"امین صفدر اوکاڑوی" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
خودکار: اضافہ زمرہ جات +ترتیب (14.9 core): + 5 زمرہ
م (خودکار: درستی املا ← گذرے)
م (خودکار: اضافہ زمرہ جات +ترتیب (14.9 core): + 5 زمرہ)
 
| تاریخ پیدائش = 4 اپریل 1934ء، بیکانیر ضلع گنگا نگر
| مقام پیدائش = بیکانیر
| تاریخ وفات = 3 شعبان المعظم 1421‌ھ1421ھ بمطابق 3 اکتوبر 2000ء
| مقام وفات = [[اوکاڑہ]]
| مکتبہ فکر = حنفی دیوبندی
}}
{{دیوبندی}}
مشہور عالم '''دین محمد امین''' پورا نام مع القابات مولانا امین صفدر اوکاڑوی جن کی کی پیدائش اور علمی محققانہ طرز زندگی ایک مشہور [[عالم دین]] مولانا سید [[شمس الحق افغانی]] (فاضل دار العلوم دیوبند) کی دعاؤں کا ثمرہ ہے اور انہوں نے ہی آپ کا نام '''محمد امين''' تجویز کیا تھا اور بڑے پیار سے سر پر ہاتھ پھیر کر آپ کے والد محترم '''ولی محمد''' سے فرمایا: "یہ لڑکا مولوی بنے گا، مناظر بنے گا!" چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سید صاحب کی دعا قبول فرمائی، آخر کار امین صفدر اوکاڑوی کو '''ماسٹر محمد امین''' سے مناظر اسلام، محقق حنفیت، وکیل [[اہل سنت]] والجماعت مولانا محمد امین صفدراوکاڑوی بنا دیا۔ تحقیق و‌تحریروتحریر میں امین صفدر اوکاڑوی چونکہ ایک مشہور عالم دین '''مولانا سرفراز خان صفدر''' (دیوبند [[مکتب فکر]] کے ہاں جن کے القابات امام اہل سنت اور پیر طریقت کے ہیں) سے متاثر تھے، اس لیے '''صفدر''' کہلاتے ہوئے ان کی جانب نسبت ظاہر کرتے تھے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں تاحال دو ہی صفدر گذرے ہیں، تقریر میں '''حضرت مولانا محمد امين صفدر اوکاڑوی''' اور تحریر میں '''حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ؒ'''<ref>[http://www.ahnafmedia.com/conferences/itemlist/category/32-maulana-ameen-safdar-okarvi Maulana Ameen Safdar<!-- خودکار تخلیق شدہ عنوان -->]</ref> ان کے رد میں [[زبیر علی زئی]] نے '''امین اوکاڑوی کا تعاقب''' لکھی تھی۔
 
== ولادت ==
 
== رجوع حنفیت ==
1953ء میں [[احمدیہ|قادیانیوں]] کے خلاف [[تحریک ختم نبوت]] کے دوران مشہور عالم دین علامہ [[انور شاہ کشمیری]] کے شاگردِ رشید، مولانا محمد عبد الحنان (فاضل [[دار العلوم دیوبند]]) اور مولانا عبد القدیر (فاضل دیوبند) گرفتاری کے بعدجب اوکاڑہ آئے تو آپ کے استاذ مولانا عبد الجبار کنڈیلوی نے آپ کو ان سے بحث و‌مباحثہومباحثہ کرنے کے لیے بھیج دیا۔ ان سے بحث میں نہ صرف آپ ہار بیٹھے بلکہ ان کی ناصحانہ باتوں کے اثر سے غیر مقلدیت سے حنفیت کی جانب رجوع کر لیا اور یوں وہ اپنے مسلک کو چھوڑکر اہل السنۃ والجماعۃ احناف میں شامل ہو گئے۔ اس بارے میں آپ کا اپنا مضمون "'''میں حنفی کیسے بنا؟'''" مطبوعہ مجموعہ رسائل صفدری قابل دید ہے۔
 
== بیعت و تحفظِ دین حنیف ==
مفتی بشیر احمد پسوری کی تلقین سے آپ عالم دین مولانا [[احمد علی لاہوری]] سے بیعت ہوئے اور ان کی خصوصی توجہات کا مرکز بنے۔ والدین کی تربیت، طبعی نفاست پسندی اور سب سے بڑھ‌بڑھ کر [[احمد علی]] لاہوری کی شفقت و‌محبتومحبت اور خصوصی تعلق نے آپ کی روحانیت میں نہ صرف کہ نکھار ہی پیدا کر دیا تھا بلکہ حنفیت کے میدان میں ایسا سکہ جمایا کہ تاحال مسلک حنفيہ کی ترویج و‌اشاعتواشاعت اور تحفظ و‌خدمتوخدمت کے میدان میں آپ کا ثانی نہیں ہے۔
 
