"خط رقاع" کے نسخوں کے درمیان فرق

979 بائٹ کا اضافہ ،  10 مہینے پہلے
خط رقاع [[خط رقعہ]] سے اخذ ہوا ہے۔ رقاع رقعہ کی جمع ہے۔ کاغذ کے پرزے یا ٹکڑے کو رقعہ کہتے ہیں۔ اِس خط کو رقاع اِس لئے کہا جاتا ہے کہ آغاز میں یہ کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پر لکھا جاتا تھا۔ معمولی ضرورت کی کوئی بات یا معمولی خط بھی اِس ٹکڑے پر لکھا جاتا جن میں معاملات کی عجلت درپیش ہوتی تھی۔ اِس لئے قلم کی روانی و آسانی کے لئے اِس خط کو ترویج ملی۔ [[خلافت عباسیہ]] کے زمانے میں [[اسلامی خطاطی]] کے جتنے بھی خطوط وجود میں آئے، اُن میں سہل ترین [[خط دیوانی]] اور [[خط رقعہ]] تھے، اور [[خط رقعہ]] کو مزید سہل بنانے کے لئے خط رقاع کو ایجاد کیا گیا۔ یہ سرعت نگاری کے لئے بہترین خط ہے کیونکہ اِس میں [[قلم]] کی گردش آزادانہ اور سریع السَیر ہوتی ہے۔ یہ خط بڑی حد تک [[خط ثلث]] سے اور [[خط توقیع]] سے مشابہہ ہے۔
==خصوصیات==
خط رقاع میں [[قلم]] کی حرکت چونکہ تیز ہوتی ہے، اِس لئے بعض حروف اور مرکبات نے نئی شکل اختیار کرلی ہے۔ تحریر میں یہ خط کافی خوشنما ہے۔ ترتیب میں ایک خاص فاصلے کا خیال رکھا جانا لازمی ہوتا ہے اور شکلوں کی ساخت میں ہم آہنگی نظر آتی ہے۔ عجلت و سرعت نگاری کے سبب اِس خط سے اختصار پیدا ہوتا ہے اور اختصار میں بعض حروف لکھنے میں گر جاتے ہیں۔ تحریری ملکہ پیدا ہوجانے کے بعد اِسے باآسانی پڑھا جا سکتا ہے۔<ref>محمد سلیم: تاریخ خط و خطاطین، صفحہ 107- 108۔</ref> بہرکیف کاتبین کا فرض ہے کہ حتیٰ الامکان صحتِ حروف اور وضاحت کو پیش نظر رکھے تاکہ پڑھنے میں اشتباہ واقع نہ ہو۔ ایک زمانے میں تو یہ خط تمام بلادِ اسلامیہ میں رائج اور مستعمل تھا، بعد ازاں عرب ممالک اور [[ترکی]] میں متروک ہوگیا۔ اِسکی جگہ [[خط اجازہ]] نے رواج پایا۔ البتہ [[ایران]] اور مشرقی ممالک میں یہ خط ابھی تک رائج ہے مگر اِس کا استعمال محدود ہوچکا ہے۔ محلِ استعمال یہ ہے کہ [[خط توقیع]] کی طرح کتاب کے آخر میں کتاب کا نام، مصنف کا نام، کاتب کا نام، سنہ کتابت وغیرہ‘ جیسی معلومات لکھنے کے لئے خط رقاع ہی استعمال کیا جاتا ہے۔<ref>اطلس خط: صفحہ 276- 277۔</ref>
*خط رقاع میں حروف چھوٹے اور لطیف قسم کے بنائے جاتے ہیں۔<ref>محمد سلیم: تاریخ خط و خطاطین، صفحہ 107- 108۔</ref>
*قلم کا [[قط]] بھی باریک ہوتا ہے۔
*خط میں استدارہ اور دَور بہت زیادہ ہے۔