"اخباری (اہل تشیع)" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  11 مہینے پہلے
م
خودکار: درستی املا ← جنھوں
(ٹیگ: دستی لوٹایا)
م (خودکار: درستی املا ← جنھوں)
=== حدیث کی طرف میلان کا عروج ===
 
چوتھی صدی ہجری بمطابق دسویں صدی عیسوی کو قم کے حدیثی مکتب کے تسلط کے دور کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ [[ابن ابی عقیل عمانی]] و [[ابن جنید اسکافی]] جیسے اہل اجتہاد و استنباط اقلیت میں شمار ہوتے تھے۔ اس دور کے برجستہ حدیثی میں [[محمد بن یعقوب کلینی]] (328 یا 329 ق۔ 940 یا 941 ع)، [[علی بن بابویہ قمی]] (328 ق)، [[ابن قولویہ]] (368 یا 369 ق۔ 979 ع) و [[محمد بن بابویہ قمی]] (381 ق۔ 991 ع) جیسے افراد کا شمار کیا جا سکتا ہے۔ جنہوںجنھوں نے قدیمی ترین فقہی۔حدیثی کتابوں کی تالیف میں نہایت اہم کردار ادا کیے ہیں۔<ref>مدرسی طباطبایی، مقدمه‌ای بر فقه شیعه، ص34 کے بعد</ref>
 
=== فقہ استدلالی کی طرف رجحان ===
اخباری اصطلاح کا استعمال پہلی بار سن چھٹی صدی ہجری بمطابق بارہویں صدی عیسوی کے نصف اول میں کتاب ملل و نحل میں جس کے مولف شہرستانی ہیں، دیکھنے میں آتا ہے۔<ref>1/147</ref> اور اس کے بعد چھٹی صدی ہجری کے شیعہ امامی عالم عبد الجلیل قزوینی رازی نے اپنی کتاب نقض میں ان دو اصطلاحوں اصولی و اخباری کو ایک دوسرے کے مقابلہ میں قرار دیا ہے۔<ref>شهرستانی، الملل و النحل، ص256، 300-301</ref>
 
[[اہل حدیث]] فقہائ کا مکتب جسے چوتھی صدی ہجری کے اواخر اور پانچویں صدی ہجری کے اوائل میں اصولی فقہائ کی کوششوں نے کمزور کر دیا تھا۔ اس نے اپنے محدود وجود کو [[امامیہ]] کے فقہی مجامع و محافل میں محفوظ کر لیا، یہاں تک کہ گیارہویں صدی ہجری کی ابتدائی میں اسے ایک بار پھر [[محمد امین استر آبادی]] (1033 یا 1036 ق۔ 1624 یا 1627 ع) کے ذریعہ ایک نئے قالب میں پیش کیا گیا۔<ref>مدرسی طباطبایی، مقدمه‌ای بر فقه شیعه، ص57</ref> اور اس نے اپنے تیز و تند حملوں کا رخ اصولیوں کی طرف کر دیا۔ بعض کا ماننا ہے کہ ابن ابی جمہور احسایی (با قید حیات 904 ق۔ 1499 ع) کا شمار ان لوگوں میں ہیں جنہوںجنھوں نے اخباریوں کے لیے راہ کو ہموار کیا۔ انہوں نے ایک رسالہ میں جس کا عنوان العمل باخبار اصحابنا تھا، اس سلسلہ میں اپنے دلائل پیش کیے۔<ref>حر عاملی، امل الآمل، ج2، ص253؛ خوانساری، روضات الجنات، ج7، ص33</ref>
 
اخباریت کی تاریخی قدمت کے مد نظر، اخباری عنوان کا رواج اور اطلاق اس خاص گروہ اور آج کے موجودہ معنی و اصطلاح کے مطابق جو گیارہویں صدی ہجری میں اور اخباریت کی جدید تحریک کے ظہور کے ساتھ اس کے بانی محمد امین استر آبادی سے ہوتا ہے جسے بعض افراد نے (اخباری صلب) کی صفت کے ساتھ متصف کیا ہے۔<ref>بحرانی، لؤلؤه البحرین، ص117</ref>
111,622

ترامیم