"ایران میں سنیت سے شیعت کی صفوی تبدیلی" کے نسخوں کے درمیان فرق

(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
 
[[نادر شاہ|نادر شاہ کے]] دور میں ، شیعہ مخالف پالیسی نافذ کی گئی۔ نادر نے ایران کو واپس چار سنی مسلک میں واپس بحال کرنے کی ایک ناکام کوشش کی اور پہلے ہی سے موجود چار سنی [[فقہی مذاہب|مذاہب]] میں سے پانچویں شیعہ مذہب (جس کو جعفری مذہب کہا جاتا ہے) کے سنی انضمام کی تشہیر کی۔ <ref>Nadir Shah and the Ja 'fari Madhhab Reconsidered, Ernest Tucker, Iranian Studies, Vol. 27, No. 1/4, Religion and Society in Islamic Iran during the Pre-Modern Era (1994), pp. 163–179, Published by: International Society for Iranian Studies </ref> تاہم زیادہ تر آبادی میں سنیت کی اس شکل کو قائم کرنے کی حکمت عملی ، کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ <ref>The Encyclopedia of world history: ancient, medieval, and modern. Peter N Stearns, William Leonard Langer, p. 363.</ref> <ref>[https://books.google.com/books?id=S80UAAAAIAAJ&pg=PA9&dq=sunni+iran&lr=&as_brr=3&cd=180#v=onepage&q=sunni%20iran&f=false Man and society in Iran]. A Reza Arasteh, p. 11.</ref> <ref>[https://books.google.com/books?id=O4FFQjh-gr8C&pg=PA166&dq=safavid+persia+conversion&lr=&as_brr=3&cd=53#v=onepage&q=safavid%20persia%20conversion&f=false Sword of Persia: Nader Shah, from tribal warrior to conquering tyrant]. [[Michael Axworthy]], p. 171.</ref> ان کی شیعہ مخالف پالیسی کی وجوہات میں شامل ہیں:
 
* اس کی زیادہ تر فوجیں سنی افغان ، [[سٹیپی |دشتی]] ترکمن ، [[قفقازی اقوام|قفقاذی]] ، خراسانیخراسانی، [[کرد]] ، [[بلوچ قوم|بلوچی]]، عیسائی [[جارجیائی|جارجی]] اور [[آرمینی]] باشندے تھے ، کیونکہ اسکے سنی حامی عقائد نے اسکے شیعہ ایرانی فوجیوں کو الگ کردیا تھا، جن میں شیعہ ترکمان اور نسلی فارسی فوجی وسطی اور مغربی ایران کے شامل تھے، جو صفوی حامی تھے۔ <ref>The Encyclopedia of world history: ancient, medieval, and modern. Peter N. Stearns, William Leonard Langer, p. 364.</ref> <ref>Immortal: A Military History of Iran and Its Armed Forces]. Steven R Ward, p. 52.</ref> <ref>Sword of Persia: Nader Shah, from tribal warrior to conquering tyrant, By Michael Axworthy, pg.165–166</ref> <ref>{{حوالہ ویب|url=http://m-hosseini.ir/zand/articles-1/30.pdf|title=The Army of Nader Shah|accessdate=17 December 2014|archiveurl=https://web.archive.org/web/20160303211449/http://m-hosseini.ir/zand/articles-1/30.pdf|archivedate=3 March 2016}}</ref> <ref>Steven R. Ward. [https://books.google.com/books?id=MOuVAgAAQBAJ&pg=PA45&lpg=PA45&dq=soldiers+nader+shah+circassians&source=bl&ots=4PftdGVXMA&sig=Kzm_eMUcJ7vDAt39llRcMKdvSJM&hl=nl&sa=X&ei=QKeRVIrUE5Kt7AaWnYHQBQ&ved=0CCUQ6AEwATgK#v=onepage&q=soldiers%20nader%20shah%20circassians&f=false ''Immortal, Updated Edition: A Military History of Iran and Its Armed Forces''] Georgetown University Press, 8 jan. 2014 p 52</ref>
