"احمد رضا خان" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  3 مہینے پہلے
م
{{اصل|رضا علی خان|نقی علی خان}}
{{شحرہ نسب احمد رضا خان}}
احمد رضا خان کا تعلق [[پٹھان]]وں کے [[قبیلہ]] [[بڑيچ]] سے ہے۔ احمد رضا خان کے جد اعلیٰ '''سعید اللہ خان''' [[قندھار]] کے پٹھان تھے۔ [[سلطنت مغلیہ]] کے عہد میں [[محمد شاہ]] کے ہمراہ [[ہندوستان]] آئے اور بڑے عہدوں پر فائز رہے۔ [[لاہور]] کا [[شیش محل]] انھی کے زیر اقتدار تھا۔ احمد رضا خان کو مغل بادشاہ نے '''شش ہزاری''' کے منصف سے سرفراز کیا اور '''شجاعت جنگ''' کا [[خطاب]] دیا۔ سعید اللہ کے فرزند '''سعادت یار خان''' تھے، احمد رضا خان کو مغلیہ حکومت نے [[روہیل کھنڈ]] کی جنگی مہم پر بھیجا، جس میں کامیابی پر احمد رضا خان کو [[بریلی]] کا [[صوبہ دار]] منتخب کیا گیا اور [[بدایوں]] و روہیل کھنڈ کے متعدد مواضع جاگیر میں ديئے گئے۔ سعادت یار کے بیٹے محمد اعظم خان تھے، احمد رضا خان کا مزاج مذہبی تھا، علوم و فنون سے گہری دلچسپی تھی۔ سلطنت مغلیہ میں بریلی میں وزارت ملی ہوئی تھی، لیکن مذہب سے شدید وابستگی نے اس عہدہ سے سکبدوش کرا دیا۔ ان کے بیٹے کاظم علی خان تھے جو بدایوں کے [[تحصیل دار]] تھے، احمد رضا خان کو اٹھ گاؤں جاگیر میں ملے ہوئے تھے۔ احمد رضا خان سے متعدد [[کرامت|کرامات]] مشہور ہیں۔ کاظم علی کے بیٹے [[رضا علی خان]] تھے جھنوں نے ہندوستان میں پہلا باقاعدہ دارالافتا قائم کیا اور [[جنگ آزادی ہند 1857ء]] میں حصہ لیا، جنرل ہڈسن نے احمد رضا خان کے سر کی قیمت پانچ سو روپے مقرر کی تھی۔ احمد رضا خان [[تصوف]] کی طرف مائل تہے۔تھے۔ احمد رضا خان کی وفات [[1865ء]] میں ہوئی۔ احمد رضا خان نے والد[[نقی علی خان]] تھے جو صاحب تصانیف بزرگ ہیں۔ احمد رضا خان نے زندگی بھر دینی تعلیم کی تدریس کی۔
 
== ابتدائی زندگی ==
18,967

ترامیم