"عشرت لکھنوی" کے نسخوں کے درمیان فرق

37 بائٹ کا اضافہ ،  4 مہینے پہلے
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
 
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
 
== خاندانی پس منظر ==
خواجہ محمد عبد الرؤف عشرت کے والد کا نام خواجہ محمد عبد الشکور بن خواجہ محمد وجیہ الدین بن محمد علی خان بہادر بن عبد الشکور خان بہادر۔ خان بہادر نام کے ساتھ خان کا لفظ خطابی تھا جو بادشاہِ [[اودھ]] سے عطا ہوا تھا۔
 
اجداد میں سے عبد الشکور خان، والی بلخ کے خلف اصغر تھے، جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا تو بھائیوں میں نااتفاقی اور دشمنی پیدا ہو گئی اور ہر شخص سلطنت کا دعویدار ہو گیا۔ خاندان کی لڑائی اور بیوفائی سے دل برداشتہ ہوکر 1180ء میں بیوی کو لیکر رات میں نکل پڑے اور [[دہلی]] پہنچے۔ وہاں سے [[فیض آباد]] آئے، نواب [[شجاع الدولہ|شجاع الدولہ بہادر]] سے ملاقات کی اور نذر پیش کی، نواب نے ان کی خوب عزت کی اور ان کو قلعہ داری [[الہ آباد]] کا خلعت ملا اور "خان بہادر" کا خطاب عطا ہوا۔ عبد الشکور خان بہادر الہ آباد کے قلعہ دار تھے اور مع اہل وعیال وہیں سکونت پذیر تھے۔ 1190ء میں ان کا انتقال ہو گیا اور الہ آباد قلعہ میں شہ نشین کے وسط میں مدفون ہوئے۔<ref>کتاب؛ خمخانہ عشرت، صفحہ؛1,2</ref>
 
نواب [[آصف الدولہ]] کے حکم سے عبد الشکور خان بہادر کے بیٹے محمد علی خان والد کی جگہ قلعہ دار مقرر ہوئے، نواب آصف الدولہ کے انتقال کے بعد وزیر علی خان مسند نشین ہوئے لیکن چند عرصے بعد انھیں معزول کر کے [[کلکتہ]] بھیج دیا گیا، سلطنت اودھ کے معاہدہ میں قلعہ الہ آباد کے تخلیہ کا بھی فیصلہ کیا گیا اور گورنمنٹ نے نواب سعادت علی خان سے اس امر کا ایک حکم نامہ لکھوا کر محمد علی خان کے پاس بھجوا دیا، محمد علی خان نے جدید بادشاہ کے حکم کی تعمیل کی اور قلعہ خالی کر کے اپنے خاندان کو ہمراہ لیکر بادشاہ کے حضور حاضر ہوئے۔ یہ بہت نازک مزاج تھے، لہذا جب کوئی صورت نظر نہیں آئی تو [[لکھنؤ]] کے محلہ "احاطہ خانسامان" میں سکونت اختیار کی اور خانہ نشین ہو گئے۔<ref>کتاب؛ خمخانہ عشرت، صفحہ؛2.</ref>
 
[[اودھ]] میں آ کر انھوں نے اپنے لڑکوں کی شادی اہل کشامرہ میں کی اور نواب ظہیر الدولہ بہادر وزیر اودھ سے قرابت کا سلسلہ قائم ہوا۔
 
خواجہ عشرت کے نانا مولوی عطا حسین عرف مولوی گدائی صاحب فارسی کے بیمثل استاد تھے، اور ان کے پر نانا عبد اللہ خان صاحب [[لاہور]] کے سفیر تھے اور وہاں ان کی عمارات و مکانات تھے لیکن بعد انتقال وہاں کوئی نہیں گیا اس سبب وہ املاک تلف ہو گئیں۔ مولوی عطا حسین صاحب بادشاہ کے یہاں بیت النشاء میں منشی تھے۔<ref>کتاب؛ خمخانہ عشرت، صفحہ؛3۔</ref>
 
دادا وجیہ الدین بھی بہت اچھے خوش نویس تھے، شاہی میں اپنے گھر کی دولت صرف کرتے رہے، ان کے والد ماجد خواجہ محمد عبد الشکور آخری بادشاہ کے عہد میں آغاز جوانی سولہ برس کی عمر میں نواب گنج [[ضلع گونڈہ]] کے تھانہ دار ہو گئے تھے، مگر کچھ دنوں کے بعد غدر کا سامان ہو گیا اور ان کے مکان کا تمام مال و متاع لوٹ لیا گیا۔
 
== ولادت ==