* یہ ایک اصل دینی پالیسی تھی ، جس کا مقصد شیعہ طاقت کو کمزور کرنا ، ایران سے باہر سنی زمینوں میں اپنی حکمرانی کو فروغ دینا اور شیعیت کو راسخ العقیدہ سنی اسلام کا پانچواں اسکولمسلک بنانا تھا - سنی حکمرانوں اور شیعوں دونوں نے اس تجویز کو مسترد کردیا۔ <ref name="Keddie 92">Iran: religion, politics, and society: collected essays. Nikki R Keddie, p. 92.</ref>
* نادر نے اپنی فارسی عوام کے شیعہ عقائد کی سنی مسلک کے ساتھ مطابقت کی مختلف کوششیں کیں اور عثمانیوں کو اس نئے فارسی سنی مذہب کو اپنا فرقہ تسلیم کرنے کی کوشش کی تاکہ سنی عثمانیوں کے ساتھ تعلقات کو استوار کیا جاسکے ، لیکن ممکنہ طور پر اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ وہ عالم اسلام کو اس کے سربراہ کے طور پر متحد کرکے ترکوں کا تختہ پلٹ دے۔ <ref>Immortal: A Military History of Iran and Its Armed Forces. Steven R Ward, p. 51.</ref>
* 1736ء میں، اکابرین کی ایک مجلس کے منتخب ہونے کے بعد ، نادر نے اس شرط پر قبول حکمرانی کرنے پر اتفاق کیا کہ وہ ایران میں سنیت کی بحالی کی اس کی نئی مذہبی پالیسی کو قبول کریں گے۔ سنی عثمانیوں کیساتھ امن معاہدہ میں کلیدی شرط ترک شیعیت تھا کیونکہ اور غالبا اسکا یہ بھی مقصد تھا کہ صفوی خاندان کے مذہبی وقار کو ختم کرکے اپنے آپ کو سنی آبادیوں کے لئے بطور ایک زیادہ پرکشش شخصیت پیش کرنے کے لئے تھا۔ ان علاقوں کی جن پر وہ فتح کرنے کا ارادہ کر رہا تھا۔ تاہم ، ایران میں ہی ان کی مذہبی پالیسی عدم اطمینان کا باعث بنی۔ <ref>Iraq: Old Land, New Nation in Conflict, By William Spencer, p. 23.</ref>
اسماعیل کی تبدیلی کی پالیسی کے مندرجہ ذیل تاریخی نتائج تھے:
 
* اگرچہ مذہب کی تبدیلی اتنی تیز نہیں تھی جتنی اسماعیل کی جبری پالیسیاں تجویز کرتی ہیں ، لیکن جو لوگ [[ایران]] اور [[آذربائیجان]] کے علاقوں میں رہتے تھے ان کی اکثریت نے 1722ء میں صفوی دور کے اختتام تک شیعوی شناخت اپنا لی۔ اس طرح، 16ویں صدی کے اوائل میں آذربائیجان کی آبادی کو جبرا ایران کے لوگوں کی طرح جبری طور پر شیعیت قبول کرایا گیا ، جب صفویوں نے اس پر قابو پالیا تھا۔ <ref name="books.google.com.au">{{حوالہ کتاب|url=https://books.google.com/books?id=N8IKR0oqdRkC&pg=PA158&dq=safavid+persia+conversion&lr=&as_brr=3&cd=201#v=onepage&q=&f=false|title=The Caspian: Politics, Energy and Security|last=Akiner|first=Shirin|date=2004-07-05|publisher=Taylor & Francis|isbn=9780203641675|language=en}}</ref> <br /><br /><br /><br /> <nowiki></br></nowiki> لہذا یہ کوئی حادثہ نہیں ہے کہ ایران اور آذربائیجان میں، آج کی سنی اقلیتیں ملک کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ بکھری ہوئی ہیں، اپنے غیر فارسی غیر آذربائیجان نسلی گروہوں سنی ہم مذہب ریاستوں کے بالکل قریب ۔موجود ہیں۔ <ref name="Islam pg.191">A new introduction to Islam, By Daniel W. Brown, pg.191</ref> <ref name="Iran pg.91">Iran: religion, politics, and society : collected essays, By Nikki R. Keddie, pg.91</ref> <ref>Modern Iran: roots and results of revolution, By Nikki R. Keddie, Yann Richard, pg.11</ref> <ref>[https://books.google.com/books?id=CdzFJIE7f5oC&pg=PA16&dq=safavid+persia+conversion&lr=&as_brr=3#v=onepage&q=&f=false Iran and the surrounding world: interactions in culture and cultural politics, By Nikki R. Keddie, Rudolph P. Matthee, pg.16]</ref> <ref>The modern Middle East: a political history since the First World War, By Mehran Kamrava, pg.29</ref> <ref>Encyclopaedic Historiography of the Muslim World, By NK Singh, A Samiuddin, pg.459</ref> <ref>[https://books.google.com/books?id=2H4PGhFB9ScC&pg=PA133&dq=safavid+persia+conversion&lr=&as_brr=3&cd=204#v=onepage&q=&f=false Rethinking a millennium: perspectives on Indian history from the eighth to ..., By Rajat Datta, Harbans Mukhia, pg.133]</ref> <ref>{{حوالہ ویب|url=http://www.ea.org.au/ea-family/Religious-Liberty/AZERBAIJAN--A-HOT-SPOT-GETTING-HOTTER1|title=AZERBAIJAN: A HOT-SPOT GETTING HOTTER|accessdate=17 December 2014}}</ref>
* صفوی تجربے نے بڑے پیمانے پر اثناعشری شیعہ اور سنیوں کے مابین سیاسی حد بندی اور مخالفت کی واضح لکیر پیدا کردی ، اگرچہ نظریاتی اختلافات کو طویل عرصے سے تسلیم کیا گیا تھا۔ صفوی سے پہلے کئی صدیوں تک اثناعشری نے زیادہ تر خود کو سیاسی طور پر سنیوں کے ساتھ رکھا تھا ، اور متعدد مذہبی تحریکوں نے مل کر اثناعشری اور سنی نظریات کو ملاپ دیا۔ <ref>Modern Iran: roots and results of revolution, By Nikki R. Keddie, Yann Richard, pg.13</ref>
* اسماعیل کی اقتدار میں آمد نے ایران میں سنیت کے خاتمے کا اشارہ دیا اور شیعہ مذہبی علماء اشرفیہ پر حاوی ہوگئے۔ <ref name="Peter N. Stearns pg.360">The Encyclopedia of world history: ancient, medieval, and modern ... By Peter N. Stearns, William Leonard Langer, pg.360</ref> <ref>Modern Iran: roots and results of revolution, By Nikki R. Keddie, Yann Richard, pg.20</ref>
* شیعہ پادریوںعلماء کی نظام مراتب تنظیم کا آغاز اسماعیل کے تحت ہوا۔ <ref>Iran: a short history : from Islamization to the present, By Monika Gronke, pg.91</ref>
* ایران کی موجودہ سرحدیں [[افغانستان]] اور [[ترکی|ترکی کے]] مابین موجود نسلی سرحدیں نہیں بلکہ مذہبی سرحدیں ہیں جو شیعوں کو سنیوں سے جدا کرتی ہیں۔ <ref name="Islam pg.170">The failure of political Islam, By Olivier Roy, Carol Volk, pg.170</ref>
* سنی اکثریت کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا گیا اور وہ صفویوں کی مذہب تبدیلی کی پالیسیوں کے خلاف انتہائی مزاحم رہا ، جو کم از کم صفوی دور کے اختتام تک چلتی رہی۔ <ref>Conceptualizing/re-conceptualizing Africa: the construction of African ..., By Maghan Keita, pg.77</ref> <ref>Iran's diverse peoples: a reference sourcebook, By Massoume Price, pg.74</ref>