"قانون توہین رسالت (پاکستان)" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(سانچہ انضمام ہٹایا ، دونوں مختلف موضوعات ہیں۔)
 
 
{{حوالہ دیں}}
تعزیرات پاکستان میں ایک [[آئین|آئینی]] شق 295 اور 298 کو قانون توہین رسالت کہا جاتا ہے۔جن میں سےایک شق 295 (سی) کے تحت سنگین گستاخی کی سزا موت مقرر کی گئی ہے۔{{حوالہ درکار}}295a اسکسی بھی مذھب سے تعلق رکھنے والے کو جذباتی اذیت پہنچانے کی سزا کا تعین کرتے ہیں جوکہ دس سال تک ہوسکتی ہے۔ اسی طرح 295b قرآن کریم کی بے حرمتی اور 295c رسول اللہ (ص) کی گستاخی کی سزا مقرر کرتی ہے۔اس کے تحت "[[محمد|پیغمبر اسلام]] کے خلاف تضحیک آمیز جملے استعمال کرنا، خواہ الفاظ میں، خواہ بول کر، خواہ تحریری، خواہ ظاہری شباہت/پیشکش،یا ان کے بارے میں غیر ایماندارنہ براہ راست یا بالواسطہ سٹیٹمنٹ دینا جس سے ان کے بارے میں بُرا، خود غرض یا سخت تاثر پیدا ہو یا انکو نقصان دینے والا تاثر ہو یا ان کے مقدس نام کے بارے میں شکوک و شبہات و تضحیک پیدا کرنا، ان سب کی سزا [[عمر قید]] یا [[سزائے موت|موت]] اور ساتھ میں جرمانہ بھی ہوگا۔"{{حوالہ درکار}}
 
== حامیوں اور معترضین کے دلائل ==