"منت اللہ رحمانی" کے نسخوں کے درمیان فرق

معمولی اصلاح
(معمولی اصلاح)
{{خانہ معلومات شخصیت}}
'''مولانا سید منت اللہ رحمانی''' (7 اپریل 1913۔20 مارچ 1991) ایک [[بھارتی لوگ|بھارتی]] سنی دیوبندی عالمِ دین اور ملی رہنما تھے آپ [[مسلم پرسنل لا بورڈ]] کے فاؤنڈر ممبر [[امارت شرعیہ بہار اڑیسہ و جھار کھنڈ]] کے چوتھے امیر شریعت و[[مسلم پرسنل لا بورڈ]] کے پہلے جنرل سیکریٹریری اور تا عمر [[خانقاہ رحمانی مونگیر]] کے سجادہ نشیں رہے۔اور جامعہ رحمانی مونگیر کے سپرست رہے در اصل مولانا رحمانی ہی اس کے بانی ثانی ہیں۔
 
== ابتدائی تعارف ==
'''مولانا منت اللہ رحمانی''' 7 اپریل 1913 کو [[بہار]] کے شہر [[مونگیر]] میں پیدا ہوئے۔<ref name="nooralam">{{cite book |author1=[[نور عالم خلیل امینی]] |title=Pas-e-Marg-e-Zindah |publisher=Idara Ilm-o-Adab |location=[[دیوبند]] |page=214-238 |edition=5th, February 2017 |language=Urdu |chapter=Mawlāna Jalīl-ul-Qadar Aalim-o-Qā'id Amīr-e-Shariat: Hadhrat Mawlāna Sayyid Minatullah Rahmani - Chand Yaadein|trans-chapter=The Great Scholar and Leader, Amīr-e-Shariat: Hadhrat Mawlāna Sayyid Minatullah Rahmani - Few Memories}}</ref> ان کے والد ماجد عالم ربانی حضرت مولانا [[محمد علی مونگیری]] [[لکھنو|لکھنؤ]] میں تحریک [[ندوۃ العلماء]] اور اس کے ماتحت دارالعلوم کے بانی شخصیت تھے۔<ref name="muhammadalimungeri">{{cite book |author1=Sayyid Muhammad al-Hasani |title=Sirat Hadhrat Mawlāna Sayyid Muhammad Ali Mungeri: Baani Nadwatul Ulama|trans-title=Biography of Mawlāna Sayyid Muhammad Ali Mungeri: The Founder of Nadwatul Ulama |publisher=Majlis Sahafat-o-Nashriyat, [[دار العلوم ندوۃ العلماء]] |location=[[لکھنؤ]] |edition=4th, May 2016 |language=Urdu |quote=The relation has been discussed on page 334}}</ref>
 
== تعلیم ==
مونگیر میں اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ، سید رحمانیمولانا نے [[حیدرآباد، دکن|حیدرآباد]] میں [[مفتی عبد اللطیف]] صاحب کے یہاں عربی [[گرامر]] ، [[نحو]] اور [[منطق]] کی تعلیم حاصل کی۔ اپنی مزید تعلیم کے لئے [[ندوۃ العلماء]] لکھنؤ میں داخلہ لیا ، اور چار سال وہاں تعلیم حاصل کی۔ 1349 ہجری میں ، وہ [[دارالعلوم دیوبند]] چلے گئے جہاں انہوں نے مولانا [[حسین احمد مدنی]] سے [[صحیح بخاری]] کی تعلیم حاصل کی۔ آپ نے 1352 ہجری میں دارالعلوم دیوبند سے گریجویشن کیا۔<ref name="mahbub">{{cite book |last1=Rizwi |first1=Syed Mehboob |translator=Murtaz Husain F Quraishi |authorlink1=Syed Mehboob Rizwi |title= Tarikh Darul Uloom Deoband
|trans-title= History of the Dar al-Ulum Deoband |volume = 2 |publisher=[[دار العلوم دیوبند]] |location=[[دیوبند]] |edition=1981||chapter=Maulana Sayyid Minat Allah Rahmani|pages=121-123}}</ref> ان کے دیگر اساتذہ میں [[سید اصغر حسین دیوبندی|میاں سید اصغر حسین دیوبندی]] اور مفتی [[مفتی محمد شفیع عثمانی|محمد شفیع عثمانی]] شامل ہیں۔<ref name="nooralam"/>
 
