کے والد اگرچہ وفات پا چکے تھے تاہم ان کے چچا عمرو بن اسد زندہ تھے،تھے۔ عرب میں عورتوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ شادی بیاہ کے متعلق خود گفتگو کر سکتی تھیں، اسی بنا پر خدیجہ نے چچا کے ہوتے ہوئے خود براہ راست تمام مراتب طے کیے۔
 
تاریخ معین پر [[ابو طالب]] اور تمام رؤسائے خاندان جن میں [[حمزہ بن عبد المطلب]] بھی تھے، خدیجہ کے مکان پر آئے، حضرت خدیجہ نے بھی اپنے خاندان کے چند بزرگوں کو جمع کیا تھا، [[ابو طالب]] نے خطبہ نکاح پڑھا۔ عمروبن اسد کے مشورہ سے 500 طلائی [[درہم]] مہر قرار پایا اور خدیجہ طاہرہ حرم [[نبوت]] ہو کر [[ام المومنین]] کے شرف سے ممتاز ہوئیں، اس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پچیس سال کے تھے اور خدیجہ کی عمر چالیس برس کی تھی۔ یہ بعثت سے پندرہ سال قبل کا واقعہ ہے۔<ref>اصابہ، ج 8 ص 60</ref>
 
== اسلام ==
نکاح کے پندرہ برس کے بعد جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر ہوئے اور فرائض نبوت کو ادا کرنا چاہا تو سب سے پہلے خدیجہ کو یہ پیغام سنایا وہ سننے سے پہلے [[مومن]] تھیں، کیونکہ ان سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق دعویٰ کا کوئی شخص فیصلہ نہیں کر سکتا تھا، [[صحیح بخاری]] باب بدۤ الوحی میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے اور وہ یہ ہے،
 
"عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر [[وحی]] کی ابتدا رویائے صادقہ سے ہوئی آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے تھے سپیدۂ۔۔۔۔۔ صبح کی طرح نمودار ہو جاتا تھا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلوت گزیں ہو گئے، چنانچہ کھانے پینے کا سامان لے کر [[غار حرا]] تشریف لے جاتے اور وہاں تخث یعنی عبادت کرتے تھے۔ جب سامان ہو چکتا تو پھر خدیجہ کے پاس تشریف لاتے اور پھر واپس جا کے مراقبہ میں مصروف ہوتے یہاں تک کہ ایک دن فرشتہ غیب نظر آیا کہ آپ سے کہہ رہا ہے پڑھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا لکھا نہیں، اس نے زور سے دبایا، پھر مجھ کو چھوڑ دیا اور کہا پڑھ تو میں نے پھر کہا کہ میں پڑھا لکھا نہیں پھر اس نے دوبارہ زور سے دبایا اور چھوڑ دیا اور کہا پڑھ پھر میں نے کہا میں پڑھا لکھا نہیں اسی طرح تیسری دفعہ دبا کر کہا کہ پڑھ اس خدا کا نام جس نے کائنات کو پیدا کیا۔ جس نے آدمی کو گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھ تیرا خدا کریم ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو جلال الہی سے لبریز تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ سے کہا مجھ کو کپڑا اڑھاؤ، مجھ کو کپڑا اڑھاؤ، لوگوں نے کپڑا اڑھایا تو ہیبت کم ہوئی پھر خدیجہ سے تمام واقعہ بیان کیا اور کہا "مجھ کو ڈر ہے" خدیجہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم متردد نہ ہوں، خدا آپ کا ساتھ نہ چھوڑے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، بے کسوں اور فقیروں کے معاون رہتے ہیں، مہمان نوازی اور مصائب میں حق کی حمایت کرتے ہیں پھر وہ آپ کو اپنے چچا زاد بھائی [[ورقہ بن نوفل]] کے پاس لے گئیں جو مذہباً [[مسیحیت|نصرانی]] تھے [[عبرانی زبان]] جانتے تھے اور عبرانی زبان میں انجیل لکھا کرتے تھے، اب وہ بوڑھے اور نابینا ہو گئے تھے۔ خدیجہ نے کہا اپنے بھتیجے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی باتیں سنو، بولے ابن الاخ تو نے کیا دیکھا؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعہ کی کیفیت بیان کی تو کہا یہ وہی ناموس ہے جو موسیٰ پر اترا تھا۔ کاش مجھ میں اس وقت قوت ہوتی اور زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو شہر بدر کرے گی، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا ہاں جو کچھ آپ پر نازل ہوا جب کسی پر نازل ہوتا ہے تو دنیا اس کی دشمن ہو جاتی ہے اور اگر اس وقت تک میں زندہ رہا تو تمھاری وزنی مدد کروں گا۔ اس کے بعد ورقہ کا بہت جلد انتقال ہو گیا اور وحی کچھ دنوں کے لیے رک گئی<ref>[[صحیح بخاری]]، 2-3:1</ref>
 
