"ابو طالب بن عبد المطلب" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
برائے اظہارِ حق
م (ابوطالب ابن عبدالمطلب کے تعارف میں لکھاگیا باب فقط ایک مخصوص گروہ کے عقائد کی ترجمانی پر مشتمل ہے اور اس میں وکیپیڈیا کے معیار کے برعکس تحریر درج ہے۔ اور لکھی گئی تحریر تعصب اور کینہ پر مبنی ہے۔)
(ٹیگ: بصری خانہ ترمیم ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
م (برائے اظہارِ حق)
(ٹیگ: بصری خانہ ترمیم ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
ایمانِ ابوطالب پہ مسالکِ اسلام میں اختلاف ہے ۔ اہلسنت حنفی بریلوی اور اہل التشیع ابوطالب کے ایمان کے قائل ہیں جبکہ اہلسنت حنفی دیوبندی اور اہل الحدیث ایمانِ ابوطالب سمیت حضور صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والدین اور دادا کے ایمان کے بھی منکر ہیں ۔ درج ذیل دلائل عقیدۂ منکرینِ ایمانِ ابوطالب کے مطابق ہیں ۔ جبکہ قائلینِ ایمانِ ابوطالب کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آبا و اجداد کامل مومنین تھے۔
 
آپ نے [[اسلام]] قبول نہی کیا تھا۔ اس پر اختلاف ہے۔ لیکن آپ نے تاحیات حضور {{درود}} کا ساتھ دیا۔ ان کی [[بت پرستی]] کی روایات میں اختلاف ہے لیکن کعبہ میں موجود بُتوں کے وہ ساری زندگی نگران رہے اور مشرکین کے حج میں مشرکین کے طعام اور کعبہ کی دیکھ بھال کا انتظام آپ ہی کے پاس تھا۔ آپ نے اسلام آنے سے پہلے حضور کا نکاح حضرت خدیجہ ع سے کیا اور ابراہیمی طرز کے مطابق نکاح پڑھا، جو کسی کے ایمان لانے کا ایک اہم ثبوت ہے۔ کیونکہ ایک کافر سے نکاح پڑھوانا باطل اور ناجائز ہے اور اس سے توہین رسالت ہوتی ہے کہ ایک کافر نے حضور {{درود}} کے نکاح پڑھے۔ سیدنا مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:پڑھے
 
دلیل۔1۔ سیدنا مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
 
أَنَّ أَبَا طَالِبٍ لَمَّا حَضَرَتْهُ الوَفَاةُ، دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ، فَقَالَ : أَيْ عَمِّ، قُلْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ : يَا أَبَا طَالِبٍ، تَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ المُطَّلِبِ، فَلَمْ يَزَالاَ يُكَلِّمَانِهِ، حَتَّى قَالَ آخِرَ شَيْءٍ كَلَّمَهُمْ بِهِ : عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ المُطَّلِبِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ، مَا لَمْ أُنْهَ عَنْهُ فَنَزَلَتْ : ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الجَحِيمِ﴾ (التوبة : 113) وَنَزَلَتْ : ﴿إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾ (القصص : 56)
 
”جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بن المغیرہ کو دیکھا تو فرمایا : اے چچا ! لا اله الا الله کہہ دیں کہ اس کلمے کے ذریعے اللہ کے ہاں آپ کے حق میں گواہی دے سکوں۔ اس پر ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ کہنے لگے : اے ابوطالب ! کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے منحرف ہو جائیں گے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل اپنی بات ابوطالب کو پیش کرتے رہے اور بار بار یہ کہتے رہے، حتیٰ کہ ابوطالب نے اپنی آخری بات یوں کی کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر ہیں۔ انہوں نے لا اله الا الله کہنے سے انکار کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے جب تک روکا نہ گیا، اللہ تعالیٰ سے آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما دیں : ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الجَحِيمِ﴾ (التوبة : 113) ”نبی اور مؤمنوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے استغفار کریں، اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، اس کے بعد کہ انہیں ان کے جہنمی ہونے کا واضح علم ہو جائے۔“
 
رد دلیل۔1۔
 
اس روایت کی سند میں سعید بن مسیب وہ شخص ہے جو امیرالمؤمنین(ع)کی دشمنی کے حوالے سے جانا جاتا تھا اور علی(ع)سے اس کا انحراف واضح ہے چنانچہ کسی کے بارے میں دشمن اور معاند شخص کی روایت سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔
 
بخاری ہی نے اپنی کتاب میں برائت کے نزول کے بارے میں لکھا ہے: "'''عن الْبَرَاء رضى الله عنه قَالَ آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ بَرَاءَة"۔'''
 
