"محمد بن عبد الوہاب" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(درستی)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
1158ھ میں [[نجد]] کے ایک شہر [[درعیہ]] کے امیر [[محمد بن سعود]] (متوفی:1765ء) نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرنے کا عہد کیا اور کتاب و سنت کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنے پر آمادگی ظاہر کی۔ امیر محمد بن سعود کی مدد سے ان کی تحریک سارے [[نجد]] میں پھیل گئی اور امیر کی حکومت بھی شہر درعیہ سے بڑھ کر سارے نجد میں قائم ہو گئی۔
 
محمد بن عبد الوہاب نے پچاس سال تبلیغ کا کام انجام دینے کے بعد وفات پائی۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں '''کتاب التوحید''' مشہور ہے۔ محمد بن عبد الوہاب کی تحریک فتنہ نے اسلامی دنیا پر گہرا اثر ڈالا۔
تاجدار گولڑہ حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : وہابیت کی داغ بیل محمد بن عبدالوہاب نجدی نے ڈالی 1143ھ میں اس نے علمائے مدینہ سے مناظرہ کیا جس میں اسے شکست فاش ہوئی جب مدینہ سے ناکام ہوا تو نجد کے بدوؤں میں اس نے اپنے مسلک کی تبلیغ شروع کردی ابن مسعود نامی ایک حاکم اس کے خیالات سے متفق ہو گیا ان دونوں نے مل کر بیس ہزار کا ایک لشکر تیار کیا اپنا پایہ تخت درعیہ نامی جگہ کو قرار دیا 1218ھ میں اس لشکر نے مکہ مدینہ پر چڑھائی کردی مسلمانوں کو بے دریغ شہید کر دیا مسجد نبوی کے خزانوں کو لوٹ لیا محمد علی پاشا خدیو مصر کے حکم سے طوسون مصری نے ان سے جنگ کی 1227ھ میں ان سے فتح پائی اور مدینہ کو وہابیوں سے پاک کر دیا۔ ادھر محمد علی پاشا کے دوسرے بیٹے ابراہیم نے 1224ھ میں درعیہ وہابیوں کے پایہء تخت کو فتح کر لیا مگر خفیہ طور پر وہابیت کی تبلیغ جاری رہی اور اس عقیدے کی حکومتیں قائم ہوتی رہیں۔ (از سیف چشتیائی تاجدار گولڑہ حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ صفحہ نمبر 98)
 
ھجری میں آل سعود و آل نجد نے یہودیوں کے ساتھ مل کر حرمین مقدسہ پر قبضہ کیا آل سعود و آل نجدی کے قبضہ سے پہلے حرمین مقدسہ میں وھابیت اور وھابی عقائد کا کوئی وجود نہیں تھا اگر کسی وھابی میں ہمت ہے تو آل سعود و آل نجدی کے حرمین پر قبضہ سے پہلے حرمین مقدسہ میں وھابی عقائد کا وجود ثابت کر دیکھائے اوٹ پٹانگ باتیں نہ کی جائیں بحوالہ جواب دیا جائے جو بھی جواب دینا چاہے ؟
 
محمد ابن عبدالوہاب نجدی کے عقائد : درج ذیل سطور میں وہابیوں کے چند عقائد ذکر کیے جاتے ہیں یہ ان کی اصل کتاب میں مذکور ہیں حوالہ ساتھ درج ہیں۔
 
محمد کی قبر، ان کے دوسرے متبرک مقامات، تبرکات یا کسی نبی ولی کی قبر یا ستون وغیرہ کی طرف سفر کرنا بڑا شرک ہے۔ (کتاب التوحید محمد ابن عبدالوہاب ص 124)
 
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا مزار گرا دینے کے لائق ہے اگر میں اس کے گرا دینے پر قادر ہو گیا تو گرا دوں گا۔ (اوضح البراہین)
 
میری لاٹھی محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم)سے بہتر ہے کیونکہ اس سے سانپ مارنے کا کام لیا جا سکتا ہے اور محمد مر گئے ان سے کوئی نفع باقی نہ رہا۔ (اوضح البراہین ص 103)
 
یہ چند عقائد تھے اگرچہ ان کی خبا ثتیں بہت زیادہ ہیں جن سے آپ نے اندازہ لگایا ہو گا کہ وہابیوں کے نزدیک تمام دنیا کے مسلمان مشرک قرار پاتے ہیں۔ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے۔
 
عَنْ عُقَبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم إِنِّي فَرَطٌ لَکُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْکُمْ وَإِنِّي وَاﷲِ لَأَنْظُرُ إِلَي حَوْضِي الآنَ، وَإِنِّي أُعْطِيْتُ مَفَاتِيحَ خَزَآئِنِ الْأَرْضِ، أَوْمَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاﷲِ مَا أَخَافُ عَلَيْکُمْ أَنْ تَُشْرِکُوْا بَعْدِي وَلَکِنْ أَخَافُ عَلَيْکُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوْا فِيهَا.مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
 
ترجمہ : حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک میں تمہارا پیش رو اور تم پر گواہ ہوں۔ بیشک خدا کی قسم! میں اپنے حوض (کوثر) کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور بیشک مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں (یا فرمایا : زمین کی کنجیاں) عطا کر دی گئی ہیں اور خدا کی قسم! مجھے یہ ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ تم دنیا کی محبت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔
 
(أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المناقب، باب : علامات النَّبُوَّةِ فِي الإِسلام، 3 / 1317، الرقم : 3401، وفي کتاب : الرقاق، باب : مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيها، 5 / 2361، الرقم : 6061، ومسلم في الصحيح، کتاب : الفضائل، باب : إثبات حوض نبينا صلي الله عليه وآله وسلم وصفاته، 4 / 1795، الرقم : 2296 وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 153)
 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صاف الفاظ میں نجد سے بیزاری کا اظہار فرمایا
 
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَفِي نَجْدِنَا؟ قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَفِي نَجْدِنَا؟ فَأَظُنُّهُ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: «هُنَاكَ الزَّلاَزِلُ وَالفِتَنُ، وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ(رواہ احمد ،بخاری،ترمذی)
 
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہےکہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یا اللہ ہمارے شام میں برکت عطا فرمایا اللہ ہمارے لیے ہمارے یمن میں برکت عطا فرما لوگوں نے کہا اور ہمارے نجد میں آپ نے فرمایا: ’’یا اللہ ہمارے شام میں برکت عطا فرمایا اللہ ہمارے یمن میں برکت عطا فرما لوگوں نے کہا یا رسول اللہ اور ہمارے نجد میں میرا خیال ہے کہ شاید آپ نے تیسری بار فرمایا کہ یہاں زلزلے ہوں گے اور فتنے ہوں اور وہیں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا ۔
 
محمد بن عبد الوہاب نے پچاس سال تبلیغ کا کام انجام دینے کے بعد وفات پائی۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں '''کتاب التوحید''' مشہور ہے۔ محمد بن عبد الوہاب کی تحریک فتنہ نے اسلامی دنیا پر گہرا اثر ڈالا۔
 
== حوالہ جات ==