"اسرائیل پاکستان تعلقات" کے نسخوں کے درمیان فرق

(←‏سفارتی تعلقات: غیر ضروری استعمال)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
 
فلسطین کی جانب سے اسرائیل کے تسلیم کیے جانے کو پاکستان کچھ دانشور طبقوں کی جانب سے پسندیدگی کی نظروں سے نہیں دیکھا گیا۔ اس کی وجہ سے کچھ عرب حکومتیں جو اسرائیل کے ساتھ امن قائم کرنا چاہتے ہیں شدید تنقید کا نشانہ بنے۔ ان لوگوں کی دیکھا دیکھی کرتے ہوئے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی بجائے یہ لوگ پاکستان کے انکار کو ان تمام اسلامی ممالک کے لیے نمونہ قرار دیتے ہیں جو اسرائیل کے ساتھ سلامتی کے طلب گار ہیں۔ ایک تبصرہ نگار کے الفاظ اس طرح تھے:
{{اقتباس|فلسطین کے یاسر عرفات اور اردن کے شاہ حسین کی طرح اسرائیل کو تسلیم کرنا... گویا القدس شریف کے قبضے کو تسلیم کرنا ہے۔ اگر (خدانخواستہ)، اسرائیل [[مکہ]] و [[مدینہ]] پر قبضہ کرے اور عرب ممالک اسے تسلیم کریں، تو کیا باقی [[عالم اسلام]] اسے تسلیم کرے گا؟ }}<ref name="institutobrasilisrael">{{cite web |last1=پی آر |first1=کماراسوامی |title=پردے کے پیچھے اسرائیل پاکستان تعلقات |url=http://institutobrasilisrael.org/cms/assets/uploads/_BIBLIOTECA/_PDF/democracia-e-sociedade-israelense/4766c3f1ea0a333fdf43b17de01ade0f.pdf |website=http://institutobrasilisrael.org |publisher=جیف ریسرچ سنٹر فار اسٹریٹیجیک اسٹڈیز |accessdate=21 ستمبر 2018 |archiveurl=https://web.archive.org/web/20181224210656/http://institutobrasilisrael.org/cms/assets/uploads/_BIBLIOTECA/_PDF/democracia-e-sociedade-israelense/4766c3f1ea0a333fdf43b17de01ade0f.pdf%20 |archivedate=2018-12-24 |url-status=live }}</ref>
 
اسرائیل کے سابق سفیر برائے [[بھارت]] [[مارک سوفر]] کئی منفرد اقدامات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کوششوں میں کچھ ایسی کوششیں شامل تھیں جن کا بظاہر مقصد یہ تھا کہ بھارت کے مسلمانوں کو اسرائیل کے نزدیک لانا اور اسرائیلی سفارت خانے کے دائرۂ کار کو برصغیر میں توسیع دینا۔ ان ہی اقدامات میں سے ایک اقدام یہ بھی تھا کہ بھارت میں موجود اسرائیلی سفارت خانے کی [[ویب سائٹ]] کو [[ہندی زبان|ہندی]] اور [[اردو زبان|اردو]] دونوں زبانوں میں جاری کرنا۔ یہ دعوٰی کیا جاتا ہے کہ بھارت میں کسی بھی بیرونی سفارت خانے نے اپنی ویب سائٹ کو بہ یک وقت ہندی اور اردو میں جاری نہیں کیا۔ کچھ سفارت خانوں نے اپنی ویب سائٹ کا ہندی میں ترجمہ ضرور کیا ہے، مگر یہ ترجمہ [[ہندی زبان]] کے بھارت میں سرکاری موقف، بیش تر ثقافتی نوعیت اور جذبہ خیر سگالی کے طور پر کیا گیا ہے۔ ہندی کے بر عکس اردو بھارت کے زیر قبضہ [[جموں و کشمیر]] میں سرکاری زبان کا درجہ رکھتی ہے اور کچھ ریاستی حکومتوں کی جانب سے دوسری سرکاری زبان کا موقف حاصل کر چکی ہے۔ تاہم اردو بھارت کے زیادہ تر جدید اسکولوں میں نہیں پڑھائی جاتی ہے اور اس وجہ سے اکثر غیر مسلم اور کئی مسلمان نوجوان اس زبان اور اس کے [[رسم الخط]] سے بالکل ناآشنا ہیں۔ پھر بھی [[اسلامی ادب|مسلمانوں کے مذہبی ادب]] کی اس زبان میں موجودگی اور دینی مدارس کی اس زبان میں ذریعہ تعلیم کی وجہ سے اردو زبان کو عام طور سے مسلمانوں سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ لہذا یہ واضح کیا گیا کہ اسرائیلی سفارت خانہ بھارت کے مسلمانوں کو اپنی جانب راغب کرنا چاہتا ہے اور یہ ایک سرکاری طور پر کوشش ہے۔<ref>[http://www.jewishtimesasia.org/home-mainmenu-42/230-2008-09/1105-israel-embassy-launches-hindu-and-urdu-website{{مردہ ربط|date=January 2021 |bot=InternetArchiveBot }} اسرائیل سفارت خانہ ہندو اور اردو ویب سائٹ جاری کرتا ہے، جوئیش ٹائمز ایشیا، [[2008ء]]]</ref> اس بات کو مزید تقویت اس وجہ سے بھی حاصل ہوئی کہ [[3 ستمبر]] [[2008ء]] کو مارک سوفر [[اجمیر]] پہنچ کر وہ [[خواجہ معین الدین چشتی]] کی درگاہ پر حاضری دیے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا جب کسی اسرائیلی سفارت کار نے کسی مسلمان [[درگاہ]] یا مقام زیارت پر حاضری دی ہو۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس موقع پر دنیا میں قیام امن کے لیے [[تصوف]] کی بھی پر زور حمایت کی۔ انہوں نے تصوف کا موازنہ [[قبالہ]] سے کیا جو یہودیوں میں تصوف کی ایک قسم ہے۔<ref name=timesofindia-1>{{Cite web |url=http://articles.timesofindia.indiatimes.com/2008-10-05/india/27923837_1_india-and-israel-indian-jews-palestine |title=بھارت اور اسرائیل تعلقات: وابستگی گزرتے وقت کے ساتھ اور گہری ہوتی جا رہی ہے، ویویہ اے، ٹائمز آف انڈیا، 5 اکتوبر، 2008ء |access-date=2018-09-21 |archive-date=2012-09-19 |archive-url=https://web.archive.org/web/20120919213711/http://articles.timesofindia.indiatimes.com/2008-10-05/india/27923837_1_india-and-israel-indian-jews-palestine |url-status=dead }}</ref>
104

ترامیم