== وفات ==
ام المومنین خدیجہ نکاح کے بعد 25 برس تک زندہ رہیں اور 11 رمضان سنہ 10 نبوی ([[ہجرت]] سے تین سال قبل)<ref>صحیح بخاری، 55:1</ref> انتقال کیا، اس وقت ان کی عمر 64 سال 6 ماہ کی تھی، چنانچہ نماز جنازہ اس وقت تک مشروع نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے ان کی لاش اسی طرح دفن کر دی گئی۔
 
محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کی قبر میں اترے اور اپنی سب سے بڑی غمگسار کو داعی اجل کے سپرد کیا، خدیجہ کی قبر حجون میں ہے۔<ref>طبقات ابن سعد، ج 8 ص 11</ref> اور زیارت گاہ خلائق ہے۔
ان سب کے باوجود بعض مآخذ میں کہا گیا ہے حضرت خدیجہ (س) نے پیغمبر اکرمؐ کی زوجیت میں آنے سے پہلے کسی سے شادی نہیں کی ہیں۔ ابن شہر آشوب کے مطابق سید مرتضی اپنی کتاب شافی اور شیخ طوسی اپنی کتاب التلخیص میں پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ شادی کے موقع پر حضرت خدیجہ کے باکرہ ہونے کی طرف اشارہ کئے ہیں۔<ref> ابن شہرآشوب، المناقب آل ابی طالب، قم، ج۱، ص۱۵۹: «روی أحمد البلاذری و أبوالقاسم الکوفی فی کتابیہما و المرتضی فی الشافی و أبو جعفر فی التلخیص: أن النبی (ص) تزوج بہا و کانت عذراء»۔ </ref> بعض محققین اس بات کے معتقد ہیں کہ سرزمین حجاز میں رائج قومی اور نژادی تعصبات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کو قبول نہیں کیا جا سکتا کہ حضرت خدیجہ جو قریش کے بزرگوں میں سے تھیں، کی شادی قبیلہ بنی تمیم اور قبیلہ بنی مخزوم کے دو اعرابی سے انجام پائی ہو <ref> عاملی، الصحیح، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۱۲۳۔</ref> اور جن اولاد کی نسبت حضرت خدیجہ کی طرف دی جاتی ہیں حقیقت میں وہ ان کی بہن ہالہ کی تھیں جن کی وفات کے بعد ان کے بچے حضرت خدیجہ کی زیر سرپرستی پلی بڑی ہیں.<ref> عاملی، الصحیح، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۱۲۳۔ </ref>
 
محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ اولادیں پیدا ہوئیں، دو صاحبزادے جو بچپن میں انتقال کر گئے اور چار صاحبزادیاں نام حسب ذیل ہیں:<ref>زرقانی، 221:3</ref><ref>[[طبقات ابن سعد]]، ج اول ص 152</ref>
 
* [[قاسم بن محمد]]، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے بیٹے تھے، انہی کے نام پر آپ ابو القاسم کنیت کرتے تھے، صغر سنی میں مکہ میں انتقال کیا، اس وقت پیروں پر چلنے لگے تھے۔
* [[زینب بنت محمد]] محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