"تحفۃ المحتاج" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  3 مہینے پہلے
«تحفة المحتاج» کے ترجمے پر مشتمل نیا مضمون تحریر کیا
م
(ٹیگ: لوٹایا)
تحفة المحتاج» کے ترجمے پر مشتمل نیا مضمون تحریر کیا)
(ٹیگ: ترجمہ مواد ترجمہ‌مواد2 دستی لوٹایا لوٹایا)
{{خانۂ معلومات کتاب|موضوع=[[فقہ شافعی]]|مصور=|مصنف=ابن حجر ہیتمی (909ھ - 974ھ)|زبان=عربی}}
[[فائل:كتب_فقه_شافعي.png|بائیں|تصغیر| فقہ شافعی کی کچھ اہم کتابیں۔ کتاب ”تحفۃ المحتاج“ شجرہ کے دائیں طرف دکھائی دے رہی ہے۔ ]]
|موضوع=[[فقہ شافعی]]|مصور=|مصنف=ابن حجر ہیتمی (909ھ - 974ھ)|زبان=عربی}}
”تحفۃ المحتاج بشرح المنہاج“ امام، فقیہ، شہاب الدین احمد بن محمد بن علی بن حجر ہیتمی شافعی (909-974ھ) کی تصنیف ہے جو امام نووی کی کتاب ”منہاج الطالبین“ کی ایک اہم شرح ہے۔ دوسری جانب امام شمس رملی (ت1004ھ) کی کتاب ”نہایۃ المحتاج“ ہے۔ ”تحفۃ المحتاج“ فقہِ شافعی کی امہات کتابوں میںمین سے ہے اور بہت سے اسلامی ملکوں میں فتویٰ دینے کے لئے اس کتاب پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ شیخ [[علوی بن احمد سقاف|علوی بن احمد سقاف شافعی]] اپنی کتاب ”مختصر الفوائد المکیۃ“ میں کہتے ہیں:
 
[[فائل:كتب_فقه_شافعي.png|بائیں|تصغیر| فقہ شافعی کی کچھ اہم کتابیں۔ کتاب ”تحفۃ المحتاج“ شجرہ کے دائیں طرف دکھائی دے رہی ہے۔]]
 
”تحفۃ المحتاج بشرح المنہاج“ امام، فقیہ، شہاب الدین احمد بن محمد بن علی بن حجر ہیتمی شافعی (909-974ھ) کی تصنیف ہے جو امام نووی کی کتاب ”منہاج الطالبین“ کی ایک اہم شرح ہے۔ دوسری جانب امام شمس رملی (ت1004ھ) کی کتاب ”نہایۃ المحتاج“ ہے۔ ”تحفۃ المحتاج“ فقہِ شافعی کی امہات کتابوں میں سے ہے اور بہت سے اسلامی ملکوں میں فتویٰ دینے کے لئے اس کتاب پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ شیخ [[علوی بن احمد سقاف|علوی بن احمد سقاف شافعی]] اپنی کتاب ”مختصر الفوائد المکیۃ“ میں کہتے ہیں:
 
حضرموت، شام، اکراد، داغستان کے علما نیز یمن اور حجاز کے اکثر علما کا مؤقف ہے کہ معتمد قول وہ ہے جو شیخ ابن حجر مکی نے اپنی کتابوں میں بلکہ تحفۃ المحتاج میں کہا ہے کیونکہ اس میں مصنف نے امام شافعی کی نصوص کا احاطہ کرنے کے ساتھ مزید تتبع سے بھی کام لیا ہے اور کیونکہ لاتعداد محقق علما نے اس کتاب کو مصنف کے سامنے پڑھا ہے۔<ref>[[iarchive:mfmfyts/page/n73/mode/2up|مختصر الفوائد المكية فيما يحتاجه طلبة الشافعية - علوي بن أحمد السقاف الشافعي المكي، ص75]]</ref>
 
اس کتاب کی اہمت کے وجہ سے شافعی حضرات نے اس پر بہت توجہ دی ہے اور اس پر حواشی و شروع لکھے، ان میں سے اہم حواشی یہ ہیں:
 
* حاشیہ ابن قاسم عبادی
* حاشیہ شروانی