== عشقِ رسول ==
آپ کے روز و‌شبوشب خدمت دین حنیف میں گزرتے۔ کثرت درود و‌اتباعواتباع سنت کی وجہ سے عشق رسول اللہﷺ بحظ وافر نصیب ہوا تھا، قریشی صاحب کو آپ نے خود کہا تھا کہ:
 
[[احمد علی لاہوری]] کی دعاؤں اور کثرت درود اور اللہ تعالیٰ کے محض فضل وکرم سے مجھے خواب میں نبی اقدسﷺ کی زیارت ہوئی تو میں نے دربار نبویﷺ میں عرض کیا کہ حضور! میں مسائل یاد کرتا ہوں، احادیث پڑھتا ہوں، آپ کی ہدایات کو یاد کر کے عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا ہوں مگر یاد نہیں رہتیں! تویہ ارشاد فرماتے ہوئے نبی اقدس صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعابِ دہن میرے ہونٹوں پر لگاتے ہوئے فرمایا کہ "انشاء اللہ اب ایسا نہیں ہوگا"۔
== بطورِ اسکول ٹیچر ==
امین صفدر اوکاڑوی بعض حالات کی وجہ سے مجبوراً پرائمری اسکول میں ٹیچر تعینات ہوئے۔ اسکول سے فراغت کے بعد وہ باقی وقت عربی و‌فارسیوفارسی دینی کتب کا مطالعہ اور تبلیغ دین میں مصروف رہتے چنانچہ آپ نے اپنے گاؤں میں دو مرتبہ مکمل قرآن حکیم کا درس بھی دیا، آپ کے پیر و مرشد مولانا [[احمد علی لاہوری]] کی دعاؤں اور توجہات نے آپ کو دین حنیف کا سپاہی بنا دیا۔
 
