"ہندی زبان" کے نسخوں کے درمیان فرق

1,161 بائٹ کا ازالہ ،  9 مہینے پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(ٹیگ: بصری خانہ ترمیم ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
(ٹیگ: بصری خانہ ترمیم ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
تاریخی طور پر ، برصغیر کے شمالی ہند میں بولی جانے والی زبان کو ہندی کہا جاتا تھا۔ مغل دور کے دوران ، ہندی زبان فارسی اور عربی الفاظ کے ساتھ گھل مل گئی۔ غیر ملکی اس زبان کو اردو کہتے ہیں جس کا مطلب فوج ہے کیونکہ ہندی بولنے والے لوگ مقامی ہندوستانی تھے۔ اردو عربی رسم الخط میں لکھی جانے والی ہندی زبان کے سوا کچھ نہیں ہے۔
 
۔  
 
آج اگرچہ بھارت میں ہندو فارسی رسم الخط استعمال نہیں کرتے ہیں۔ مگر گزشتہ صدی کے وسط تک ہندو عام طور اسی میں لکھتے اور پڑھتے تھے۔ اردو کے ہندو ادیب و شاعروں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ گزشتہ صدی کی ابتدا تک اکثر ہندو ادیب اپنی کتابیں عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے اردو میں لکھتے تھے۔ آپ اس وقت کی کسی بھی ہندو ادیب کی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں اس میں مصنف یہی لکھا ہوگا۔ مگر جیسے جیسے ہندو فارسی رسم الخط سے دور ہوتے گئے اور دیوناگری رسم الخط اپنالیا اور وہ اسے ہندی کہنے لگے۔ ان ادیبوں میں بڑی مثال منشی پریم چند کی ہے۔ جنہوں نے آخر میں اردو لکھنا چھوڑ دیا اور ہندی میں لکھنے لگے۔ مگر ان کی زبان میں فرق نہیں ہے۔ اس لیے ہم اسے دیوناگری رسم الخط میں اردو ہی کہیں گے۔  
 
پاکستان میں فلمیں دیکھی جاتی ہیں مگر اس شوق یا ذوق سے نہیں جیسا کہ بھارت میں۔ وہاں پر فلمیں فلاپ بھی ہوجاتی ہیں مگر اپنی لاگت نکال لیتی ہیں۔ اس لیے وہاں تجربات بھی ہوتے رہے ہیں اور ہر زبان میں فلمیں کثیر تعداد میں بنائی جاتی رہی ہیں۔ مگر وہاں مقبول عام فلمیں اردو میں ہی ہوتی ہیں۔ ان فلموں اور ڈارموں کے مکالمہ نگار اور شاعر دونوں اردو داں ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ فلمیں ہندی کہلاتی ہیں مگر وہاں کے بشتر فلمی شاعر اور مکالمہ نگار مسلمان ہیں اور جو مسلمان نہیں ہیں وہ بھی اردو میں اپنے گیت اور مکالمہ لکھتے ہیں جسے وہ اسے ہندی کہتے ہیں اور ان میں عربی اور فارسی الفاظ عام استعمال کیے جاتے ہیں۔