ترجمہ: براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت سورہ برائت ہے"۔
 
بہرصورت تاریخ گواہ ہے کہ ابو طالب(ع) نے بعثت کے دسویں سال مکہ میں وفات پائی ہے اور اس سال کو نبی اکرم(ص) نے ابو طالب(ع) اور سیدہ خدیجۃالکبری(س) کی وفات کی بنا پر عام الحزن (یا صدمے کا سال) کا نام دیا ہے جبکہ سورہ توبہ اور آیت 113 سمیت اس کی تمام آیتیں دس سال بعد مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور سورہ برائت مشرکین کو پڑھ کر سنانے کے لئے علی(ع)کا مکہ روانہ کرنے کا واقعہ تاریخ کے ماتھے پر جھلک رہا ہے۔
 
 
﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴾ (القصص : ٥٦) ”بے شک آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاه ہے۔“ ( صحیح البخاری : 3884 )
 
رد دلیل۔2۔
 
اس آیت کے شان نزول کا ایمان ابوطالب سے کوئی تعلق نہیں تفصیل کے لیے امام فخرالدین رازی کی تفسیر سے رجوع کریں۔
 
دلیل نمبر 3:
 
  ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا (ابوطالب) سے کہا «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کہہ دیں ۔ میں قیامت کے روز اس کلمے کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دوں گا ۔ انہوں نے جواب دیا : اگر مجھے قریش یہ طعنہ نہ دیتے کہ موت کی گھبراہٹ نے اسے اس بات پر آمادہ کر دیا ہے تو میں یہ کلمہ پڑھ کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی : ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴾ (28-القصص : ٥٦) ”یقیناً جسے آپ چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے ، البتہ جسے اللہ چاہے ہدیات عطا فرمادیتا ہے ۔“ ( صحیح مسلم : 55/1، ح:25)
 
رددلیل۔3۔
 
حضرت ابوھریرہ کا یہ واقع بیان کرنا ہی اس روایت کے ابطال کے لیے کافی و شافی ہے کیونکہ حضرت ابوھریرہ فتح مکہ کے بعد ایمان لائے اور وصال ابوطالب کے وقت انکی موجودگی ہی بعید ازعقل ہے۔
 
 
 
دلیل نمبر 4 :
 
”اے اللہ کے رسول ! کیا آپ نے ابو طالب کو کوئی فائدہ دیا – وہ تو آپ کا دفاع کیا کرتے تھے اور آپ کےلیے<ref>اس جملے کو اس کے ذرایع سے دوبارہ دیکھیں۔ اس میں گرائمر کی غلطی ہے۔ اصل جملے میں [ لیے] کا لفظ نہیں تھا۔ </ref>دوسروں سے غصے ہو جایا کر تے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! ( میں نے اُنہیں فائُدہ پہنچایا ہے ) وہ اب با لائی طبقے میں ہیں۔ اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے نچلے حصے میں ہو تے۔“ (صحیح البخاری : 548/1، ح : 3883، صحیح المسلم : 115/1۔ ح : 209)
 
 
 
حا فظ سہیلی رحمہ اللہ (ھ581-508) فرماتے ہیں :
فھذا شان من مات علي الكفر، فلو كان مات علي التوحيد لنجا من النار أصلا والاحاديث الصححة والاخبار المتكاثرة طاقحة بذلك ”یہ صورت حال تو اس شخص کی ہوتی ہےجو کفر پر فوت ہوا ہو۔ اگر ابوطالب توحید پر فوت ہوتے تو آگ سے مکمل طور پر نجات پا جاتے۔ لیکن بہت سی احادیث و اخبار اس (کفر ابو طالب) سے لبریز ہیں-“ (الاصابته في تميز الصحابته لابن حجر : 241/7)
 
رد دلیل ۔4۔5
 
اس روایت سے ایمان ابوطالب ثابت ہوتا ہے اور یہ روایت اوپر دی گئی 3 دلیلوں کو باطل کرتی ہے۔ وہ اس طرح کے خدا کے حضور کسی گناہگار کی سفارش کرنا اور اسے عذاب میں نرمی دلانا یا عذاب سے چھڑانا شفاعت کہلاتا ہے۔ اور اگر ابوطالب نعوذبااللہ مشرک تھے تو مشرک شفاعتِ رسولؐ پا ہی نہیں سکتا ۔ اور روایت چونکہ بتا رہی ہے کہ ابوطالب کے عذاب میں رسولؐ پاک کی وجہ سے کمی آئی تو ثابت ہوا کہ ابو طالب مسلمان تھے تبھی تو شفاعت ِ رسولؐ انہیں نصیب ہوئی
 دلیل نمبر 5 :
 
انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آپ کے چچا (ابوطالب) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”شاید کہ ان کو میری سفارش قیامت کے دن فائدہ دے اور ان کو جہنم کے بالائی طبقے میں رکھا جائے جہاں عذاب صرف ٹخنوں تک ہو اور جس سے (صرف) ان کا دماغ کھولے گا۔“ (صحیح البخاری : 548/1، ح3885، صحیح المسلم : 115/1، ح210)
 
