"حرکت الجہاد الاسلامی" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م (خودکار درستی+ترتیب (9.7))
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
'''حرکت الجہاد الاسلامی''' یا حرکة الجہاد الاسلامی نامی تنظیم دنیا کی حالیہ شدت پسندی میں جنوبی ایشیا کی ابتدائی عسکریت پسند تحریکوں میں سے ایک ہے۔ اسے ہم جنوبی ایشیا کی مادر شدت پسند تحریک بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس تنظیم کی بنیاد روس کے افغانستان آنے کے بعد سال 1980 کے اوائل میں رکھی گئی۔ تنظیم کے بانی پاکستان کے ایک دیوبندی عالم مولانا ارشاد تھے۔ جو بعد ازاں روسی فوج کے خلاف جنگ میں جاں بحق ہوگئے۔ مولانا ارشاد پاکستان سے اپنے 3 ساتھیوں کے ہمراہ روس کے خلاف جنگ کے لیے افغانستان گئے تھے جہاں وہ مولوی نبی محمدی کی تنظیم حرکت انقلاب اسلامی کے زیر سایہ روسی فوج سے لڑتے رہے۔ اور اپنے لڑاکوں میں اضافے کے بعد اپنی علیحدہ تنظیم کی بنیاد رکھی۔ افغانستان میں تنظیم کے ابتدائی کمانڈروں میں قاری سیف اللہ اختر ، کمانڈر نصراللہ منصور لنگڑیال ، بنگلہ دیش سے مولانا عبدالرحمان فاروقی ، کمانڈر خالد محمد کراچوری ، مولانا فضل الرحمان خلیل اور دیگر شامل ہیں۔ برصغیر پاک و ہند کی تقریبا تمام عسکریت کی جڑیں مذکورہ تنظیم سے ہی ملتی ہیں۔ روس کے خلاف اس تنظیم نے جنوبی افغانستان کے تقریبا تمام مقامات پر جنگ کی ہے۔ بانی مولانا ارشاد کے جاں بحق ہوجانے کے بعد قاری سیف اللہ اختر کو نیا سربراہ بنایا گیا۔ اور اس کے مولانا فضل الرحمان خلیل کی قیادت میں ایک دھڑا علیحدہ ہوگیا جس نے اپنا نام حرکت المجاہدین رکھا۔ روس کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد حرکت الجہاد کے جنگجو تاجکستان، میں وہاں کی روس نواز حکومت سے جنگ کو چلے گئے۔ 1988 میں بھارتی زیر انتظام کشمیر میں مسلح مزاحمت شروع ہونے پر تنظیم اپنی لڑاکوں کو ہندوستان کے خلاف جنگ میں جھونک دیا۔ اور پاکستانی زیر قبضہ کشمیر سے ہندوستانی فوج پر حملے شروع کردیے۔ جن کی قیادت کمانڈر خالد محمد کراچوری کر رہے تھے جو بعد میں ایک بم دھماکے میں مارے گئے تھے۔ ان کے ساتھ ہی تنظیم کے کمانڈر نصر اللہ منصور ہند کے زیرانتظام کشمیر میں داخل ہوئے اور ہندوستانی فوج کے خلاف بہت بڑی جنگوں کا پیش خیمہ بنے
'''حرکت الجہاد الاسلامی''' یا حرکۃ الجہاد الاسلامی افغان جہاد کی ایک مشہور تنظیم تھی جو بعد میں [[حرکت الانصار]] میں ضم ہو گئی تھی۔
 
[[زمرہ:ایشیا میں دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیمیں]]
4

ترامیم