"نظام الدین جہان آبادی" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
'''خواجہ شیخشاہ نظام الدین اورنگ آبادی''' صدیقی خاندان کے چشم و چراغ تھےاور چشتیہ کے اکابرین سےتھے۔انہیں ہی شاہ نظام الدین جہاں آبادی بھی کہا جاتا ہے۔
== ولادت ==
آپ کی ولادت [[1071ھ]] مکراون میں ولادت ہوئی
== سلسلہ نسب ==
سلسلہ نسب [[شہاب الدین سہروردی|شیخ شہاب الدین سہروردی]] کے واسطہ سے [[ابوبکر صدیق]] کا ختم ہوتا ہے غور سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے اور پورب میں قیام کیا علاقہ کونسا تھا اس بارے میں مختلف آراء ہیں لکھنؤ کے مضافات میں مکراون گاؤں ان کا مسکن تھا اور کاکوری بھی کہا گیا بیت ہوئے منازل سلوک طے کی خلافت ملی اور دکن جانے کا حکم ہلا اورنگ آباد میں قیام کیا اور سلسلہ رشد و ہدایت میں پوری محنت کی ذکروفکر کا اجرا کیا خلق خدا کی خدمت کی ہمیشہ با جماعت نماز ادا کرتے صاحب علم تھے آپ کی تصنیف نظام القلوب جو تصوف کے قاری کے لیے عمدہ رہنما ہے 21 فصلوں پر محیط ہے یہ کتاب احکام پر مبنی ہے <br>
== بیعت و خلافت ==
آپ کو پانچ صاحبزادے عطا ہوئے سارے دین متین کے مبلغ ہوئے ایک صاحبزادے خواجہ فخرالدین کو اپنی نسبت سے نوازا سب سے بڑے بیٹے کو خواجہ کامگار کا مرید بنایا فخرالدین کو خلافت اور مسند نشینی دی
[[کلیم اللہ جہان آبادی|شاہ کلیم اللہ جہاں آبادی]] سے بیعت ہوئے منازل سلوک طے کی خلافت ملی اور دکن جانے کا حکم ملا اورنگ آباد میں قیام کیا اور سلسلہ رشد و ہدایت میں پوری محنت کی ذکروفکر کا اجرا کیا خلق خدا کی خدمت کی ہمیشہ با جماعت نماز ادا کرتے صاحب علم تھے
== تصنیف ==
آپ کی تصنیف نظام القلوب جو تصوف کے قاری کے لیے عمدہ رہنما ہے 21 فصلوں پر محیط ہے یہ کتاب احکام پر مبنی ہے
== اولاد ==
آپ کو 5 صاحبزادے اور 7 صاحبزادیاں عطا ہوئیں
* شاہ عماد الدین
* مولوی محمد فخر الدین
* شاہ غلام کلیم اللہ
* محمد معین الدین خان
* غلام بہا الدین
آپ کو پانچ صاحبزادے عطا ہوئے سارے دین متین کے مبلغ ہوئے ایک صاحبزادےبیٹے خواجہ فخرالدین کو اپنی نسبت سے نوازا سب سے بڑے بیٹے کو خواجہ کامگار کا مرید بنایا فخرالدین کو خلافت اور مسند نشینی دی
== وصال ==
71 سال کی عمر پا کر شاہ نظام الدین نے بارہ11 ذوالقعدہ 1142[[1142ھ]] کو سفریسفر آخرت اختیار کیا اور اورنگ آباد میں دفن ہوئے۔<ref> بہار ِ چشت:110 ڈاکٹر محمد اسحق قریشی</ref>
== حوالہ جات ==