"ہیمپی" کے نسخوں کے درمیان فرق

10 بائٹ کا ازالہ ،  1 مہینہ پہلے
املا
(روابط)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل ترمیم از موبائل ایپ آئی فون ایپ ترمیم)
(املا)
|Website = {{URL|http://asi.nic.in/asi_monu_whs_hampi.asp|Archaeological Survey of India - Hampi}}
}}
ہیمپی (ہندی:हम्पी، انگریزی: Hampi) ہندوستانی ریاست [[کرناٹک]] میں واقع [[قرون اولیٰ|قرون اولی]] اور [[قرون وسطی|وسطی]] کے تاریخی آثار کا ایک مجموعہ جسے [[یونیسکو]] نے [[یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ|عالمی ثقافتی ورثہ]] (UNESCO World Heritage Site) کا درجہ دے رکھا ہے۔<ref name="unesco">{{cite web|url=http://whc.unesco.org/en/list/241|title=Group of Monuments at Hampi|publisher=World Heritage|accessdate=20 December 2006}}</ref> چودھویں صدی [[عیسوی تقویم|عیسوی]] میں ہیمپی ہندو سلطنت وجیانگاراوجے نگر کا [[دار الحکومت|دار الخلافہ ]]تھا۔<ref name="Verghese2002p1" />
 
ایرانی اور یورپی سیاحوں خصوصا پرتگالی سیاحت ناموں کے مطابق دریائے تنگبھدرا کے کنارے ہیمپی بہت سے مندروں، کھلیانوں اور بھرپور تجارتی بازاروں پر مشتمل ایک خوشحال اور متمول شہر تھا۔ 1500 [[قبل مسیح]] میں [[فارس]] اور [[پرتگال]] کے تاجروں کے لیے بہترین منڈی ہیمپی-وجیانگاراوجے نگر ، [[بیجنگ]] کے بعد [[قرون وسطی]] کے دور کا سب سے بڑا اور شاید اس وقت کے [[بھارت]] کا امیر ترین شہر تھا۔<ref name="Howard2011p77">{{cite book|author=Michael C. Howard|title=Transnationalism and Society: An Introduction|url=https://books.google.com/books?id=Qy4YtuIHsQcC&pg=PA77| year=2011|publisher =McFarland|isbn= 978-0-7864-8625-0| pages=77–78}}</ref><ref name="Gier2014p11" /> [[مسلمان]] سلطنتوں کے ایک اتحاد نے سلطنت وجیانگارا کو شکست دے کر مغلوب کر لیا، 1575ء میں سلطانی افواج نے اس کے دار الحکومت پر قبضہ کر لیا گیا اور اسے تاخت و تاراج کرتے ہوئے برباد کر دیا جس کے بعد ہیمپی کے صرف [[کھنڈر]] ہی باقی رہ گئے۔<ref name="Verghese2002p1">{{harvnb|Anila Verghese|2002|pp=1–18}}</ref><ref name="Fritz2015p11" /><ref name="Lycett 2013 433–470">{{cite journal | last=Lycett | first=Mark T. | last2=Morrison | first2=Kathleen D. | title=The Fall of Vijayanagara Reconsidered: Political Destruction and Historical Construction in South Indian History 1 | journal=Journal of the Economic and Social History of the Orient | volume=56 | issue=3 | year=2013 | doi=10.1163/15685209-12341314 | pages=433–470}}</ref>
 
موجودہ دور کے شہر ہوسپٹ کے قریب کرناٹک میں واقع ہیمپی کے یہ آثار 4100 ہیکٹر (16 [[مربع میل]]) پر محیط ہیں۔ اور اس کو [[یونیسکو]] نے [[ہنر]] اور [[فن]] کا اعلی ترین نمونہ قرار دیا ہے۔ جہاں اس وقت جنوبی ہند کی آخری عظیم [[سلطنت]] کے 1,600 شاہکار آثار موجود ہیں۔ جن میں قلعے ، دریا کے کنارے تعمیرات، شاہی عمارات ، [[ہندو مندر|مندر]] ، مقابر و مزارات، مقدس معبد، منڈپ ، ستونوں پر قائم ہال ، یادگاری مقامات اور آبی فن پارے وغیرہ شامل ہیں۔<ref name="unescosum">[https://whc.unesco.org/en/list/241 Group of Monuments at Hampi], UNESCO</ref>