"ترقی پسند تحریک" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
{{نا حوالہ}}
1[[935ء]] میں [[اردو]] ادب میں ایک نئی تحریک نے جنم لیا اور '''ترقی پسند تحریک''' کے نام سے مشہور ہوئی ابتداءمیں اس تحریک کا پر جوش خیر مقدم ہوا۔
 
== پس منظر ==
[[1917ء]] میں [[روس]] میں انقلاب کا واقعہ، تاریخ کا ایک بہت ہی اہم واقعہ ثابت ہوا۔ اس واقعہ نے پوری دنیا پر اثرات مرتب کیے۔ دیگر ممالک کی طرح ہندوستان پر بھی اس واقعہ کے گہرے اثرات پڑے اور ہندوستان کی آزادی کے لیے جدوجہد میں تیزی آئی۔ دوسری طرف ہندو مسلم اختلاف میں اضافہ ہوا۔ ان حالات اور سیاسی کشمش کی بدولت مایوسی کی فضا چھانے لگی، جس کی بنا پر حساس نوجوان طبقہ میں اشتراکی رجحانات فروغ پانے لگے۔ [[شاعر]] اور ادیب [[ٹالسٹائی]] کے برعکس [[ولادیمیر لینن|لینن]] اور [[کارل مارکس]] کے اثر کو قبول کرنے لگے۔ جبکہ [[روسی ادب]] کا بنیادی [[فلسفہ]] یہ تھا کہ [[مذہب]] کی حیثیت افیون کی سی ہے۔ مذہب باطل تصور ہے۔ [[انسان]] کا سب سے بڑا مسئلہ معاش ہے۔ اس طرح اس [[ادب]] کی رو سے سب سے بڑا مذہب انسانیت ہے اور ادب کا کام مذہب سے متنفر کر کے انسانیت میں اعتقاد پیدا کرنا ہے۔ اس طرح یہ نظریات ترقی پسند تحریک کے آغاز کا سبب بنے۔<br />
دوسری طرف [[1923ء]] میں [[جرمنی]] میں [[ہٹلر]] کی سرکردگی میں [[فسطائیت]] نے سر اُٹھایا، جس کی وجہ سے پورے [[یورپ]] کو ایک بحران سے گزرنا پڑا۔ ہٹلر نے جرمنی میں تہذیب و تمدن کی اعلیٰ اقدار پر حملہ کیا۔ بڑے بڑے شاعروں اور ادبیوں کو گرفتار کر لیا۔ ان شعرا و ادبا میں [[البرٹ آئنسٹائن|آئن سٹائن]] اور [[ارنسٹ ووکر]] بھی شامل تھے۔ ہٹلر کے اس اقدام پر [[جولائی]] [[1935ء]] میں [[پیرس]] میں بعض شہرہ آفاق شخصیتوں مثلاً [[روماں رولاں]]، [[تھامس مین|ٹامس مان]] اور آندر مالرو نے [[ثقافت]] کے تحفظ کے لیے تمام دنیا کے ادیبوں کی ایک کانفرنس بلالی۔ اس کانفرس کا نام تھا:
 
== مقاصد ==
ترقی پسندتحریک نے اپنے منشور کے ذریعے جن مقاصد کا بیان کیا وہ کچھ یوں ہیں:
# [[فن]] اور [[ادب]] کو رجعت پرستوں کے چنگل سے نجات دلانا اور فنون لطیفہ کو عوام کے قریب لانا۔
# ادب میں بھوک، افلاس، غربت، سماجی پستی اور سیاسی غلامی سے بحث کرنا۔
# واقعیت اور حقیقت نگاری پر زور دینا۔ بے مقصد روحانیت اور بے روح تصوف پرستی سے پرہیز کرنا۔