"منیتہ الممارسین فی اجوبتہ الشیخ یاسین" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
 
 
جبکہ [[اخباری (اہل تشیع)|اخباری]] اس قسم کی باتوں کو جائز قرار نہیں دیتے ہیں جیسا کہ آپ نے اب تک کے نکات میں واضح طور پر دیکھ اور سمجھ لیا ہے کہ وہ ہر بارے میں [[قرآن]] و [[سنت]] پر عمل کرنے پر سختی کرتے ہیں.
 
'''نکتہ نمبر 21'''
 
مجتہدین کا کہنا ہے کہ فقہی ادلہ جن قواعد سے اخذ کیے جاتے ہیں کی صحت ان کے نزدیک ثابت ہوتی ہے جسے وہ ان اصولوں سے اخذ کرتے ہیں جو علمائے عامہ کے وضع کردہ ہیں .
 
جبکہ اخباری حضرات اس عمل کو جائز قرار نہیں دیتے ہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ اصول و فروع میں خود کو وہیں تک محدود رکھا جائے جہاں تک معصوم علیہ السلام سے حدیث سے دلالت موجود ہو. اور اس سلسلہ میں وہ امام صادق آل محمد علیہ السلام کی حدیث بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ، "کسی سے بھی دین کے معاملے میں کچھ مت لو اور صرف ہم اہل بیت علیہ السلام سے ہی دین لو یوں تم ہم (علیہ السلام) میں سے ہی رہو گے، نیز آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ، تم پر وائے ہو اگر تم ایسا کلام کرو یا بات کرو جو تم نے ہم سے نہ سنا ہو. مزید ارشاد فرمایا ، جو کچھ ہم اہل بیت علیہ السلام سے تم تک نہ پہنچا ہو وہ یقینا باطل ہے . ارشاد مزید ہوا کہ الله کی قسم ہمیں یہ بات بہت پسند ہے کہ جب ہم بولیں تو تم بھی وہی بولو جو ہم نے بولا ہے اور جب ہم خاموش ہو جائیں تو تم بھی خاموش جو جاو کیونکہ ہم تمہارے اور الله کے درمیان ہیں ، اور الله نے ہمارے امر کی مخالفت میں ہر گز خیر نہیں رکھی ہے .
 
لب ہائے اطہر نے پھر جنبش فرمائی اور ارشاد ہوا ،"لوگوں کے پاس حق اور نہ ہی مناسب بات ہے مگر یہ کہ جو کچھ وہ ہم اہل بیت علیہ السلام سے سنیں . " ، فرمان حق یوں جاری رہا کہ "اگر تم یقینی علم کے حصول کے متمنی ہو تو وہ تو ہمارے ہی پاس ہے ، ہم اہل بیت علیہ السلام ہیں اور ہم ہی اہل الذکر ہیں کہ جس کے بارے میں رب تعالی فرماتا ہے کہ اہل ذکر سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے. ، کلام پاک کی روانی یوں رہی کہ "تم چاہے تو مشرق میں جاو یا مغرب میں جاو بخدا تم یقینی علم کو حاصل نہ کر پاو گے ماسوائے ان لوگوں سے کہ جن پر جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتا تھا. "
 
اس کے علاوہ بھی اخباری حضرات بہت سے دلائل نقل کرتے ہیں.
 
'''نکتہ نمبر 22'''
 
مجتہدین قرآن و حدیث سے عقائد کو اخذ کرنا جائز نہیں سمجھتے ہیں، بلکہ بعض نے تو اصول فقہ کے ذریعہ حدیث سے کسی مسلہ کے اخذ کرنے کو بھی منع قرار دیا ہے، ایسی حدیث جو اخبار احاد میں سے ہو.
 
ایسا اس لیے ہے کہ وہ اصول کو یقینی رکھنا چاہتے ہیں اور بقول ان کے، خبر واحد ان کے لیے یقینی علم کے لئے مفید نہیں ہوتی ہے.
 
جبکہ اخباری حضرات اس موقف کے بلکل برعکس موقف رکھتے ہیں، جیسا کہ آپ نے ابھی تک کے سابقہ نکات میں ملاحظه فرما لیا ہے.
 
