"فرہنگ آصفیہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

22 بائٹ کا اضافہ ،  1 سال پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
}}
 
'''فرہنگِ آصفیہ''' [[اردو]] کی معروف ترین اور پہلی باقاعدہ مکمل لغت ہے۔ اس سے پہلے اردو - فارسی اور اردو - انگریزی لغات شائع ہو چکی تھیں، جب کہ اردو محاورات کے چند مجموعے بھی چھپ چکے تھے، جن میں [[منشی چرن جی]] کی [[مخزن المحاورات]]، [[امتیاز علی بیگ]] کی [[مخزنِ فوائد]] اور خود [[مولوی سید احمد دہلوی]] کی [[مصطلحاتِ اردو]] وغیرہ شامل ہیں لیکن باقاعدہ اور مکمل اردو سے اردو لغت کا وجود نہیں تھا۔
 
فرہنگِ آصفیہ کے مولف مولوی [[مولوی سید احمد دہلوی]] 1844ء میں دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ نوجوانی میں انھیں سات برس تک ایک انگریز مستشرق ڈاکٹر فیلن کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جو اردو انگریزی لغت مرتب کر رہے تھے۔ یہیں سے مولوی صاحب کو جدید لغت نگاری کے اصولوں کے تحت اپنی لغت مرتب کرنے کا خیال آیا۔
 
1878 میں انھوں نے ارمغانِ دہلی کے نام سے رسالے کی شکل میں لغت طبع کرنے کا آغاز کیا۔ بعد میں [[نظام حیدرآباد|نظام دکن]] [[محبوب علی خان]] کی سرپرستی میسر آگئی تو انھوں نے اس لغت کو نظام دکن کے لقب آصف کی نسبت سے فرہنگِ آصفیہ کے نام سے چھاپنا شروع کیا۔