"فارسی زبان و ادب کی تاریخ" کے نسخوں کے درمیان فرق

املا
(گروہ زمرہ بندی: حذف از زمرہ:خودکار ویکائی)
(املا)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل ترمیم از موبائل ایپ آئی فون ایپ ترمیم)
 
[[فارسی زبان]] آج [[ایران]] کے تمام لوگوں کے علاوہ [[افغانستان]]، [[تاجکستان|تاجیکستان]]، [[برصغیر|برصغیر پاک وہند]] کے کچھ حصوں [[قفقاز]] اور [[بین النہرین]] میں بولی اور لکھی جاتی ہے۔
 
فارسی زبان کی تاریخ سات سو سال قبل از حضرت مسیح علیہ السلام ہے،اور اس سے قبل کے حوالے سے بھی کئی علمی آگائیوںآگاہیوں سے ملتا ہے کہ ایران کے وسیع علاقے وہ علاقہ جو [[خراسان]] (مشرق) کی جانب سے [[تبت]] کے بارڈر اور [[ترکستان]] [[چین]] کے ریگستانوں سے اور جنوب مشرق سے [[پنجاب]] ،نیمروز(جنوب)کی طرف سے [[سندھ]] ،[[خلیج فارس]] اور دریاے عمان ،شمال کی جانب سے سکھو اور صارموں کے ملک سے (آج کے روس کی جنوبی سمت)لیکر ڈینیوب اور [[یونان]] تک اور مغرب کی جانب سے [[شام]] ، [[حجاز]] اور [[یمن]] سے جا ملتے ہیں ان سب علاقوں میں وہی زبان بولی جاتی تھی جو آج [[ایران]] میں ([[فارسی]]) بولی جاتی ہے۔(بہار،1369:15)۔
 
ایرانی زبانوں کی برانچزشاخوں کا تعلق ایرانی(آریائی) اور ہندی زبانوں کے گروہ اور ہندی اور یورپی زبانوں کے خاندان سے ہے ۔ اور اس گروہ کے دیگر خاندان : جرمن، یونانی، اطالوی، ارمینی، اناطولیہ، البانی، بلتی، سلاو، تخار اور کلٹی ہیں۔
 
یاد رہے اس آریائی اصطلاح کو تمام [[ہند یورپی زبانیں|ہند یورپی خاندانوں]] پر لاگو نہیں کیا جانا چاہئے ۔ یہ غلطی بیسویں صدی کے انگریز سکالرز نے کی تھی۔ آج صرف ہندی اور ایرانی زبانوں کو آریائی کہا جاتا ہے۔ <ref>تاریخ زبان فارسی از ابوالقاسمی</ref>