'''نکتہ نمبر 23'''
 
مجتہدین حضرات شرعی مسائل کے متعلق جو کچھ ظنی اجتہاد سے اخذ کرتے ہیں، اس میں اختلاف کو جائز سمجھتے ہیں. اور وہ اس سلسلے میں کسی کو بھی گناہگار نہیں کہتے ہیں جو آیات و روایات یعنی حق کے خلاف بھی استفادہ کرے تو وہ بھی ان کے نزدیک فاسق نہیں ہوتا ہے، جب تک کہ مسلہ فروعی احکامات سے متعلق ہو اور اجتہادی ظن کو بروئے کار لایا گیا ہو.
 
ان میں سے ہر ایک دوسرے کو صحیح سمجھتا ہے، اس صورت میں بھی کہ خود قائل ہوں کہ اس سے (اجتہادی) خطاء ہوئی ہے تب بھی اُسے غلط نہیں سمجھتے ہیں.<ref>(نوٹ از مترجم جلال الدین : مثال کے طور پر مجتہد خامنئی کا خونی ماتم کے خلاف فتوی ہے کہ جسے خود کثیر اصولی مجتہدین غلط سمھجتے ہیں یعنی اسے خطاء پر سمجھتے ہیں ، مگر اس کے باوجود کھل کر اس پر لعنت نہیں کرتے ہیں ،نہ ہی اسے فاسق و جابر سمجھتے ہیں اور ان مجتہدین کے مقلدین کی طرف سے یہ بیانیہ بھی سامنے آتا رہتا ہے کہ جو جس مجتہد کی تقلید میں ہے وہ وہی عمل کرے ، یعنی ایک ہی عمل ایک ہی وقت میں حلال بھی ہوتا ہے اور حرام بھی ہوتا ہے اور حلال کرنے والے بھی اور حرام قرار دینے والے بھی دونوں ہی صحیح بھی ہوتے ہیں اور بھی اس کی بہت سی امثال ہیں جو قارئین سے ڈھکی چھپی نہ ہوں گی)</ref>
 
جبکہ اخباری اس قسم کے اختلاف کو جائز قرار نہیں دیتے ہیں، اور جو کچھ آیات و روایات سے ثابت ہوتا ہے اس کے خلاف بات کرنے والے کو فاسق قرار دیتے ہیں. جیسا کہ امیر المومنین علیہ السلام کا قول مبارکہ ہے کہ فرمایا:
 
"کہ جب کوئی مسلہ کسی ایک کے پاس آتا ہے تو اس بارے میں فصیلہ کرتے ہوۓ وہ اپنی رائے سے کام لیتا ہے اور پھر وہی سوال کسی دوسرے سے کیا جاتا ہے تو وہ اپنے فیصلے میں پہلے والی کی مخالفت کرتا ہے اور جب یہ دونوں اپنے امام (بمعنی دنیاوی حاکم ) کے پاس آتے ہیں جس نے انہیں قاضی مقرر کیا ہوتا ہے تو وہ ان دونوں کے فیصلوں کو صحیح قرار دے دیتا ہے . جبکہ ان کا خدا ایک ، رسول ایک ، اور کتاب ایک ہی ہوتی ہے . کیا الله نے انھیں حکم دیا ہے کہ اختلاف کریں اور یوں انہوں نے اختلاف کر کے الله کے حکم کی پابندی کی ہے؟ یا پھر الله نے انہیں اختلاف کرنے سے منع فرمایا ہے اور انہوں نے اس کی حکم عدولی کی ہے؟ یا پھر کیا الله نے دین کو ناقص رکھا ہے اور ان سے مدد طلب کی ہے کہ وہ اسے مکمل کر دیں ؟ یا پھر یہ الله کے شریک ہو گئے ہیں کہ انھیں حق حاصل ہو گیا ہے کہ اپنی آرا سے فصیلہ کریں اور الله بھی ان سے ضرور متفق ہو؟
 
یا پھر یہ کہ الله نے دین تو مکمل کیا ہے لیکن رسول الله سے اس کی صحیح تبلیغ نہ ہو سکی؟ جبکہ الله کتاب میں ارشاد فرماتا ہے کہ "ہم نے قرآن میں کسی شئی کے بیان کو بھی نظر انداز نہیں کیا ہے" الی آخر روایت. "
 
