"ہندی زبان" کے نسخوں کے درمیان فرق

1,101 بائٹ کا ازالہ ،  9 مہینے پہلے
ہندی زبان کی مقبولیت اور تاریخ کے بارے میں تازہ کاری
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
(ہندی زبان کی مقبولیت اور تاریخ کے بارے میں تازہ کاری)
(ٹیگ: بصری خانہ ترمیم ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
ہندوؤں کی شاعری سے دلچسپی کم رہی ہے۔ مقامی زبانوں میں کچھ شعرا کے نام ملتے ہیں مثلاً برج بھاکا یا بنگلہ یا پنجابی میں۔ ویدک اور دوسرے گرنتھ بھی منظوم لکھے گئے مگر اس کی باوجود ہندو شاعری میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ مگر اردو کے ہندو شعرا میں بڑے نامی گرامی شعرا گزرے ہیں۔ شاید اردو کا مزاج ایسا رہا کہ وہ لوگوں کو شاعری میں دلچسپی لینے پر مجبور کردیتی ہے۔ اس طرح مقامی زبانوں میں مسلم شعرا کی تعداد ہندوؤ سے کم نہیں ہوگی۔ ہندوؤں میں کلاسیکل ہمیشہ موسیقی مقبول رہی ہے۔ کیوں کہ اسے مذہبی تقدس رہا ہے۔ ان کے مذہب میں رقص اور گیت کو عبادت کا درجہ حاصل ہے۔ اس لیے گھر گھر میں اس چرچا رہا ہے۔ مگر اس کے باوجود ان کے گیت بھجن یا لوک گیتوں تک محدود رہے ہیں۔ غزل جو اردو کی مقبول ترین اصناف ہے وہ ہندوؤں میں نہایت پسند کی جاتی ہے۔ بھارت میں ہر دور میں ایسے گلوکار ملتے ہیں جو اردو بول نہیں سکتے ہیں۔ مگر اردو غزل اور گیت نہایت خوبصورت گاتے ہیں اور گیتوں کی طرح غزلوں کو نہایت پسند کیا جاتا رہا ہے۔ بہت سے ہندو گلوکاروں نے شہرت محض غزل کی گائیگی سے حاصل کی۔
 
== اردوہندی کی مقبولیت ==
تاریخی طور پر ، برصغیر کے شمالی ہند میں بولی جانے والی زبان کو ہندی کہا جاتا تھا۔ مغل دور کے دوران ، ہندی زبان فارسی اور عربی الفاظ کے ساتھ گھل مل گئی۔ غیر ملکی اس زبان کو اردو کہتے ہیں جس کا مطلب فوج ہے کیونکہ ہندی بولنے والے لوگ مقامی ہندوستانی تھے۔ اردو عربی رسم الخط میں لکھی جانے والی ہندی زبان کے سوا کچھ نہیں ہے۔
ہم اردو میں کوئی بھی سوال جس میں خ، ق، ز وغیرہ استعمال ہوئے ہوں آسام سے لے کر مکران تک، درہ خیبر سے راس کماری تک۔ یہاں تک پہاڑی علاقوں مثلاً نیپال، سکم اروناچل وغیرہ یعنی برصغیر کے کسی گوشے میں کریں تو لوگ اسے فوراًً سمجھ جاتے ہیں اور اس کا جواب دیتے ہیں۔ چاہے ان کا تلفظ کیسا ہی مختلف ہو۔ یعنی اس پر مقامی زبان کا اثر بھی ہوتا ہے۔ ایسی زبان کو بھارت میں ہندی کہا جاتا ہے۔ جب کہ یہ زبان پاکستان میں اردو کہلاتی ہے۔ لیکن اس سوال کو ایسی ہندی زبان جس میں سنسکرت کے ثقیل الفاظ، اصلاحاتیں اور ترکیبیں شامل ہوں پوچھیں تو پاکستان میں نہیں بلکہ بھارت کے بشتر لوگ جواب نہیں دے سکیں گے۔ کیوں کہ باوجود ہندی قومی زبان ہونے یہ زبان ان کے فہم سے بالاتر ہے۔ آپ چاہے اسے ہندی کہہ کر دیوناگری میں لکھیں مگر حقیقت میں یہ اردو ہی ہے۔ اس کے مقابلے میں بعض اوقات ہندی میں سنسکرت کے ایسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں کہ یہ زبان عالموں کی سمجھ سے بھی بالاتر ہوجاتی ہے اور یہ زبان عام بول چال کے لیے نہیں بلکہ ادبی، سیاسی اور مذہبی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
 
اس ہندی کے بارے میں گارساں دتاسی میرٹھ کے ایک ہندی اخبار ہندی اخبار (جگ سماچار) کے بارے میں لکھتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے اردو دوسری زبانوں سے زیادہ زیادہ مستعمل ہے۔ اس کا ثبوت اس اخبار سے ملتا ہے کہ اس کا سب اہم اشتہار اردو اور فارسی رسم الخط میں ہے۔ اس اخبار میں اس کی وضاحت کردی گئی ہے کہ اس زبان عام فہم ہے اگرچہ ناگری رسم الخط میں ہے۔ چنانچہ زبان کے اعتبار سے یہ اردو کا ہے نہ کہ ہندی کا۔