== قومی خدمات ==
1935 میں ، مولانا [[ابوالمحاسن سجاد]] نے بہار میں مسلم آزاد پارٹی (Muslim Independent Party) کی بنیاد رکھی اور مولانا رحمانی اس کے ممبر مقرر ہوئے۔ اس کے ذریعہ، وہ 1937 میں [[مونگیر]] و [[بھاگلپور]] سے [[بہار]] [[قانون ساز اسمبلی]] کے ممبر کے طور پر بھی منتخب ہوئے۔<ref name="nooralam"/> وہ سن 1361 ہجری میں خانقاہ رحمانی مونگیر، کے سجادہ نشین اور سن 1955 میں [[دارالعلوم دیوبند]] کی قانون ساز کونسل (مجلس شوریٰ) کے ممبر کے عہدے پر فائز ہوئے، اپنی وفات تک وہ اس عہدے پر فائز رہے۔<ref name="mahbub"/><ref name="nooralam"/> [[قاری محمد طیب]] صاحب کے ساتھ ، انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا اور 28 دسمبر 1972 کو ہونے والے بورڈ کے پہلے اجلاس میں انہیں ہی اس کا پہلا جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا۔<ref name="nooralam"/> 1964 میں ، انہوں نے ہندوستان کے مندوب کی حیثیت سے بین الاقوامی مسلم کانگریس (رابطہ عالم اسلامی) میں حصہ لیا۔<ref name="mahbub"/>
 
1945 میں ، رحمانیمولانا نے [[جامعہ رحمانیہ|جامعہ رحمانی]] ، جو ہندوستان کے مونگیر میں ایک مشہور مدرسہ ہے، دوبارہ قائم کیا۔کیا اور انکے عہد میں ادارے نے بڑی ترقی کی۔<ref name="nooralam"/><ref name="2circles">{{cite news |title=Munger’s Jamia Rahmani holds its biennial contests for students |url=http://twocircles.net/2008apr02/munger_s_jamia_rahmani_holds_its_biennial_contests_students.html |accessdate=27 August 2020 |work=[[ٹو سرکلز]] |date=2 April 2008}}</ref>
رحمانی 20 مارچ 1991 کو انتقال کر گئے۔ <ref name="nooralam"/>
 
== وراثت ==
ایک ویکی نویس نے مونگیر اور مولانا منت اللہ رحمانی ص پر نہایت عمدہ اور اہم تبصرہ کیا ہے۔ {{اقتباس| مونگیر ایک تاریخی شہر ہے جہاں انگریزوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والے محب وطن جانباز میر قاسم جیسے عظیم شہسوار کا یہ پایہ تخت بھی رہا ہے، آج بھی میرقاسم کے قلعہ کی فصیل موجود ہے جو میرقاسم کی شجاعت و دلاوری کی کہانی سناتی ہے۔ یہ بہت ہی قدیم ضلع ہے اس ضلع سے جموئی، سہرسہ، لکھی سرائے ،بیگوسرائے، کھگڑیا جیسے اضلاع قائم ہوئے ہیں۔ یہ شہر اس لیے بھی تاریخی حیثیت کا حامل ہے کہ یہاں معروف دینی ادارہ جامعہ رحمانی اور معروف خانقاہ خانقاہ رحمانی بھی ہے، جہاں لاکھوں اور کروڑوں بھٹکے ہوئے افراد ہدایت پاتے ہیں۔ اس خانقاہ کے اولین سجادہ نشیں قطب عالم حضرت مولانا محمد علی مونگیری ؒ جنہوں نے مونگیر اور اس کے ا طراف میں قادیانیت کا قلع قمع کیا تھا اور قادیانیت کی حقیقت کی نقاب کشائی کی تھی۔ اسی خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں امیر شریعت مولانا سید منت اللہ رحمانی ؒ نے اس خانقاہ سے ایسے کا رہائے نمایاں انجام دیے ہیں جس کی مثال ملنی مشکل ہے ایک طرف جہاں وہ رشد وہدایت کی راہ دکھا رہے تھے وہیں ایوان سیاست میں بھی اہل سیاست کو’ سیاست‘کے مفہوم پڑھانے میں پیش پیش رہے تھے، ان کے کئی عظیم کارنامے ہیں جو آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں، ان کے ہی ایماءپر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جیسی فعال تنظیم وجود میں آئی تھی۔ نسبندی اور ایمرجنسی کے دنوں میں انہوں نے ایک جانباز کی طرح حکومت وقت کے آگے ڈٹ گئے تھے اور اس کی شدید مخالفت کی تھی۔ یونیفارم سو ل کوڈ کے ہنگامہ رستخیزمیں ان کی ہمت اور جوش کی داد دینی چاہیے کہ ا نہوں نے بلاخوف و خطر شرعی موقف کے تحت کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ فی الوقت اسی خانقاہ کے سجادہ نشیں مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی جو فی الوقت امارت شرعیہ کے امیر شریعت ہیں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری بھی ہیں موروثی جوش و خروش اور ہمت کے ساتھ میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ مولانا محمد ولی رحمانی نے قوم میں عصری تعلیم و تربیت کی ایک نئی کرن’رحمانی 30‘ کے نام سے قائم کی ہے، جہاں غریب مسلم طالب علموں کو مفت میں کوچنگ اور دیگر سہولیات کے سا تھ اعلیٰ امتحانات میں شریک ہونے کا زریں موقع پیش کرر ہے ہیں۔ علاوہ ازیں جامعہ رحمانی خود ا یک مثالی ادارہ ہے جو مذہبی تعلیم و تربیت میں ایک ممتاز حیثیت کا حامل ہے، جہاں ہر سال طلبہ کی ایک معتدبہ تعداد فارغ ہو کر قوم کی خدمت میں مصروف ہے۔}}<ref>https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%88%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%B1_%D8%B6%D9%84%D8%B9</ref>
 
مولانا رحمانی صاحب کے فرزند [[ولی رحمانی|محمد ولی رحمانی]] [[رحمانی 30]] کے بانی اور [[آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ]] کے موجودہ [[جنرل سکریٹری]] ہیں۔<ref>{{cite web |title=Officials of the AIMPLB |url=http://www.aimplboard.in/officers.php |website=aimplboard.in |publisher=[[آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ]] |accessdate=27 August 2020}}</ref><ref name="rahmani">{{cite web |title=Rahmani Mission President |url=http://www.rahmanimission.info/president.html |website=www.rahmanimission.info |accessdate=27 August 2020}}</ref> [[علی گڑھ مسلم یونیورسٹی]] میں ، محمد اظہر نے مولانا سید منت اللہ رحمانی: زندگی اور دینی عملی و فکری خدمات کا تجزیاتی [[مطالعہ]] (Maulana Minnatullah Rahmani: analytical study of his life and religio-intellectual contributions) کے عنوان سے اپنا [[ڈاکٹریٹ]] کا [[مقالہ]] تحریر کیا۔<ref name="thesis">{{cite thesis |type=PhD |last=Azhar |first=Mohd |date=2005 |title=Maulana Minnatullah Rahmani: analytical study of his life and religio-intellectual contributions|url =https://shodhganga.inflibnet.ac.in/handle/10603/57173 |publisher=Aligarh Muslim University}}</ref> شاہ عمران حسن نے ان کی سیرت لکھی '''حیات رحمانی: مولانا منت اللہ رحمانی کی زندگی کا علمی و تاریخی مطالعہ''' (English: The Life of Rahmani: A Study of Maulana Minatullah Rahmani’s Scholarly and Historical Legacy) اس کتاب پر پروفیسر [[اختر الواسع]] نے مقدمہ تحریر کیا ہے۔ <ref name="milli">{{cite news |author1=Mushtaq Ul Haq Ahmad Sikander |title=Book on Maulana Minnatullah Rahmani |url=https://www.milligazette.com/news/13-books/6066-book-on-maulana-minnatullah-rahmani/ |accessdate=27 August 2020 |work=[[The Milli Gazette]] |date=30 Jan 2013}}</ref>
 
== حوالہ جات ==