بعین حرف بہ حرف یہی موقف اخباریوں کا ہے , اس قسم کا اختلاف اصولیوں کے ہاں ممدوح ہے ،جہاں تک اخبار میں ظاہری اختلاف کا تعلق ہے تو اس بارے میں ہم نے مختصرا سابقہ نکات میں بھی کلام کیا ہے اور آئندہ بھی کتاب ہذا میں مفصل کلام کریں گے. یہاں ہم یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ شاید کوئی یہ گمان کرے کہ بعض اخبار تو حق کی ترجمان ہوں لیکن بعض دوسری تقیہ پر مبنی ہوں. یا یہ کہ کسی کو یہ معلوم ہی نہ ہو سکے کہ یہ آپس میں متضاد ہیں. یا ایک یہ صورتحال بھی ہو سکتی ہے کہ اخبار کے متعلق افہام و تفہیم میں دو افراد میں اختلاف وارد ہو جائے. اور ہر ایک اپنے فہم کے مطابق کسی نتیجہ تک پہنچے کہ جو دوسرے سے مختلف ہو. تو ان سبھی صورتوں میں اختلاف کی یہ قسم قابلِ گرفت نہیں کیونکہ اخذ شدہ مسلہ کے لیے بہرحال روایت ہی استعمال کی گئی لیکن اس کے معنوں سے لا علم رہا گیا. ایک بے خبر شخص تب تک نظر انداز کیا جائے گا جب تک کہ وہ واقعا بے خبر رہے جیسا کہ مولا امام صادق آل محمد علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ، میں نے انھیں اختلاف کے لیے چھوڑ دیا ہے یا یہ کہ ہم جو کچھ تقیہ میں فرماتے ہیں اور کوئی اس پر عمل کرے تو یہ بھی درست ہے. یا یہ فرمان واضح ہے کہ جب تک تمھاری نیت خالصتا اطاعت کرنا ہی ہو اور ہمارے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہی ہو تو اس سلسلے میں تم آزاد ہو کہ جس خبر پر چاہو اس پر عمل کرو. اور اسی قسم کا مفہوم دیگر روایات میں بھی وارد ہوا ہے.
 
یعنی، اگر تو اختلاف ظاہری طور پر روایات کے تحت ہو تو پھر ان اخبار کی درایت میں اختلاف کا ہونا بذات خود حرام و ممنوع نہیں ہے جب تک کہ نیت اطاعت کرنا ہی ہو، تو یہ قابل تلافی ہے. لیکن اجتہاد سے ظاہر ہونے والے اختلاف کی ممانعت وارد ہوئی ہے جو روایات کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ ایسا اختلاف اصول فقہ کی بنیاد پر ہوتا ہے اور اصول الفقہ کا نام و نشان بھی روایات میں نہیں ملتا ہے .
 
مثال کے طور پر مجتہدین کا یہ بیانیہ کہ اگر کسی شئی کی انجام دہی کا حکم موجود ہو تو اس سے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ اس کا برعکس ہر حال میں حرام ہو گا جبکہ حرمت پر اصلاً کوئی نص نہ بھی ہو. یا ان اصولیین کا یہ قول کہ اجازت واجب ہو گی اور نہی تحریم ہی ہو گی.
 
یا پھر ان مجتہدین کا یہ کہنا کہ طریق اولیت کو استعمال کیا جا سکتا ہے، یا عقلی استنباط وغیرہ یا پھر ان کا یہ کہنا کہ منہ سے نکلی ہوئی بات ہمیشہ ہی ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہی رہے گی ، یا پھر ان کا یہ کہنا کہ انسان پر تو بس اپنے ظن پر ہی عمل کرنا فرض ہے یا ان قواعد و اصول کے ذریعے حکم کو کشف کرنا ہی کافی ہے کہ جن کا کوئی حاصل وصول نہیں ہوتا ہے.
 
'''نکتہ نمبر 24'''
 
مجتہدین حضرات خود کسی مجتہد کو بھی یہ اجازت نہیں دیتے کہ کسی کو اپنے سے کم علم والے کے پاس روایت کے حصول کیلیے بھیج دے. حتی کہ اپنے برابر والے کے پاس بھی کسی کو بھیجنا مناسب نہیں سمجھتے ہیں. ایسی صورت کہ جب خود ان کے اپنے پاس روایت نہ ہو تو پھر بھی ان کا کہنا ہے کہ مقلد اپنے مجتہد کے فیصلہ کی طرف ہی رجوع رکھے.
 
