"شاعر علی شاعر" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  11 مہینے پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(ٹیگ: ترمیم ماخذ 2017ء)
(ٹیگ: ترمیم ماخذ 2017ء)
شاعر علی شاعر نے [[20 جون]] [[1966ء]] کو ملتان میں فیاض دہلوی کے گھر جنم لیا۔ فیاض دہلوی نے 1947ء کو ہندوستان سے ہجرت کرنے کے بعد ملتان(پاکستان) کو اپنا مسکن بنایا۔ پیرزادہ حافظ انور دہلوی، شاعر علی شاعرؔ کے دادا حضور تھے جو بیس ویں صدی عیسوی کے آغاز میں سجادہ نشین، علمی، روحانی اور ادبی شخصیت کے طور پر دہلی میں جانے، پہچانے اور مانے جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر علی شاعرؔ کا پیدائشی نام شاعر علی رکھا گیا۔شاعرؔ نے دورانِ تعلیم شعر گوئی کا آغاز کیا تو انھوں نے اپنے اُردو کے اُستاد جناب مہرؔ سعید ملتانی کی مشاورت سے میر تقی میرؔ، انشا اللہ خان انشاؔ اور مومن خان مومنؔ کی طرح اپنا قلمی نام شاعر علی شاعرؔ اپنا لیا۔
 
آج کل شاعر علی شاعرؔ ایک پبلشرز کی حیثیت سے رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی کا ادارہ چلا رہے ہیں۔ بہت خوب صورت اور معروف کتابیں چھاپ کر اپنے ادارے کا نام دنیا بھر میں روشن کر چکے ہیں۔ شاعر علی شاعرؔ ایک صحافی بھی ہیں جن کی ادارت میں سہ ماہی ادبی رسالہ ’’رنگِ ادب‘‘ تسلسل سے شایع ہوتا ہے۔ رنگِ ادب کے اب تک 42 شمارے شایعشائع ہو چکے ہیں جن میں متعدد خصوصی شمارے بھی شامل ہیں۔ شاعر علی شاعرؔ نے فروغِ علم و ادب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ وہ اپنی ذات میں انجمن ہیں۔ فردِ واحد نے ایسے ایسے کارہائے نمایاں سر انجام دیے ہیں جو بڑے بڑے اداروں کے کرنے کے ہوتے ہیں۔
 
اپنے بہترین ساتھی و رفیق حافظ غلام فرید کی مسلسل تحریک پر 1982ء میں ابتدائی شاعری کا آغاز کیا۔ مہر سعید ملتانی کی رفاقت و حوصلہ افزائی سے شاعری کا ذوق و شوق پروان چڑھا۔ اسی اثناء میں شاعری کے رموز اور اُردو کے عروض کے لیے جناب شفیع بسمل (کراچی) کے سامنے زانوئے ادب تہ کیے۔ بعد ازاں منصور ملتانی (اب عارف منصور) کراچی سے بھی مشورہ سخن جاری رہا۔ وہ غزل، نظم، حمد، نعت، منقبت، سلام کے ساتھ ساتھ بچوں کا ادب بھی تخلیق کرتے رہے۔’’بہارو! اب تو آجائو‘‘ شاعر علی شاعر کا بہاریہ مجموعہ کلام ہے جو یکم جنوری 2004ء میں شائع ہوا۔ موصوف بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ گلستانِ حمد و نعت میں ان کی آمد خوش بختی اور سعید فطرت ہونے کی علامت ہے۔ وہ جہانِ حمد و نعت میں ایسے آئے کہ پھر وہ نعتیہ ادب کے ہی ہو کر رہ گئے۔