"فعل" کے نسخوں کے درمیان فرق

7 بائٹ کا ازالہ ،  1 سال پہلے
م
خودکار: درستی املا ← روزانہ، گذرا، گذرے؛ تزئینی تبدیلیاں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م (خودکار: درستی املا ← روزانہ، گذرا، گذرے؛ تزئینی تبدیلیاں)
'''فعل''' {{انگریزی نام|Verb}} وہ [[کلمہ]] جس کے معانی میں کسی کام کا کرنا یا ہونا پایا جائے اور جس میں تینوں زمانوں [[ماضی]]، [[حال]]، [[مستقبل]] میں سے کوئی ایک زمانہ موجود ہو۔ فعل کی زمانے کے لحاظ سے تین اقسام ہیں۔ '''فعل ماضی''' وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا گزرےگذرے ہوئے زمانے میں پایا جائے۔ '''فعل حال''' وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا موجودہ زمانے میں پایا جائے۔ '''فعل مستقبل''' ایسا فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا آنے والے زمانے میں پایا جائے۔
 
== فعل ==
# فعل مستقل
=== فعل ماضی ===
فعل ماضی اُس فعل کو کہتے ہیں جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا گزرےگذرے ہوئے زمانے میں پایا جائے۔
; یا
وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا گزرےگذرے ہوئے زمانے میں پایا جائے اسے فعل ماضی کہا جاتا ہے۔
; مثالیں
عرفان نے [[چائے]] پی، عمران نے کام کیا، عدنان دوڑا، انیلا نے خط لکھا، اختر [[اسکول]] گیا، ان جملوں میں چائے پی، کام کیا، دوڑا، لکھا، گیا، فعل ماضی ہیں۔
وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا موجودہ زمانے میں پایا جائے اُسے فعل [[حال]] کہتے ہیں۔
; مثالیں
اسلم کھانا کھاتا ہے، سلیم کھیلتا ہے، اسلم [[کھانا]] کھا رہا ہے، طاہر [[پودا]] لگاتا ہے، سلمہ فرش دھوتی ہے۔ اِن جملوں میں کھاتا ہے، کھیلتا ہے، کھا رہا ہے، لگاتا ہے، دھوتی ہے فعل [[ماضی]] ہیں۔
=== فعل مستقبل ===
ایسا فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا آنے والے زمانے میں پایا جائے اسے فعل مستقبل کہتے ہیں۔
# ماضی شرطی یا تمنائی
=== ماضی مطلق ===
[[ماضی مطلق]] وہ [[فعل]] ہوتا ہے جو صرف گزرےگذرے ہوئے زمانے کو ظاہر کرتا ہے۔
; یا
ایسا فعل جو دُور یا قریب کی قید کے بغیر گزرےگذرے ہوئے زمانے کو ظاہر کرتا ہے [[ماضی]] مطلق کہلاتا ہے۔
; یا
وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا یا ہونا مطلق گزرےگذرے ہوئے زمانے میں پایا جائے۔
; مثالیں
عارف نے [[کتاب]] پڑھی، ناصر [[لاہور]] گیا، حنا نے [[خط]] لکھا، راشدہ نے [[کھانا]] کھایا، وغیرہ اِن جملوں میں پڑھی، گیا، لکھا اور کھایا ماضی مطلق ہے۔
|}
=== ماضی قریب ===
ماضی قریب اُس فعل کو کہتے ہیں جس میں قریب کا گزراگذرا ہوا زمانہ پایا جائے۔
; یا
ایسا فعل جو قریب کے گزرےگذرے ہوئے زمانے میں ہوا ہو اسے فعل ماضی قریب کہا جاتا ہے۔
; یا
فعل [[ماضی قریب]] وہ فعل ہوتا ہے جس میں کسی کام کا ہونا قریب کے زمانے میں ہو۔
وہ فعل ہوتا جس میں کسی کام کا ہونا یا کرنا دُور کے زمانے میں پایا جائے۔
; یا
وہ فعل جو دُور کے گزرےگذرے ہوئے زمانے میں ہوا ہو اسے ماضی بعید کہا جاتا ہے۔
; مثالیں