جبکہ اخباریوں کا طریقہ اس متعلق بھی یکسر بالعکس ہے کہ وہ جب کسی مسلہ کے بارے میں روایت نہیں پاتے ہیں تو سائل کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ معصومؐ سے روایت کو جاننے کیلیے کسی اور کی طرف رجوع کرنے میں آزاد ہے پھر چاہے خود کسی طالب علم سے ہی روایت کے متعلق کیوں نہ پوچھا جائے بلکہ اخباری تو عام مومنین کی طرف بھی روایت کے حصول کیلیے رجوع کرنا صحیح سمجھتے ہیں.
 
ان کا وہی موقف رہتا ہے کہ کسی کیلیے بھی جائز نہیں کہ مسلہ کے بارے میں اپنی رائے سے فیصلہ کرے. اور اس بارے میں بھی اخباری احادیث اہل بیت علیہ السلام پیش کرتے ہیں جیسا کہ فرمان ہوا کہ "لوگ صرف اسی وجہ سے تباہ ہو جاتے ہیں کہ وہ سوال نہیں پوچھتے". اور انہی علیہ السلام کا یہ فرمان کہ ایسا شخص قتل کیا گیا جس کے چہرے پر چیچک کے داغ ہوں اور لوگ اسے پانی سے دھو دیں جس سبب اس کی موت واقع ہو جائے , انہوں نے مٹی کا استعمال کیوں نہ کیا اور اس متعلق سوال کیوں نہ کیا؟ اور یہ فرمان بھی کہ فرمایا جہالت کا اعلاج سوالات اٹھانے میں ہے.
 
'''نکتہ نمبر 25 '''
 
مجتہدین حضرات کا یہ کہنا ہے کہ زمانہ غیبت میں موجود تمام شیعہ علماء مجتہد ہی ہوا کرتے ہیں. قدماء یعنی [[شیخ کلینی]] رح تا محقق عبد علی الکرکی رض سبھی مجتہد تھے. اور شیخ زین الدین رض وغیرہ تک بھی سبھی مجتہد تھے.
 
جبکہ اخباریوں نے اس بارے میں بھی اصولیوں سے اختلاف کیا ہے اور ان کا یہی کہنا ہے کہ کلینی اور صدوق اور ان جیسے دیگر قدماء ہرگز مجتہد نہ تھے.
 
ہاں مگر سید مرتضی اور علامہ حلی، شیخ مکی العاملی یا محقق الکرکی وغیرہم یا ان کی طرح کے اور شیوخ مجتہد تھے. اخباریوں کے اس موقف کی صداقت کتب سے ثابت ہے اور مجتہدین کے اس بیانیہ کا رد بھی خود مشہور کتب میں موجود ہے جس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے.
 
'''نکتہ نمبر 26'''
 
مجتہدین کا کہنا ہے کہ اجتہاد واجب کفائی ہے یا واجب عینی تاہم اکثر مجتہدین نے اجتہاد کو بطور واجب کفائی لیا ہے اور مجتہدین کی قلیل جماعت نے واجب عینی قرار دیا ہے.
 
جبکہ اخباریوں کا موقف یہ ہے کہ حصول علم سبھی مسلمین پر یکساں واجب ہے. اور علم کے حصول سے مراد یہ ہے کہ معصومین علیھم صلاۃ و سلام اجمعین سے علم حاصل کیا جائے. یا تو براہ راست معصوم علیہ السلام سے علم کو کسب کیا جائے یا پھر کسی واسطہ سے یا پھر کئی واسطوں سے یعنی ہر طرح سے معصوم علیہ السلام سے ہی علم حاصل کیا جائے .
 
'''نکتہ نمبر 27'''
 
مجتہدین کسی حکم کو برقرار رکھنے کو جائز نہیں سمجھتے ہیں اور گزشتہ علمائے اصولیین نے بھی کسی حکم کو جوں کا توں رکھنے کو درست نہیں سمجھا ہے اگرچہ اُس مسلہ پر واضح دلیل ہی کیوں نہ موجود ہو.
 
