"تفضل حسین کشمیری" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
(حوالہ)
(ٹیگ: بصری خانہ ترمیم ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
 
 
== ابتدائی زندگی اور تعلیم ==
علامہ تفضل حسین کشمیری 1727 [[سیالکوٹ|میں سیالکوٹ]] میں ایک بااثر کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا ،کرم اللہ، اپنے وقت کے ایک بہت بڑے عالم تھے اور انہوں نے لاہور کے گورنر معین الملک (میر منو) کے دربار میں وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔13 سال کی عمر میں تھے کہ علامہ تفضل کا خاندان دہلی منتقل ہو گیا جہاں انہوں نے ممتاز سنی عالم دین ملا نظام الدین سہالوی کے شاگردملا وجیہ سے بنیادی منطق اورفلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے میرزا محمد علی سےقدیم ریاضی کی تعلیم حاصل کی۔ 18 سال کی عمر میں اس کا کنبہ لکھنؤ چلا گیا جہاں وہ [[فرنگی محل|فرنگی محل کے]] مدرسے میں داخل ہوگئے۔ جلد ہی ان کے ذہن میں سنی مسلک اورروایتی فلسفہ کی تعلیمات کے بارے میں شکوک و شبہات پیداہو گئے اور انہوں نے خودسے تحقیق شروع کردی۔ اس کے بعد انہوں نے شیعہ مسلک اختیار کیا اورمعقولات میں بطلیموسی فلکیات کی طرف متوجہ ہو گئے۔ <ref name=":0">Rizvi, "'''A Socio-Intellectual History of Isna Ashari Shi'is in India'''", Vol. 2, pp. 227–228, Ma’rifat Publishing House, Canberra, Australia (1986).</ref> انہوں نے فرنگی محل میں معروف شیعہ صوفی [[ملا صدرا]] کا فلسفہ سیکھا تھا <ref>Syed Ali Nadeem Rezavi, "'''[[iarchive:PhilosophyOfMullaSadraAndItsInfluenceOnIndia|Philosophy of Mulla Sadra and its Influence on India]]'''", Religion in Indian History, pp.177–186, New Delhi (2007).</ref> ، لیکن جلد ہی اس خیالی [[کاذب سائنس|شبہ علم]] کو ترک کر کے حقیقی تعقل میں مشغول ہو گئے۔ سائنس کےتاریخ دان سائمن شیفر لکھتے ہیں:
 
”نیوٹن کی وفات کے سال میں شمالی سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے تفضل حسین کا تعلق ایک نامور گھرانے سے تھا جو مغل دربار کے قریب تھےاور انہوں نے شیعہ مسلک اختیار کر لیا تھا ۔ انہوں نے شاہی دارالحکومت دہلی میں منطق ، ریاضی اور فلسفہ طبیعت کی تعلیم حاصل کی ۔ 1745 میں ان کے والد اودھ منتقل ہوگئےاور [[شجاع الدولہ|نواب شجاع الدولہ]] کے دربار میں جلد ہی بلند مقام حاصل کر لیا ۔تفضل نے لکھنؤ کے مشہور مدرسہ دار العلوم فرنگی محل میں داخلہ لیا جو ولندیزی تجارتی کمپنی کی متروک عمارت میں قائم ہوا تھا جسے 1693 میں بادشاہ اورنگ زیب نے قبضے میں لے کر [[نظام الدین محمد سہالوی|ملا نظام الدین سہالوی]] کے حوالے کر دیا تھا۔ ملا نظام الدین سہالوی کے تیار کردہ [[درس نظامی]] میں طلبہ کو امور مملکت چلانے کیلئے یونانی عربی معقولات اور اسلامی فقہ کی تعلیم دی جاتی تھی۔ دار العلوم کا تعلیمی معیار مغل دربار کے ساتھ ساتھ برطانوی دربار میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔نوجوان تفضل کے گھرانے کا تعلق شرفا کے طبقے سے تھا اور ان کی ہندی فارسی روایت میں عقلی علوم اور زبان و ادب میں مہارت سیاسی طاقت حاصل کرنے کی ایک لازمی شرط تھی، جو انہوں نے دہلی اور لکھنؤ میں تعلیم کے دوران حاصل کی۔ انہوں نے ارسطوئی منطق اور اقلیدس و بطلیموس کی ریاضی کی عربی شروحات میں مہارت کے ساتھ ساتھ فقہ اور مدیریت کا علم حاصل کیا۔ “<ref>Simon Schaffer, "'''The Asiatic Enlightenments of British Astronomy'''", in: "The Brokered World: Go-Betweens and Global Intelligence, 1770–1820", p. 53, Watson Publishing International LLC, (2009).</ref>
731

ترامیم