"افضل الدین خاقانی" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
تذکرہ نویسوں کے آپ کا نام ’’ابراہیم‘‘ لکھا ہے لیکن اس نے خود اپنا نام ’’بدیل‘‘بتایا ہے ۔<ref>آشنایی یا شاعران کلاسیک ایران،از مہبود فاضلی،تہران:انتشارات بین المللی الہدی،ص۳۵</ref>جیسا کہ وہ اپنے ایک شعر میں کہتا ہے :<br>
بدل من آمدم اندر جہان سنائی را۔۔۔۔بدیں دلیل پدر نام من بدیل نہاد
=== ولادیتولدیت ===
آپ کے والد کا نام ’’نجیب الدین علی‘‘ تھا جو پیشے کے اعتبار سے ایک ترکھان تھا۔جبکہ کاقانی کا چچا ایک طبیب اور فلسفی تھے ۔انہوں نے پچیس سال کی عمر تک اپنے چچا ہی سے تربیت حاصل کی تھی۔<ref>ایضاً</ref>
=== تعلیم و تربیت ===
اپنےآپ نےاپنے چچا عمر کی مدد سے مختلف علوم و فنون میں مہارت حاصل کی۔ اور حسان العجم کا لقب پایا۔ ابوالعلا گنجوی سے بھی استفادہ کیا اور انھی کی بیٹی سے شادی ہوئی۔ سلطان سنجر کے دربار میں جانا چاہتا تھا کہ [[ترکان غز]] کا فتنہ برپا ہو گیا۔ [[1156ء]] میں [[حج]] کیا اور نعتیہ [[قصیدہ|قصائد]] اور ایوان مدائن والا معروف قصیدہ لکھا۔ 1173ء میں محبوس ہوا۔ قریباً ایک سال کے بعد رہائی ملی اور مشہور نظم جسیہ تحریر کی۔ بعد ازاں حج کے لیے گیا۔ کلیات، قصائد اور [[قطعات]] پر مشتمل ہے۔ اشعار کی تعداد بائیس ہزار ہے۔ مثنوی [[تحفۃ العراقین]] میں مسافرت حج کی سرگزشت ہے۔
== وفات ==
خاقانی [[1198ء]]بمطابق [[595ھ]] [[تبریز]] میں وفات پائی۔
== تعلیم و تربیت ==
اپنے چچا عمر کی مدد سے مختلف علوم و فنون میں مہارت حاصل کی۔ اور حسان العجم کا لقب پایا۔ ابوالعلا گنجوی سے بھی استفادہ کیا اور انھی کی بیٹی سے شادی ہوئی۔ سلطان سنجر کے دربار میں جانا چاہتا تھا کہ [[ترکان غز]] کا فتنہ برپا ہو گیا۔ [[1156ء]] میں [[حج]] کیا اور نعتیہ [[قصیدہ|قصائد]] اور ایوان مدائن والا معروف قصیدہ لکھا۔ 1173ء میں محبوس ہوا۔ قریباً ایک سال کے بعد رہائی ملی اور مشہور نظم جسیہ تحریر کی۔ بعد ازاں حج کے لیے گیا۔ کلیات، قصائد اور [[قطعات]] پر مشتمل ہے۔ اشعار کی تعداد بائیس ہزار ہے۔ مثنوی [[تحفۃ العراقین]] میں مسافرت حج کی سرگزشت ہے۔
 
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
گمنام صارف