"محمد ضیاء الرحمن اعظمی" کے نسخوں کے درمیان فرق

(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
 
==ابتدائی زندگی (ہندو سے مسلمان)==
1943 میں [[اعظم گڑھ]] (ہندوستان[[بھارت]]) کے ایک ہندو گھرانے میں <ref>{{cite journal |title=Journey from Hinduism to Islam to professor of Hadith in Madinah |url=https://saudigazette.com.sa/article/174057}}</ref> پیدا ہوئے۔ والدین نے نام <big>بانکے رام</big> رکھا۔ <ref>{{cite journal |last1=ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر |title=اعظم گڑھ کا ہندو کیسے مدینہ یونیورسٹی اور مسجد نبوی کا معلم بن گیا |url=https://www.baseeratonline.com/109641}}</ref> والد ایک خوشحال کاروباری شخص تھے۔ [[اعظم گڑھ]] سے [[کلکتہ]] تک کاروبار پھیلا ہوا تھا۔ آسائشوں سے بھرپور زندگی گزارتے ہوئے جوان ہوئے۔ وہ شبلی کالج اعظم گڑھ میں تعلیم کے لیے داخل ہوئے، کتابوں کے مطالعے سے فطری رغبت تھی۔ ایک دن [[ابو الاعلی مودودی|مولانا سید ابو الاعلی مودودی]] کی کتاب ”دین حق“ کا ہندی ترجمہ اس کے ہاتھ لگا، نہایت ذوق و شوق سے اس کتاب کا مطالعہ کیا۔ بار بار پڑھنے کے بعد انھیں اپنے اندر کچھ تبدیلی اور اضطراب محسوس ہوا۔ اس کے بعد [[خواجہ حسن نظامی]] کا ہندی ترجمہ قرآن حاصل کیا اور اس کو پڑھا۔<br>
نوجوانجبکہ ان کا تعلق ایک برہمن ہندو گھرانے سے تھا۔تھا، کٹرسخت ہندو ماحول میں اسان کی تربیت ہوئی تھی۔تھی، ہندو مذہب سے اسے خاص لگاؤ تھا۔ باقی مذاہب کو وہ برسر حق نہیں سمجھتا تھا۔ اسلام کا مطالعہ شروع کیا تو قرآن کی یہ آیت اسان کی نگاہ سے گزری۔<br>
بچے کا والد ایک خوشحال کاروباری شخص تھا۔ اعظم گڑھ سے کلکتہ تک اس کا کاروبار پھیلا ہوا تھا۔ بچہ آسائشوں سے بھرپور زندگی گزارتے ہوئے جوان ہوا۔ وہ شبلی کالج اعظم گڑھ میں زیر تعلیم تھا۔ کتابوں کے مطالعے سے اسے فطری رغبت تھی۔ ایک دن [[ابو الاعلی مودودی|مولانا سید ابو الاعلی مودودی]] کی کتاب ”دین حق“ کا ہندی ترجمہ اس کے ہاتھ لگا۔ نہایت ذوق و شوق سے اس کتاب کا مطالعہ کیا۔ بار بار پڑھنے کے بعد اسے اپنے اندر کچھ تبدیلی اور اضطراب محسوس ہوا۔ اس کے بعد اسے [[خواجہ حسن نظامی]] کا ہندی ترجمہ قرآن پڑھنے کا موقع ملا۔<br>
نوجوان کا تعلق ایک برہمن ہندو گھرانے سے تھا۔ کٹر ہندو ماحول میں اس کی تربیت ہوئی تھی۔ ہندو مذہب سے اسے خاص لگاؤ تھا۔ باقی مذاہب کو وہ برسر حق نہیں سمجھتا تھا۔ اسلام کا مطالعہ شروع کیا تو قرآن کی یہ آیت اس کی نگاہ سے گزری۔<br>
ترجمہ: اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے۔ اس نے ایک بار پھر ہندو مذہب کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اپنے کالج کے لیکچرار جو گیتا اور ویدوں کے ایک بڑے عالم تھے، سے رجوع کیا۔ ان کی باتوں سے مگر اس کا دل مطمئن نہیں ہو سکا۔ شبلی کالج کے ایک استاد ہفتہ وار قرآن کا درس دیا کرتے تھے۔ نوجوان کی جستجو کو دیکھتے ہوئے استاد نے اسے حلقہ درس میں شامل ہونے کی خصوصی اجازت دے دی۔<br>
سید مودودی کی کتابوں کے مسلسل مطالعے اور درس قرآن میں باقاعدگی سے شمولیت نے نوجوان کے دل کو قبول اسلام کے لئے قائل اور مائل کر دیا۔ <br>
پریشانی مگر یہ تھی کہ مسلمان ہونے کے بعد ہندو خاندان کے ساتھ کس طرح گزارہگزارا ہو سکے گا۔ اپنی بہنوں کے مستقبل کے متعلق بھی وہ فکرمند تھا۔ہوئے۔ یہی سوچیںخیالات اسلام قبول کرنے کی راہ میں حائل تھیں۔ ایک دن درس قرآن کی کلاس میں استاد نے سورت عنکبوت کی یہ آیت پڑھی۔<br>
 
ترجمہ: "جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے، ان کی مثال مکڑی کی سی ہے، جو گھر بناتی ہے اور سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے۔ کاش لوگ ( اس حقیقت سے ) باخبر ہوتے۔"<br>
اس آیت اور اس کی تشریح نے بانکے رام کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔دیا، اس نے تمام سہاروں کو چھوڑ کر صرف اللہ کا سہارا پکڑنے کا فیصلہ کیا اور فوری طور پر اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد اس کا بیشتر وقت سید مودودی کی کتابیں پڑھنے میں گزرتا۔ نماز کے وقت خاموشی سے گھر سے نکل جاتا اور کسی الگ تھلگ جگہ پر ادائیگینماز ادا کرتا۔کرتے۔
 
==تعلیم==
* شبلی کالج اعظم گڑھ