جبکہ اخبارئین قدماء یا بعد والوں میں فرق نہیں کرتے ہیں اگرچہ وہ حکم کو برقرار رکھے یا پھر سرے سے حکم پیش ہی نہ کرے. اخباریوں کے نزدیک عمل کی بنیاد معصوم علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب وہ میسر ہو جائے گی تو نافذ العمل ہو جائے گی. پھر چاہے وہ پہلے میسر آئے یا بعد میں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے.<ref>(نوٹ از مترجم جلال الدین: اجتہاد کو زندہ رکھنے کیلیے ضروری ہے کہ احکام کو مستقل قرار نہ دیا جائے تاکہ آئندہ نسلوں میں پیدا ہونے والے مجتہدین کیلیے کام بند نہ ہو جائے اور احکام میں تغیر و تبدیلیاں ہوتی رہیں, مثال کے طور پر وضو کے مسائل میں مجتہدین کا کئی صدیوں سے جاری اختلاف آج تک موجود ہے)</ref>
 
'''نکتہ نمبر 28'''
 
مجتہدین حضرات کے نزدیک علم الادب ، صرف و نحو اور علم الکلام سمیت علم المنطق وغیرہ کی تعلیم حاصل کرنا واجبات میں سے ہے کیونکہ یہ اجتہاد کی شرائط میں سے ہے. جو کہ واجب کفائی ہے. اور اسی لیے چونکہ خود اجتہاد واجب کفائی ہے تو اس کے مقدمات کا سیکھنا بھی واجب ہی ہو گا. کیونکہ جن ذرائع سے واجب کفائی پر عمل کیا جائے گا ان ذرائع کا سیکھنا خود بخود واجب ہی ہو گا.
 
جبکہ اخباری حضرات ان میں سے کسی علم کو بھی ضروری نہیں سمجھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ روایات کو سمجھنے کیلیے ان علوم پر انحصار کرنا ہرگز ضروری نہیں ہوتا ہے. عقائد حقہ کو اخذ کرنے کیلیے علم الکلام کی محتاجی نہیں رکھی گئی ہے. اور فقیہ کیلیے بس یہی ضروری ہے کہ اتنی عربی کا علم ہو کہ روایت کو پڑھ اور سمجھ سکے اور اس پر دقت کر سکے جیسا کہ پہلے بھی اس کا ہم نے ذکر کیا تھا.
 
'''نکتہ نمبر 29'''
 
مجتہدین روایات کے لیے اصطلاح "ثقہ" کا استعمال صرف اسی صورت میں کرتے ہیں جبکہ راویان عادل و امامی ہوں.
 
جبکہ اخبارئین نے اس کے برعکس جو کچھ قدماء کی تقاریر سے استفادہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ راوی کیلیے صرف اتنا معیار رکھنا کہ عمومی طور پر تسلی ہو کہ وہ جھوٹا نہیں تھا ہی کافی ہے . یعنی باقاعدہ اس کی دیانت داری یا عادل ہونے کا جاننا ضروری ہی نہیں. (اس لیے کہ جب کذب دیگر قرائن سے ثابت ہو جائے گا تو اس صورت میں ہی کسی کو کذاب کہا سکے گا وگرنہ تو کسی کی مطلق دیانت داری پر تو بات کرنا ممکن ہی نہیں ہے خصوصا ً ایسے لوگوں کے بارے میں جو صدیوں پہلے گزر چکے ہوں).
 
'''نکتہ نمبر 30'''
 
مجتہدین کا کہنا ہے کہ مجتہد کی اطاعت بھی امام ص کی اطاعت کی طرح واجب ہوا کرتی ہے. تاہم مجتہد سے خطاء کا امکان ہوتا ہے جبکہ معصوم علیہ السلام سے خطاء کا امکان ہونا ممکن نہیں کیونکہ اگر امام علیہ السلام سے خطاء کا امکان مان لیا گیا تو یہ خطاء سرایت کر جائے گی اللہ کی طرف کیونکہ بتحقیق آئمہ علیہم السلام کی اطاعت کا حکم خود اللہ نے دیا ہے اور اگر انہی علیہ السلام سے خطاء سرزد ہو گی تو اصلاً یہ خطاء اللہ سے واقع ہو گی اور ایسی صورتحال چونکہ عدل کے برخلاف ہے اس وجہ سے یہ ناممکنات میں سے ہے.
 
اخباری حضرات سوائے امام معصوم علیہ السلام کے کسی کی بھی اطاعت کو جائز نہیں کہتے ہیں. اطاعت صرف و صرف امام علیہ السلام کی ہو گی یا ایسے قول کی جو معصوم علیہ السلام کے فرمان پر مبنی ہو اور کوئی عالم نقل کرے. تو درحقیقت یہ بھی خود معصوم علیہ السلام کی ہی اطاعت ہو گی نہ یہ کہ اُس عالم کی جو ناقل محض ہو گا. یوں ان دونوں گروہوں کے مابین فرق واضح ہو کر سامنے آ جاتا ہے.
903

ترامیم