== فتنوں کی سرکوبی ==
فرق باطلہ۔..خصوصاً مرزائیوں اور عیسائیوں و‌روافضوروافض اور منکرین فقہ کے ساتھ کراچی سے خیبر تک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً ایک سو سے زائد مناظرے کیے جن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر جگہ سرخرو کیا جس سے ہزاروں لوگ اہل باطل کے دام فریب سے نکلنے میں نہ صرف کامیاب ہی ہوئے بلکہ حضرت نے تعمیری تنقید کا ایک نیا اسلوب متعارف کروا کر معاشرے کو تقریب پسند اور تفرقہ باز جماعتوں کے گھناؤنے اثرات سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
== خدمت دین ==
مدارس عربیہ، علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن [[کراچی]] کی نشر و‌اشاعتواشاعت کے مراکز اور اسلام کا قلعہ ہونے کے ساتھ ساتھ دین حنیف کو یلغار باطل سے محفوظ رکھنے کے لیے ڈھال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کو مدارس دینیہ کے اجرا، سرپرستی اور تعاون کا ذوق اپنے اکابر سے ورثہ میں ملا تھا، آپ نے اپنے گاؤں میں ذاتی زمین پر ایک مکتب قرانی تعمیر کروایا، خود مفتی احمد الرحمٰن صاحب کے حکم پر اسکول کی نوکری چھوڑ کر ایک طویل عرصہ تک جامعہ العلوم الاسلاميہ علامہ بنوري ٹاؤن [[کراچی]] میں درس و‌تدریسوتدریس کے فرائض انجام دیتے رہے، ان کے وصال کے بعد جامعہ خير المدارس ملتان کے رئيس حضرت مولانا قاری [[محمد حنیف]] صاحب جالندھری دامت بركاتہم کے بار بار اصرار پر ١٤١٤‌ھ١٤١٤ھ میں ملتان تشریف لے گئے اور تاحیات جامعہ خير المدارس ملتان میں شعبہ تخصص فی الدّعوۃ والارشاد کے رئیس رہے۔ علاوہ ازین شعبان و‌رمضانورمضان کی سالانہ چھٹیوں میں ملک و‌بیرونوبیرون ملک دیگر مدارس اسلامیہ میں دورہ پڑھانے اور وقتاً فوقتاً مناظروں اور جلسوں سے خطاب کے لیے تشریف لے جاتے۔
== اسلاف کی سرپرستی ==
حضرت اوکاڑوی اصول و‌فروعوفروع میں اپنے اکابر علما دیوبند پر اعتماد کو اس دور پرفتن میں ہر فتنہ کا علاج سمجھتے ہوئے ہمیشہ اس کی اہمیت و‌افادیتوافادیت بیان فرماتے۔ اگرچہ تعمیری تنقید اور حنفیت کی تحقیق میں وہ مجتہدانہ شان کے مالک تھے تاہم عجز و‌انکساروانکسار کا پیکر مجسم تھے اور اپنی زندگی کے آخری دور میں سرفراز خان صفدر (گوجرانوالہ) کی تحقیقات اور علمی کاوشوں سے بڑی حد تک متاثر تھے۔ ان سے آپ کا بڑا گہرا روحانی تعلق بھی تھا۔ آپ اس دور کے نزاعی مسائل میں اپنے اکابر کی تحقیق کو حرف آخر سمجھتے اور تحقیق کے نام پر اس سے انحراف کو انتہائی بری نظر سے دیکھتے تھے۔ جناب عمر الدین قریشی صاحب سے چونکہ ان کی بچپن سے دوستی تھی اس لیے اکثر دونوں میں بے تکلفانہ گفتگو رہتی بلکہ امین صفدر اوکاڑوی اکثر عمر الدین قریشی کو مناظروں میں بھی ساتھ رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ عمر الدین قریشی نے ان سے عرض کیا؛ "امین صاحب! کبھی جناب نے سوچا بھی ہے کہ اتنا بڑا منصب (کہ جہاں بڑے بڑے علما کرام و‌مفتیانومفتیان عظام کے استاذ بنے بیٹھے ہیں) آپ کو کس وجہ سے ملا؟" تو برکلا فرمایا؛ "[[احمد علی لاہوری]] کی دعاؤں اور سرفراز خان صفدر کی شفقت، اپنے اکابر پر اعتماد اور علما کرام کی محبت سے !"
== اشاعتِ دین ==
آپ نے ماہنامہ بینات کراچی، ماہنامہ الحنفیہ جام پور، ماہنامہ الخیر ملتان وغیرہ میں حنفیت کی ترویج و‌اشاعتواشاعت و‌تحفظوتحفظ میں بے شمار مضامین لکھے اور بہت سی کتب بھی تصنیف فرمائیں جن کو اکابر و‌اصاغرواصاغر قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور رہتی دنیا تک علما و‌طلبہوطلبہ ان سے مستفید ہوتے رہیں گے۔
== طرزِ زندگی ==
آپ نے نہایت بے تکلف اور سادہ زندگی گزاری، حتٰی کہ تقریروں اور مناطروں میں بھی بات کرنے کا انداز بالکل سادہ مگر محققانہ تھا۔ کھانے پینے، لباس، نشست و‌برخاستوبرخاست میں بھی کسی تکلف و‌امتیازوامتیاز کے روادار نہ تھے۔
== وفات ==
نقاہت اور بیماری کے آثار ایک طویل عرصہ سے نمایاں تھے، علاج جاری تھا کہ 3 شعبان المعظم 1421‌ھ1421ھ بمطابق 13کتوبر 2000ء کو طبیعت زیادہ خراب ہو گئی اور منگل اور بدھ کی درمیانی شب رات نو بجے کے قریب اپنے آبائی گاؤں (اورکاڑہ) میں دین حنیف کے عالمی ترجمان نے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کردی۔<ref>حدیث اور سنت میں فرق، از مولانا امین صفدر اوکاڑوی،میں حنفی کیسے بنا، از مولانا امین صفدر اوکاڑوی، انوارات صفدر، از حضرت مولانا محمد محمود عالم صفدر اوکاڑوی</ref>
 
== حوالہ جات ==
[[زمرہ:1934ء کی پیدائشیں]]
[[زمرہ:2000ء کی وفیات]]
[[زمرہ:پاکستان کے سنی علما]]
[[زمرہ:پاکستانی اسلامی مذہبی رہنما]]
[[زمرہ:پاکستانی سنی]]
[[زمرہ:پاکستانی مذہبی مصنفین]]
[[زمرہ:مسلمان مبلغین]]