"محمد وصی اللہ حسینی" کے نسخوں کے درمیان فرق

==ادبی خدمات==
وصی اللہ حسینی کو طالب علمی کے دور میں ہی لکھنے پڑھنے کا شوق تھا۔ آپ نے لکھنے کاآغاز ماہنامہ نقوش حیات، لہرولی بازار، سنت کبیرنگر، یوپی سے کیا۔ اس کے ایڈیٹر مولانا صادق علی قاسمی بستوی نے بڑی حوصلہ افزائی کی۔ اس کے بعد روزنامہ قومی آواز ،روزنامہ راشٹریہ سہارا، روزنامہ آگ لکھنؤ روزنامہ قومی خبریں ،لکھنؤ روزنامہ جدید عمل ، وارث اودھ لکھنؤ روزنامہ اودھ نامہ ، ہفتہ روزہ نداء ملت لکھنؤ ماہنامہ اردو دنیا،نئی دہلی،افکار ملی، نئی دہلی،سہ ماہی فکر وتحقیق نئی دہلی،ماہنامہ نیا دور،لکھنؤ بزم سہارا نوئیڈا،ہفتہ روزہ عالمی سہارا،سہ ماہی اکادمی،لکھنؤ ماہنامہ لاریب لکھنؤ،ماہنامہ فروغ ادب بھوبنیشو ،پاکیزہ آنچل،ماہنامہ خاتون مشرق اور ہندی ماہنامہ سچاراہی میں درجنوں مقالات ومضامین لکھے۔آپ کے مضمامین کا ایک مجموعہ2017ءمیں’’تنقیدی دریچے‘‘کے نام سے شائع ہوا۔<ref>http://www.urdulinks.com/urj/?p=3222</ref> <ref>http://www.urdulinks.com/urj/wp-content/uploads/2019/11/Urdu-Reseach-Journal-19th-Issue-2.pdf</ref>
===مشاہیر ادب کی نگاہ میں ===
پروفیسر شارب رودلوی لکھتے ہیں ’’تنقیدی دریچے‘‘محمد وصی اللہ حسینی کے ادبی،تاریخی اورتحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے،جس میں ادب ،لسانیات،شاعری تہذیبو تمدن ہر موضوع مضامین شامل ہیں۔وصی اللہ حسینی اردو زبان و ادب کے مسائل پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ان مسائل پر انہوں نے صرف دوسروں کو پڑھاہی نہیں ہے بلکہ خود بھی سوچاہے۔<ref>تنقیدی دریچے کور صفحہ</ref>
حقانی القاسمی آپ کی تصنیف ’’تنقیدی دریچے‘‘میں لکھتے ہیں ’’گہری تنقیدی بصیرت اور اظہاری قوت کی بنیاد پر جن نوجوان قلم کاروں نے اپنی پہچان بنائی ہے ان میں ایک نام وصی اللہ حسینی کا بھی ہے۔مشرقی علوم اور ادبیات اور عصری علوم و فنون سے واقفیت نے ان کے دائرہ فکر و نظر کو جو وسعت عطا کی ہے،ان وسعتوں کا اظہار ان کی تحریروں میں بھی ہوا ہے۔نئے زاویوں کی جستجو اور موضوع کے ممکنہ جہات کے احاطے کی کوشش ان کی تحریروں کا مابہ الامتیاز ہے۔<ref>تنقیدی دریچے</ref>
 
== بیرونی روابط ==