"ہندی زبان" کے نسخوں کے درمیان فرق

688 بائٹ کا ازالہ ،  9 مہینے پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(زبان کی تاریخ میں اصلاح کی)
(ٹیگ: بصری خانہ ترمیم ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم دستی لوٹایا)
(ٹیگ: بصری خانہ ترمیم ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
تاریخی طور پر ، برصغیر کے شمالی ہند میں بولی جانے والی زبان کو ہندی کہا جاتا تھا۔ مغل دور کے دوران ، ہندی زبان فارسی اور عربی الفاظ کے ساتھ گھل مل گئی۔ غیر ملکی اس زبان کو اردو کہتے ہیں جس کا مطلب فوج ہے کیونکہ ہندی بولنے والے لوگ مقامی ہندوستانی تھے۔ اردو عربی رسم الخط میں لکھی جانے والی ہندی زبان کے سوا کچھ نہیں ہے۔
 
اس ہندی کے بارے میں گارساں دتاسی میرٹھ کے ایک ہندی اخبار ہندی اخبار (جگ سماچار) کے بارے میں لکھتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے اردو دوسری زبانوں سے زیادہ زیادہ مستعمل ہے۔ اس کا ثبوت اس اخبار سے ملتا ہے کہ اس کا سب اہم اشتہار اردو اور فارسی رسم الخط میں ہے۔ اس اخبار میں اس کی وضاحت کردی گئی ہے کہ اس زبان عام فہم ہے اگرچہ ناگری رسم الخط میں ہے۔ چنانچہ زبان کے اعتبار سے یہ اردو کا ہے نہ کہ ہندی کا۔  
 
آج اگرچہ بھارت میں ہندو فارسی رسم الخط استعمال نہیں کرتے ہیں۔ مگر گزشتہ صدی کے وسط تک ہندو عام طور اسی میں لکھتے اور پڑھتے تھے۔ اردو کے ہندو ادیب و شاعروں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ گزشتہ صدی کی ابتدا تک اکثر ہندو ادیب اپنی کتابیں عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے اردو میں لکھتے تھے۔ آپ اس وقت کی کسی بھی ہندو ادیب کی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں اس میں مصنف یہی لکھا ہوگا۔ مگر جیسے جیسے ہندو فارسی رسم الخط سے دور ہوتے گئے اور دیوناگری رسم الخط اپنالیا اور وہ اسے ہندی کہنے لگے۔ ان ادیبوں میں بڑی مثال منشی پریم چند کی ہے۔ جنہوں نے آخر میں اردو لکھنا چھوڑ دیا اور ہندی میں لکھنے لگے۔ مگر ان کی زبان میں فرق نہیں ہے۔ اس لیے ہم اسے دیوناگری رسم الخط میں اردو ہی کہیں گے۔