"خواجہ محمد اکرام الدین" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
== تعلیمی سرگرمیاں ==
ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام الدین سینٹر آف انڈین لینگویجز، اسکول آف لینگویج، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں اردو کے پروفیسر ہیں۔ اردو زبان و ادب کے خدما ت کے حوالے سے وہ بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں۔ 23 کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی چند کتابوں کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ان کی اکثر کتابیں ہندستان اور بیرون ممالک یونیورسٹیز میں شامل نصاب ہیں۔ پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کوان کی علمی و ادبی کارکردگی کے عوض کئی ملکی اور بین الاقوامی اعزازات و انعامات مل چکے ہیں۔جن میں جاپان، ڈنمارک، جرمنی اور ترکی کے علاوہ ہندستان کے مختلف علمی وادبی اداروں کے نام شامل ہیں۔
 
پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین تین سال تک قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، وزرات برائے فروغ انسانی وسائل، حکومت ہند میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہے۔ اپنے ڈائریکٹر شپ کے دوران میں انھوں نے قومی کونسل کی کارکردگیوں میں نئی اسکیموں کے نفاذ سے قابل قدر اضافہ کیا۔ انہی کی مدت کار میں کونسل سے بچوں کا ماہنامہ ’’ بچوں کی دنیا‘‘ کا اجرا ہوا اور ’’ عالمی اردو کانفرنس ‘‘ کی بنیاد پڑی۔ انھوں نے اردو کو نئی ٹکنالوجی سے جوڑکر اردو کے فروغ کے امکانات کو وسیع کیا۔کئی اردو سوفٹ وئیر کو لانچ کیا ساتھ ہی ٹکنالوجی کو اردو سے ہم آہنگ کرنے کیسمت کئی اہم اقدامات کیے۔
 
اردو کے نئے امکانات کی تلاش میں و ہ مستقل سر گرم رہے ہیں اسی لیے کونسل کی مدت کار کے اختتام کے بعد بھی وہ اس سمت میں کام کرتے رہے۔دنیا بھر میں موجود اردو سیکھنے والوں کے لیے انھوں نے چندبرس قبل آن لائن ارود لرنگ) (www.onlineurdulearning.com کا پروگرام شروع کیاجسے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل ہوئی۔
 
پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین ورلڈ اردو ایسو سی ایشن کے چئیر مین ہیں جو ایک غیر سرکاری خود مختار ادارہ ہے۔اس ادارے کا مقصد دنیا کےمختلف گوشوں میں موجود اردو کے اساتذہ /ادیبوں / شاعروں/ فکشن نگاروں/صحافیوں/ طلبہ وطالبات اور قلم کاروں سے رابطہ و اشتراک اور باہمی تعاون، نئی نسل کے ادیبوں اور قلمکارو ں کی حوصلہ افزائی، اردو تدریس کے فروغ کے لیے ممکنہ وسائل کی فراہمی کی کوشش، اردو کے مہجری ادیبوں کی کتابوں کی اشاعت، اردو کی نئی کتابوں پرتبصرے اور اس کی رسائی کے امکانات کی تلاش اور مہجری ادیبوں پر مبنی انسائیکلو پیڈیا کی تیاری ہے۔
 
عالمی سطح پر جب کورونا کے وبائیوابئی مرض نے لوگوں کو گھروں میں مقید کردیا تو تقریباً زندگیاں مفلوج ہونے لگیں۔ لوگوںلگیں۔لوگوں کو ان حالات میں ذہنی پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ایسے حالات میں خواجہ اکرام نے ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے آن لائن سیمنار اور مذاکرے کے ساتھ ساتھ سب سے اہم پیش رفت یہ کی کہ انھو ں نے "مہجری اور غیر ملکی ادیبوں کا تعارفی سلسلہ " شروع کیا جس کے تحت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اردو کے ادیبو ں سے لوگوں کو متعارف کرانا شروع کیا۔اردو کے آن لائن پروگراموں میں یہ اولیت کا درجہ رکھتا ہے، یہ ایک نئی پہل تھی جو کافی مقبول بھی ہوا اور لوگوں کو ذہنی غذا فراہم کی۔
 
گذشتہ دو دہائیوں سے www.khwajaekram.com ویب سائٹ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسہیں۔اس کے ذریعے دنیا بھر میں موجود اردو کے ادیبوں سے جڑے ہوئے۔ انھوں نے دنیا کے ان ممالک کا سفر بھی کیا ہے جہاں جہاں اردو کی بستیاں موجود ہیں۔پروفیسر خواجہ اکرام نے مہجری ادب پر خود بھی بہت کام کیا ہے اور اپنے کئی ریسرچ اسکالرس سے تحقیقی مقالے بھی لکھوائے ہیں۔
 
==اعزازات==