"بلقیس دادی" کے نسخوں کے درمیان فرق

630 بائٹ کا اضافہ ،  1 مہینہ پہلے
حوالہ
(مواد)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
(حوالہ)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
|known_for = دھرنا [[ شاہین باغ احتجاج]]
}}
بلقیس دادی 82 سالہ بزرگ بھارتی خاتون ہیں جو متنازعہ ترمیم شہریت قانون کے خلاف احتجاج کی عالمی علامت بن گئیں۔ ترمیم شہریت کا یہ متنازعہ قانون 11 دسمبر 2019ء کو بھارتی پارلیمان نے منظور کیا تھا جس کے تحت مذہب کو بھی اہلیت شہریت کی کسوٹی قرار دیا گیا تھا۔ <ref>{{Cite web|url=https://www.indiatoday.in/india/story/shaheen-bagh-bilkis-in-time-list-of-100-most-influential-of-2020-1724502-2020-09-23|title=Shaheen Bagh 'dadi' Bilkis named in Time Magazine's list of 100 Most Influential People|website=India Today}}</ref>وہ شاہین باغ دہلی میں ہونے والے احتجاج کی سرخیل تھیں اور انتہائی شدید سرد موسم میں اس متنازعہ قانون کے خلاف تین مہینوں تک جاری رہنے والے احتجاجی دھرنے میں سینکڑوں دیگر خواتین کے ساتھ موجود رہیں۔ <ref>{{cite news|url=https://www.theguardian.com/world/2020/jan/21/modi-is-afraid-women-take-lead-in-indias-citizenship-protests|title='Modi is afraid': women take lead in India's citizenship protests|website= theguardian.com}}</ref><ref>{{Cite news|url=https://www.washingtonpost.com/world/asia_pacific/indias-first-time-protesters-mothers-and-grandmothers-stage-weeks-long-sit-in-against-citizenship-law/2020/01/12/431ae9c6-30d5-11ea-971b-43bec3ff9860_story.html|title=India's first-time protesters: Mothers and grandmothers stage weeks-long sit-in against citizenship law|first=Niha|last=Masih|website=Washington Post}}</ref>
 
ایک ویب گاہ لائیو منٹ پر شائع ہونے والے انٹرویو میں انہوں نے کہا “ میں اور میرا مرحوم خاوند کسی تنازعے کے بغیر ایک متحد بھارت کے نظریے میں پروان چڑھے تھے اور یہی وہ نظریہ ہے جس کے لیے میں یہ جدوجہد کر رہی ہوں”۔
 
23 ستمبر 2020ء کو مشہور عالمی جریدے ٹائم میگزین نے (Time 100 ) کے عنوان سےایک فہرست جاری کی جس میں سال 2020ء کی بااثر ترین شخصیات کے نام تھے اور اس فہرست میں بلقیس دادی کا نام بھی شام ہے۔
 
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}