"سواستک" کے نسخوں کے درمیان فرق

26 بائٹ کا اضافہ ،  2 مہینے پہلے
2 مآخذ کو بحال کرکے 0 پر مردہ ربط کا ٹیگ لگایا گیا) #IABot (v2.0.7
م (خودکار: خودکار درستی املا ← نظریے)
(2 مآخذ کو بحال کرکے 0 پر مردہ ربط کا ٹیگ لگایا گیا) #IABot (v2.0.7)
 
[[فائل:HinduSwastika.svg|تصغیر|لفظ ''سواستیکا'' [[سنسکرت]] زبان کا لفظ ہے، ایک قدیم [[علامت]] ہے جسے [[ہندو مت]]، [[بدھ مت]] اور [[جین مت]] میں برکت کی علامت مانا جاتا ہے۔]]
'''سواستیکا'''، '''نازی علامت'''، '''cross cramponnée''' یا '''وینزی''') (ایک حرف کے طور: 卐 یا 卍) ایک علامت ہے<ref name="MigSym">{{cite web|url=http://sacred-texts.com/sym/mosy/index.htm|title=The Migration of Symbols Index|publisher=| archiveurl = httphttps://web.archive.org/web/20181225170437/http://sacred-texts.com/sym/mosy/index.htm | archivedate = 2018-12-25 دسمبر |access-date=2018-04-03|url-status=live}}</ref><ref name="CambDict">[https://books.google.com/books?id=PDHCFSRmjSMC Cambridge Advanced Learner's Dictionary]، Cambridge University Press, 2008, [https://books.google.com/books?id=PDHCFSRmjSMC&lpg=PA1472&dq=swastika%2090%20degree%20cross&pg=PA1473#v=onepage&q=swastika%2090%20degree%20cross&f=false p.1472]</ref> ایڈولف ہٹلر کے [[نازی پرچم]] وضع کرنے سے کم از کم پانچ ہزار برس قبل یہ نشان استعمال ہوتا تھا۔ یہ علامت (مڑا ہوئی صلیب) سب سے پہلے نیولیتھک یوریشیا میں استعمال ہوئی۔ شاید اِس سے آسمان پر سورج کی نقل و حرکت کی نمایندگی کی گئی۔ آج تک اسے [[ہندو مت]]، [[بدھ مت]]، [[جین مت]] اوراوڈینزم عقیدے میں مقدس سمجھا جاتا ہے۔<ref name="p.97">[https://books.google.com/books?id=-3804Ud9-4IC The Handbook of Tibetan Buddhist Symbols]، Robert Beer, Serindia Publications, Inc.، 2003, [https://books.google.com/books?id=-3804Ud9-4IC&lpg=PA97&dq=swastika%20indus%20valley&pg=PA97#v=onepage&q=swastika%20indus%20valley&f=false p.97] [https://books.google.com/books?id=g6FsB3psOTIC The Illustrated Encyclopedia of Hinduism: N-Z]، by James G. Lochtefeld, The Rosen Publishing Group, 2002, [https://books.google.com/books?id=g6FsB3psOTIC&lpg=PA678&dq=history%20of%20the%20svastika&pg=PA678#v=onepage&q=svastika&f=false p. 678]</ref> بھارت یا پھرانڈونیشیا میں مندروں اور مکانوں پر دیکھا جانے والا یہ عام نشان ہے۔ یورپ میں بھی سواستیکا کی تاریخ قدیم ہے اور اسے قبل از مسیح یورپی ثقافتوں سے ملنے والی اشیاء پر دیکھا جا سکتا ہے۔
 
[[انیسویں صدی]] کے آخر میں اِس نشان یا علامت کا دوبارہ ظہور ہوا جس سے پہلے ماہرِ آثارِ قدیمہ ہائینرش شلائیمان کی طرح آثارِ قدیمہ پر جامع انداز میں کام ہوا۔ شلائیمان کو قدیمی ٹروئے کے مقام پرمڑے ہوائے کراس کا نقش ملا۔ اُنہوں نے اسے جرمنی میں ملنے والے ظروف پر پائے جانے والے مشابہ نقوش سے مربوط کیا اور یہ قیاس آرائی کی کہ یہ ہمارے دور دراز کے آباؤاجداد کی ایک ممتاز مذہبی علامت ہے۔
 
[[بیسویں صدی]] کے آغاز میں یورپ میں سواسٹیکا کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا تھا۔ اس کے متعدد معانی تھے۔<ref name="Rosenberg">{{cite web|last=Rosenberg|first=Jennifer|title=History of Swastika |url=http://history1900s.about.com/cs/swastika/a/swastikahistory.htm|work=about.com|accessdate=26 اپریل 2013| archiveurl = httphttps://web.archive.org/web/20181225170436/https://www.thoughtco.com/the-history-of-the-swastika-1778288 | archivedate = 25 دسمبر 2018-12-25|url-status=live}}</ref> سب سے زہادہ معروف مفہوم خوش قسمتی اور فراخی کے حوالے سے تھا۔ تاہم شلائیمان کے کام کو جلد ہی واکش تحریکوں نے آگے بڑھایا جن کے لیے سواسٹیکا آریائی شناخت اور جرمنی کی [[قوم پرستی]] پر فخر کی علامت تھا۔
 
جرمن افراد کی آریائی ثقافت والی نسل کا قیاس ہی غالباً اُن بنیادی وجوہات میں سے ایک تھا کہ نازی پارٹی نے باضابطہ طور پر سواستیکا یا مڑے ہوئے کراس کو 1920 میں اپنی علامت کے طور پر منتخب کر لیا۔