سلمیٰ نے خط لکھا تھا، عرفان نے سبق پڑھا تھا، سیما سیب لائی تھی، اسلم سویا تھا، شاہدہ نے حلوا پکایا تھا، انیلا کرسی پر بیٹھی تھی، اِن جملوں میں لکھا تھا، پڑھا تھا، لائی تھی، سویا تھا، پکایا تھا، بیٹھی تھی، ماضی بعید ہیں۔
|}
=== ماضی استمراری ===
ماضی استمراری اُس [[فعل]] کو کہتے ہیں جس میں گزراگذرا ہوا زمانہ جاری حالت میں پایا جائے۔
; یا
ایسا فعل جو گزرےگذرے ہوئے زمانے میں کسی کام کے بار بار ہونے یا جاری رہنے کو ظاہر کرے اسے ماضی استمراری کہتے ہیں۔
; یا
ماضی استمراری وہ فعل ہے جو کسی کام کے بار بار ہونے یا جاری رہنے کو ظاہر کرے اسے ماضی استمراری کہتے ہیں۔
; مثالیں
عدیل صبح سویرے اُٹھتا تھا، ارم کھانا کھا رہا تھی، ہم ہر روز سیر کو جایا کرتے تھے، علی پڑھتا تھا، نجمہ لکھتی تھی، اصغر کھاتا تھا، اسلم روزآنہروزانہ [[اسلام آباد]] جاتا تھا، اِن جملوں میں اُٹھتا تھا، کھا رہا رتھا، جایا کرتے تھے، پڑھتا تھا، لکھتی تھی، کھاتا تھا، جاتا تھا ماضی استمراری ہیں۔
; ماضی استمراری بنانے کا قاعدہ
مصدر کی علامت ”نا“ دُور کرکے، ”تا تھا“ یا ”رہا تھا“ لگانے سے [[ماضی استمراری]] بن جاتا ہے جیسے کھانا کا ”نا“ دُور کر کے ”تا تھا“ اور ”رہا تھا“ لگانے سے ”کھاتا تھا“ یا ”کھا رہا تھا“ ماضی استمراری بن جاتا ہے۔
|}
=== ماضی شکیہ ===
ماضی شکیہ وہ [[فعل]] ہے جس میں گزراگذرا ہوا زمانہ شک کے ساتھ پایا جائے۔
; یا
ایسا فعل جس میں گزراگذرا ہوا [[زمانہ]] شک کے ساتھ پایا جائے [[ماضی شکیہ]] کہلاتا ہے۔
; یا
وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا یا ہونا گزرےگذرے ہوئے زمانے میں شک کے ساتھ پایا جائے [[ماضی]] شکیہ کہلاتا ہے۔
; مثالیں
سیما نے [[نماز]] پڑھی ہوگی، عرفان [[مسجد]] گیا ہوگا، عرفان نے [[چاند]] دیکھا ہوگا، اشرف نے [[خط]] لکھا ہوگا، نسرین نے سبق پڑھا ہوگا، قنبر نے کھانا کھایا ہوگا، اِن جملوں میں پڑھی ہوگی، گیا ہوگا، دیکھا ہوگا، لکھا ہوگا، پڑھا ہوگا، کھایا ہوگا، فعل ماضی شکیہ ہیں۔
; ماضی شکیہ بنانے کا قاعدہ
مصدرسے ماضی مطلق بنا کر آخر میں ہو گا بڑھا دیتے ہیں جیسے [[دیکھنا]] مصدر سے دیکھا ماضی مطللق بناتے ہیں اور آخر میں ہو گا لگانے سے دیکھا ہو گا ماضی شکیہ بن جاتا ہے۔
|}
=== ماضی شرطی یا تمنائی ===
ایسا فعل جس میں گزرےگذرے ہوئے زمانے میں کسی کام کے ساتھ کوئی تمنا یا شرط پائی جائے اُسے ماضی شرطی یا تمنائی کہتے ہیں۔
; یا
وہ فعل جس میں گزرےگذرے ہوئے زمانے میں کسی ہونے والے کام کے ساتھ تمنا یا شرط پائی جائے تو ایسے فعل کو فعل ماضی تمنائی یا شرطی کہتے ہیں۔
; یا
ایسا فعل جس میں کسی کام کے کرنے یا ہونے میں گزرےگذرے ہوئے زمانے میں کوئی تمنا یا شرط پائی جائے اُسے ماضی تمنائی یا شرطی کہتے ہیں۔
; مثالیں
کاش وہ سچ بولتا، اگر اسلم محنت کرتا تو کامیاب ہو جاتا، حنا کراچی آتی تو چڑیا گھر دیکھتی، کاش تم سبق پڑھتے، اگر انیلا خط لکھتی، اِن جملوں میں بولتا، کامیاب ہو جاتا، دیکھتی، پڑھتے، لکھتی ماضی شرطی یا تمنائی ہیں۔
<ref>آئینہ اردو قواعد و انشاء پرزادی</ref><ref>آئینہ اردو</ref>
 
[[زمرہ:فعل|فعل ]]
[[زمرہ:اجزائے کلام]]
[[زمرہ:اردو قواعد]]
111,622

ترامیم