"عبیداللہ سندھی" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م (←‏اہم کارنامے: ربط ویکی1)
(ٹیگ: ترمیم ماخذ 2017ء)
1915ءمیں آپؒ حضرت شیخ الہندؒکےحکم سےکابل جانےکےلیے روانہ ہوئے۔ سات سال کابل میں قیام پذیررہے۔اس دوران آپؒ نےایک جماعت ’’جنودُ الله الربانیہ‘‘ کےنام سے قائم کی، جوہندوستان، افغانستان کی آزادی کےلیےجدوجہداورکوشش کرتی رہی۔1916ءمیں کابل میں ’’عبوری حکومت ہند‘‘ قائم کی اوراس کےوزیر خارجہ کے طور پرکام کرتےرہے۔1922ءمیں آپؒ نے’کانگریس کمیٹی کابل‘ بنائی اوراس کےصدرمقررہوئے۔ جس کاالحاق انڈین نیشنل کانگریس نےاپنےاجلاس منعقدہ میں منظورکیا۔ 1922ءمیں ترکی جانےکےلیےبراستہ روس روانہ ہوئے۔اس دوران ماسکو میں سات ماہ قیام فرمایا۔1923ء میں آپؒ انقرہ ترکی پہنچے۔ یہاں چارماہ قیام فرمایااور عصمت پاشا، رؤف بِک وغیرہ انقلابی رہنماؤں، نیزشیخ عبد العزیزجاویش سےملاقاتیں ہوئیں۔ استنبول میں تین سال قیام فرماکریورپ کی تاریخ کابڑی گہری نظرسےمطالعہ فرمایا۔ 1924ءکوہندوستان کےمستقبل کےسیاسی اورمعاشی اُمورکوحل کرنےکےلیے’’آزادبرصغیرکادستور ی خاکہ‘‘جاری فرمایا۔استنبول سےاٹلی اورسوئٹزرلینڈتشریف لے گئےاورکچھ عرصہ جدیداٹلی اور یورپ کی سیاسیات کامطالعہ کیا۔1926ءمیں مکۃ المکرمہ تشریف لائےاوردینی تعلیمات کی روشنی میں قومی جمہوری دور کےتقاضوںکے مطابق ایک پروگرام ترتیب دیا۔
 
انڈین نیشنل کانگریس،جمعیت علمائے ہند،مسلم لیگ اوردیگر قومی جماعتوں نےحضرت سندھیؒ کی ہندوستان واپسی کے لیےکوششیں شروع کیں۔ 1939ءکوآپؒ کراچی کی بندرگاہ پراُترے۔ حکومت ِسندھ کےوزیر اعظم الله بخش سومرونے عمائدین کےساتھ آپؒ کااستقبال کیااور کراچی میونسپل ہال میں آپ کےاعزاز میں استقبالیہ دیا۔ جہاں آپؒ نےایک اہم اورمعرکہ آراءخطاب فرمایا۔آپؒ کی واپسی پرجمعیت علمائے صوبہ بنگال کے اجتماع منعقدہ کلکتہ کاآپ کو صدرمقررکیاگیا۔ آپ ؒ نےشاہ ولی الله کےفلسفےکوسمجھانےکےلیے دہلی،لاہور،کراچی،پیرجھنڈاوردین پورمیں بیت الحکمت کےمراکز کھولی، جہاں نہایت سرگرمی سےنوجوانوں کی تربیت فرماتے رہے۔1944ء میں بیماری کے باوجودحضرت سندھیؒ کراچی سےحیدرآباد،میرپورخاصسےحیدرآباد(سندھ)،میرپورخاص اور نواب شاہ ہوتےہوئےگوٹھ پیرجھنڈامدرسہ دارالرشادمیں قیام فرماہوئے۔ آپؒ آخری دم تک پروفیسرمحمدسرور، مولاناغلام مصطفی قاسمی، مولانابشیراحمد لدھیانوی اوراپنے دیگرناموَر شاگردوں کوتاریخ، سیاست اور قرآنی علوم ومعارف سےآراستہ کرتےرہے۔
 
انتقال سےدوروز قبل دینپور تشریف لائےاور2رمضان المبارک 1363ھ21 اگست1944ءبروز منگل کووِصال فرمایا۔آپؒ کا مزارحضرت غلام محمددینپوریؒ کےقریب دینپورکےقبرستان میں مرجع خلائق ہے۔الله تعالیٰ انھیں اپنی خاص نعمتوں سےمالامال فرمائےاورہمیں ان کےنقش قدم پرچلنےکی توفیق عطافرمائے۔ (آمین)