"سانحۂ ٹھیری" کے نسخوں کے درمیان فرق

1 بائٹ کا ازالہ ،  3 مہینے پہلے
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
 
=== قیام پاکستان کے بعد شیعہ مخالف تشدد ===
پراسرار حالات میں جناح کے انتقال کے بعد وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے دیوبندی علمائے کرام سے اتحاد کیا اور [[قرارداد مقاصد]]<nowiki/> منظور کی جس میں مذہب کو قانون اور سیاست میں اہم مقام دیا گیا تھا۔ شیعہ اور احمدی مذہبی رہنماؤں نے بھی غیر مسلم شہری کے خلاف اس اقدام کی حمایت کی۔ اس پر احتجاج کرتے ہوئے جناح کے مقرر کردہ وزیر قانون ، [[جوگیندر ناتھ منڈل|جوگندر ناتھ منڈل]] نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
 
1950 کی دہائی میں ، تنظیم ''اہل سنت نامی شیعہ مخالف جماعت'' نے پورے پاکستان میں عوامی اجتماعات کا اہتمام کرنا شروع کیا تاکہ تشدد کو ہوا دی جاسکے اور شیعوں کا مذاق اڑایا جاسکے۔ اس تنظیم نے ایک شیعہ مخالف ماہنامہ” دعوت “بھی جاری کیا ۔ محرم 1955 میں پنجاب میں کم سے کم 25 مقامات پر عزاداری کے جلوسوں پر حملے ہوئے۔ 1956 میں ہزاروں مسلح افراد چھوٹے سے قصبےشہر سلطان میں عزاداری پر حملہ کرنے کے لیے جمع ہوئے ، لیکن پولیس نے انہیں اس کام سے روک دیا۔ 7 اگست 1957 کو سیت پور ضلع مظفر گڑھ میں ایک حملے کے دوران تین شیعہ مارے گئے۔ مئی 1958 میں بھکر میں شیعہ خطیب آغا محسن کو نشانہ بنایا گیا۔ <ref>A. Rieck, "'''The Shias of Pakistan'''", pp. 88 – 98, Oxford University Press, (2015).</ref>
731

ترامیم