"غالب کے خطوط" کے نسخوں کے درمیان فرق

545 بائٹ کا اضافہ ،  1 سال پہلے
م
2001:16A2:7C9E:2400:1D26:2560:E559:5CC3 (تبادلۂ خیال) کی ترامیم خالد ندیم کی گذشتہ ترمیم کی جانب واپس پھیر دی گئیں۔
(ٹیگ: لوٹایا ترمیم از موبائل ترمیم از موبائل ایپ اینڈرائیڈ ایپ ترمیم)
م (2001:16A2:7C9E:2400:1D26:2560:E559:5CC3 (تبادلۂ خیال) کی ترامیم خالد ندیم کی گذشتہ ترمیم کی جانب واپس پھیر دی گئیں۔)
(ٹیگ: استرجع)
 
== شوخئ تحریر ==
 
a[[الطاف حسین حالی|مولانا حالی]] لکھتے ہیں جس چیز نے ان کے مکاتیب کو ناول اور ڈراما سے زیادہ دلچسپ بنا دیا ہے وہ شوخی تحریر ہے جو اکتساب، مشق و مہارت یا پیروی و تقلید سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگوں نے خط کتابت میں مرزا کی روش پر چلنے کا ارادہ کیا اور اپنے مکاتبات کی بنیاد بذلہ سنجی و ظرافت پر رکھنی چاہی ہے۔ مگر ان کی اور مرزا کی تحریر میں وہی فرق پایا جاتا ہے جو اصل اور نقل یا روپ بہروپ میں پایا ہوتا ہے۔ مرزا کی طبیعت میں شوخی ایسی بھری ہوئی تھی جیسے ستار میں سر بھرے ہوئے ہیں۔ اور بقولِ حالی مرزا کو بجائے ”حیوان ناطق“ ”حیوان ظریف “ کہنا بجا ہے۔ غالب نے اپنی طبیعت کی شوخی اور ظرافت سے کام لے کر اپنے خطوں میں بھی بذلہ سنجی اور شگفتگی کے گلزار کھلائے ہیں۔ ماہِ رمضان میں لکھا گیا ایک خط: ” پانی، حقے اور روٹی کے ٹکڑے سے روزے کو بہلاتا ہوں۔“aaہوں۔“
 
”میاں تمہارے دادا امین الدین خان بہادر ہیں میں تو تمہارا دلدادہ ہوں۔“ یا جیسے کہ "تم تو چشم نورس ہو اس نہال کے "