"معاویہ بن ابو سفیان" کے نسخوں کے درمیان فرق

(ابن خلدون، تاریخ الخلفا، تاریخ طبری کے حوالوں کو بغیر وجہ بتائے حذف کیا گیا۔ اردو ویکیپیڈیا میں مسلکی تعصب سے گریز کیا جائے۔)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل ترمیم از موبائل ایپ اینڈرائیڈ ایپ ترمیم)
معاویہ [[ابوسفیان]] بن حرب کے بیٹے تھے۔ ان کی والدہ کا نام [[ہند بنت عتبہ|ہندہ]] تھا۔ جنہوں نے [[غزوہ احد]] میں نبی کریم {{درود}} کے چچا [[حمزہ بن عبدالمطلب|حمزہ]] کا کلیجا چبایا تھا۔ ظہور اسلام سے قبل [[ابوسفیان]] کا شمار رؤسائے عرب میں ہوتا تھا۔ جبکہ ابوسفیان اسلام کے بڑے دشمنوں میں شمار ہوتے تھے۔ [[فتح مکہ]] کے بعد جب نبی کریم {{درود}} نے عام معافی کا اعلان کیا تو ابوسفیان{{رض}}، ہندہ اور ان کے تمام خاندان نے اسلام قبول کر لیا۔ امیر معاویہ {{رض}} بھی ان میں شامل تھے۔ [[ہجرت مدینہ]] سے تقریباً 15 برس پیشتر مکہ میں آپ کی پیدائش ہوئی۔ اظہارنبوت کے وقت آپ کی عمر کوئی چار برس کے قریب تھی۔ جب اسلام لائے تو زندگی کے پچیسویں برس میں تھے۔ فتح مکہ کے بعد نبی اکرم {{درود}} نے ان لوگوں کے تالیف قلب کے لیے ابوسفیان کے گھر کو بیت الامن قرار دیا۔ یعنی جو شخص ان کے گھر چلا جائے وہ مامون ہے۔ اور ان کے بیٹے معاویہ کو کاتب مقرر کیا، بعض علما کے نزدیک انہیں صرف کاتب مقرر کیا تھا۔ اس کے علاوہ بیرون ملک سے آئے ہوئے لوگوں اور ملاقاتیوں کی مہمان نوازی اور دیکھ بھال کا کام بھی آپ کے سپرد تھا۔ یہ دور نبی کریم {{درود}} کی زندگی کا آخری حصہ تھا۔ اس لیے امیر معاویہ {{رض}} زیادہ عرصہ آستانہ نبوت سے منسلک نہ رہ سکے۔
 
[[ابوبکرصدیق]] نے آپ کے بھائی [[یزید بن ابوسفیان]] کو شام کے محاذ پر بھیجا تو معاویہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ [[عہد فاروقی]] میں یزید کی وفات کے بعد آپ کو ان کی جگہ [[دمشق]] کا حاکم مقرر کیا گیا۔ [[رومیوں]] کے خلاف جنگوں میں سے قیساریہ کی جنگ آپ کی قیادت میں لڑی گئی جس میں 80 ہزار رومی قتل ہوئے تھے۔ [[عثمان غنی]] نے آپ کو [[دمشق]]، [[اردن]] اور [[فلسطین]] تینوں صوبوں کا والی مقرر کیا اور اس پورے علاقہ کو شام کا نام دیا گیا۔ والی شام کی حیثیت سے آپ کا بڑا کارنامہ اسلامی بحری بیڑے کی تشکیل اور [[قبرص]] کی فتح ہے۔ عثمان غنی{{رض}} آپ پر بہت اعتماد کرتے تھے اور آپ کا شمار عرب کے چار نامور مدبرین میں ہوتا تھا۔
 
امیر معاویہ نے خوارج سے مقابلہ کیا، مصر، کوفہ، مکہ، مدینہ میں باصلاحیت افراد کو عامل و گورنر مقرر کیا، مصر میں عمرو بن العاص- کو حاکم بنایا، پھر ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے عبد اللہ بن عمرو بن العاص کو بنایا، ان کے دور حکومت میں جوبیس سال کو محیط ہے۔ سجستان، رقہ، سوڈان، افریقہ، طرابلس، الجزائر اور سندھ کے بعض حصے فتح ہوئے۔ ان کا دور حکومت ایک کامیاب دور تھا، ان کے زمانہ میں کوئی علاقہ سلطنت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوا، بلکہ اسلامی سلطنت کا رقبہ وسیع تر ہوتا چلا گیا۔