"فقیر اللہ مدراسی" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
 
 
== ابتدائی زندگی ==
سنہ 1280ھ مطابق 1863ء کو [[کٹھہ مصرال]]، [[ضلع خوشاب]] میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام فقیر محمد رکھا گیا مگر انہوں نے فقیر اللہ کے نام سے شہرت پائی۔ والدہوالد کا نام فتح دین اور دادا کا نام عبد اللہ تھا۔ راجپوت برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ گھر کا ماحول علمی و دینی تھا۔
 
== نجی زندگی ==
 
== کسب علم ==
ابتدائی تعلیم اپنے بڑے بھائی مولانا محمد سے حاصل کی جو [[سید نذیر حسین دہلوی]] کے تلمیذ تھے۔ اس کے بعد شیخ حسین عرب یمنی (م 1327ھ) سے مستفید ہوئے۔ [[عبدالمنان وزیر آبادی|عبد المنان وزیر آبادی]] سے بھی تعلیم حاصل کی۔ [[وزیر آباد]] سے [[امرتسر]] کا قصد کیا۔ امرتسر کے مدرسہ غزنویہ کا اس وقت شہرہ تھا اور مسند تدریس حدیث پر سید عبد الجبار غزنوی براجمان تھے۔ فقیر اللہ نے ان سے استفادہ کیا۔ امرتسر سے فراغت کے بعد دہلی گئے اور سید نذیر حسین سے کتب پڑھیں اور سند و اجازہ سے حاصل کی۔ قیام دہلی کے زمانے میں محمد بشیر سہسوانی ست بھی اکتساب علم کیا اور محمد اسحاق منطقی رام پور سے منطق و فلسفہ کی انتہائی کتابیں پڑھیں۔ علوم متد اولہ کی تحصیل سے فراغت پائی تو فقیر اللہ مدراسی کی خدمات مطبع مجتبائی (دہلی) کے مالکان نے کتب حدیث کی تصحیح کے لیے حاصل کرلیں۔ یہ اس زمانے میں نہایت اہم کام تھا جو فقیر اللہ مدراسی کے سپرد کیا گیا۔ مدراسی کا شمار ماہرین حدیث میں ہوتا تھا۔
== تلامذہ ==
مدراسی سے ان گنت شخصیات نے حصول علم کیا۔ ان کے شاگردوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں۔ تاہم ان کے تلامذہ میں سے اپنے علاقے میں جن علما نے زیادہ شہرت پائی ان میں شامل ہیں: