"شاہ نور محمد بہرائچی" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
 
== وفات ==
آپ سفر [[حج]] کے لیے روانہ ہوئے مگر یہ سفر حقیقت میں خدا کی طرف روانگی کا تھا۔ ٹرین میں سفر کے دوران ہی غفلت شروع ہوئی۔ اگلے اسٹیشن پر آپکو لٹادیا گیا پانی کے چھنیٹے وغیرہ دئے گئے۔ پہلے نبض بہت آہستہ آہستہ چل رہی تھی لیکن پھر نبض کی رفتار بھی اچھی ہو گئی تھی ،مگر [[گونڈہ]] تک طبیعت اور زیادہ بگڑ گئی ،شب میں ڈاکٹر اور طبیب نے معائنہ کیا اور بتایا کہ [[فالج]] کا اثر ہے مولانا جب سے غافل ہوئے تکلم نہ فرما سکے محض رات میں 9بجے ایک بار اللہ زبا ن سے نکلا اور کلمہ شہادت کی انگلی اٹھی۔ اسٹیشن سے بڑگائیں بازار میں لایا گیا وہاں سے صبح 8بجے موٹر لاری سے بہرائچ لانے کے لیے سوار ہوئے ،آپکا پورا خاندان اسی میں موجود تھا۔ کوڑیا کے مقام سے آگے نکل آئے تھے کہ دوبار آپکو چھینک آئی نبض دیکھی گئی تو ساقط ہو چکی تھی ،اور آپکی روح [[1516]] [[مارچ]] [[1931ء]]مطابق 25 شوال 1349ھ کو اس عالم فانی سے کوچ کر گئی اور آپکی وفات کی خبر بجلی کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی تھی اور مولانا کے مکان پر امڈ پڑا تھا۔ شہر کی تمام دوکانیں بند تھی۔ دوسرے دن جب جنازہ کا جلوس نکلا اس جنازہ میں دس بارہ ہزار آدمی تھے۔ ہر شخص کی آرزو تھی کہ جنازہ کو کندھا دو۔[[شاہ نعیم اللہ بہرائچی|مولانا شاہ نعیم اللہ بہرائچی]] کے مزار کے مغربی جانب آپکو دفن کیا گیا جہاں آج آپ کی مزار ہے آپ کی وفات کے بعد ضلع اور بیرون ضلع میں ایصال ثواب کیا گیا مولانا [[ابراہیم بلیاوی]] نے آپ کے صاحب زادہ کو اپنے تعزیت نامہ میں یہ اطلاع دی تھی کہ [[دارالعلوم دیوبند]] میں بھی آپ کے لیے ایصال ثواب ہوا ۔
 
== الوداعی نظم ==
نظم کے فرز ند محمد احسان الحق مہتم [[جامعہ مسعودیہ نور العلوم بہرائچ|جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ]] نے لکھی تھی۔ مختصرحالات حضرت مولانا الحاج شاہ نور محمد رسڑاوی ثم بہرائچی از مرتب حکیم عبد القادیر خان اور [[محفوظ الرحمن نامی]]