 
دلیل نمبر6 :
رد دلیل ۔4۔5
 
اس روایت سے ایمان ابوطالب ثابت ہوتا ہے اور یہ روایت اوپر دی گئی 3 دلیلوں کو باطل کرتی ہے۔ وہ اس طرح کے خدا کے حضور کسی گناہگار کی سفارش کرنا اور اسے عذاب میں نرمی دلانا یا عذاب سے چھڑانا شفاعت کہلاتا ہے۔ اور اگر ابوطالب نعوذبااللہ مشرک تھے تو مشرک شفاعتِ رسولؐ پا ہی نہیں سکتا ۔ اور روایت چونکہ بتا رہی ہے کہ ابوطالب کے عذاب میں رسولؐ پاک کی وجہ سے کمی آئی تو ثابت ہوا کہ ابو طالب مسلمان تھے تبھی تو شفاعت ِ رسولؐ انہیں نصیب ہوئی نمبر6 :
 
سیدنا عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
 
”جہنمیو ں میں سب سے ہلکے عذاب والے شخص ابو طالب ہوں گے۔ وہ آگ کے جوتے پہنے ہوں گے جن کی وجہ سے اُن کا دماغ کھو ل رہا ہو گا۔“ (صحیح المسلم : ح : 515)
 
رد دلیل۔6۔
 
اس حدیث یا روایت کو کتب میں حدیث ضحضاح کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
 
اولاً: حدیث ضحضاح کے بارے میں تمام منقولہ اقوال کا راوی مغیرہ بن شعبہ ہے جو بنوہاشم کے حق میں ایک بخیل (اور بقولے ظنین اور متہم) شخص ہے کیونکہ ان کے ساتھ اس کی دشمنی مشہور ہے اور وہ ان کے ساتھ دشمنی کا اظہار کرتا تھا؛ اور مروی ہے کہ ایک دفعہ اس نے شراب نوشی کی اور جب نشہ چڑھ گیا تو کسی نے پوچھا: بنو ہاشم کی امامت کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے تو اس نے کہا: خدا کی قسم! میں کبھی بھی کسی ہاشمی کے لئے خیر و خوبی نہیں چاہتا؛ مغیرہ علاوہ ازيں فاسق شخص تھا۔ ابن ابی الحدید کہتے ہیں: محدثین و مفسرین کا کہنا ہے کہ حدیث ضحضاح کو سب نے ایک ہی شخص سے نقل کیا ہے اور وہ شخص مغیرہ بن شعبہ ہے جس کا بغض بنو ہاشم بالخصوص علی علیہ السلام کی نسبت مشہور و معلوم ہے اور اس کا قصہ (قصۂ زنا) اور اس کا فسق ایک غیر مخفی امر ہے۔۔
 
ثانیاً: فرض کریں کہ اگر ابو طالب(ع) مؤمن اور مسلمان نہ ہوتے تو پھر رسول خدا(ص) کی طرف سے ان کے لئے شفاعت کی امید چہ معنی دارد؟ جب کہ شفاعت مشرک اور کافر کے شامل حال ہوتی ہی نہیں۔
 
دلیل نمبر 7 :
 
یہ حدیث نص قطعی ہے کہ ابوطالب مسلمان نہیں تھے۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ تک نہیں پڑھی۔
 
رد دلیل۔7۔
 
درج بالا روایت کی رد کے لیے یہی کافی ہے کہ ان 3 روایات کے راویان میں میں مجہول، کاذب اور نواصب راوی ہیں لہذا ان پہ بحث و جرح کا جواز ہی نہیں ۔ حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو رجال کشی ،رجالِ نجاشی
 
دلیل نمبر 8:
 
وَلَوْلَا مَا نَهَانَا اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ لِلْمُشْرِكِينَ، لَاسْتَغْفَرْنَا لابي طَالب وترحمنا عَلَيْهِ ”اگر اللہ تعالیٰ نی ہمیں مشرکین کے لیے استغفار کرنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو ہم ابوطالب کے لیے استغفار کر تے اور اُن کے لیے رحم کی دعا بھی کرتے!“ (سیرةالرسول ابن کثیر:132/2)
 
رد دلیل۔8۔
 
دلیل نمبر 8 میں بیان کردہ روایات چونکہ دلیل 4 اور 5 سے متصادم ہیں لہذا نواصب حضرت ابوطالب علیہ السلام کو نعوذبااللہ کافر قرار دینے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگانے کے بعد اپنے بیانات کے تضاد کی وجہ سے اپنے عقیدہ میں باطل ہیں
 
*
9

ترامیم