"زید بن ثابت" کے نسخوں کے درمیان فرق

37 بائٹ کا ازالہ ،  1 مہینہ پہلے
م
خودکار: درستی املا ← بنا، کیے، 0، ہو گئی، 3، 2، 4، ہو گیا، 1، 5، 6، امرا، 7، 8، لیے، کر دیا
(مضمون میں اضافہ کیا ہے)
م (خودکار: درستی املا ← بنا، کیے، 0، ہو گئی، 3، 2، 4، ہو گیا، 1، 5، 6، امرا، 7، 8، لیے، کر دیا)
16 ھ اور 17ھ میں دو مرتبہ عمرکے حج کے موقع پر تیسری مرتبہ ان کے شام کے سفر کے زمانہ میں شام پہنچ کر زیدکو آپ نے جب خط لکھا تو اس میں زید کا نام اپنے نام سے پہلے تحریر کیا یعنی "الی زید بن ثابت من عمر بن الخطاب" ہر دفعہ زید نے خلافت کی ذمہ داریوں کو نہایت ہوشیاری اور مستعدی سے انجام دیا، عمران کے انتظام سے بہت خوش ہوتے اور واپس آکر ان کو کچھ جاگیر دیاکرتے تھے۔
== اصلاح امت ==
رسول اللہ ﷺ کے وصال کے ساتھ ہی انصار میں خلافت کا مسئلہ پیش ہوگیا،سقیفہہو گیا،سقیفہ بنی ساعدہ میں تمام انصار جمع تھے اور رئیس انصار سعد بن عبادہ مجلس کے صدر نشین تھے، انہی کے انتخاب پر لوگوں کی تقریریں ہورہی تھیں، انصار کی بڑی جماعت ان کی تائید میں تھی، حضرت زید بن ثابتؓ بھی جلسہ میں موجود تھے،مگر رجحان عام کے خلاف آواز بلند کرنا اس وقت کوئی آسان کام نہ تھا،اس لئےلیے خاموش تھے۔
اس کے بعد جب حضرت ابوبکرؓ،حضرت عمرؓ، حضرت ابو عبیدہؓ، سقیفہ میں پہنچے اور مہاجرین کی طرف سے حضرت عمرؓ نے خلافت کی بحث شروع کی تو سب سے پہلے جس انصاری نے ان کی تائید کی وہ حضرت زید بن ثابتؓ تھے، انصار کی تقریریں ختم ہونے کے بعد انہوں نے ایک مختصر مگر پر معنی تقریر کی جس کا ایک فقرہ یہ تھا:
إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَإِنَّمَا الْإِمَامُ يَكُونُ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَنَحْنُ أَنْصَارُهُ كَمَا كُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
<ref>(مسند احمد،باب حدیث زید بن ثابت عن النبی ﷺ،حدیث نمبر:۲۰۶۳۱20631)</ref>
یعنی رسول اللہ ﷺ مہاجرین میں سے تھے اس لئےلیے امام کا بھی مہاجرین میں سے انتخاب ہونا چاہیے اورہم اس کے انصار رہیں گے جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ کے انصار تھے۔
ان کی یہ صدا ان کی قوم کے خلاف تھی،تاہم کوئی اس کو دبانہ سکتا تھا، حضرت زیدؓ کی تقریر ختم ہوئی تو حضرت ابوبکرؓ نے کھڑے ہوکر تحسین کی اورکہا خدا تم کو جزائے خیر دے اگر اس کے علاوہ کوئی بات پیش کی جاتی تو غالباً ہم لوگ ماننے کے لئےلیے تیار نہ ہوتے۔
<ref>(ایضاً:۱۸۶186)</ref>
حضرت زیدؓ نے حضرت ابوبکرؓ کا ہاتھ پکڑا اور انصار سے کہا کہ ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔
آنحضرتﷺ کے مدینہ تشریف لانے کے بعد سلاطین ووالیان ملک کے خطوط وقتاً فوقتاً موصول ہوتے تھے جو اکثر سریانی میں ہوتے تھے،مدینہ میں سریانی جاننے والے صرف یہود تھے،جن کو اسلام سے شدید بغض وعناد تھا، اس بناءبنا پر مصلحت اوردور اندیشی کا تقاضا تھا کہ خود مسلمان اس زبان کو سیکھیں۔
حضرت زیدؓ بن ثابت نہایت ذکی اورفطین تھے ۵ھ میں آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس لوگوں کے خطوط آتے ہیں جن کو میں کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا اس کے سوا مجھے یہود پر اطمینان بھی نہیں اس لئےلیے بہتر ہے کہ تم عبرانی سیکھ لو،چنانچہ حضرت زیدؓ نے ۱۵15 دن میں عبرانی اورسریانی میں اس قدر مہارت حاصل کرلی کہ خطوط پڑھ لیتے اورجواب لکھ دیتے تھے۔
<ref>(مسند:۵5/۱۸۶186)</ref>
ان کی اسی ذہانت اور علم کی بناءبنا پر آنحضرت ﷺ نے ان کو کتابت کے عہدہ پر سرفراز فرمایا تھا،جس پر وہ آنحضرت کی وفات تک فائز رہے۔
حضرت ابوبکرؓ وحضرت عمرؓ کے عہدِ خلافت میں بھی ان کا یہ منصب بحال رہا؛ لیکن اب کام کی کثرت ہوگئیہو گئی تھی اس لئےلیے معیقیب دوسی ان کے مددگار مقرر کئےکیے گئے۔
حکومت اسلامیہ کا ایک جلیل القدر منصب قضا ہے جو حضرت فاروقؓ کے عہدِ میں قائم ہوا، (بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قضا حضرت عثمان ؓ کی ایجاد ہے لیکن یہ صحیح نہیں ،حضرت عمرؓ نے اپنی خلافت کے درمیانی عہد میں محکمہ قضا کو وجود کا لباس پہنادیا تھا،چنانچہ یزید بن اخت المنر کو محکمۂ قضا کے چند چھوٹے چھوٹے کام سپرد کئےکیے تھے(۷۵75) <ref>کنزالعمال بحوالہ طبقات ابن سعد :۳3)</ref> اس کے ما سوا بعض روایتوں کے بموجب حضرت علیؓ کو بھی قضا کا کاروبار سونپا گیا تھا،کنز <ref>بحوالہ جامع عبدالرزاق :۳3/۱۷۵175)</ref> آنحضرت ﷺ اورحضرت ابوبکرؓ کے زمانہ تک اس محکمہ کا مستقل وجود نہ تھا، حضرت عمرؓ نے اس کی بنیاد قائم کی اورحضرت زیدؓ کو مدینہ کا قاضی مقرر کیا ،طبقات ابن سعد اور اخبار القضاۃ میں ہے:
ان عمر استعمل زیدا علی القضاء وفرض لہ رزقاء
یعنی حضرت عمرؓ نے زید کو قاضی بنایا اوران کی تنخواہ مقرر کی۔
اس وقت تک قاضی کے لئےلیے عدالت کی عمارت تعمیر نہیں ہوئی تھی اس لئےلیے زیدؓ کا گھر دار القضا کا کام دیتا تھا،مکان فرش سے آراستہ تھا، اس کے صدر میں حضرت زیدؓ فیصلہ کے وقت متمکن ہوتے تھے ،دار الخلافت اور تمام قرب وجوار کے مقدمات حضرت زیدؓ کے پاس آتے تھے،یہاں تک کہ خود خلیفۂ وقت (حضرت عمرؓ) پر بھی یہاں دعوے داخل کئےجاتے تھے اوراس کا فیصلہ بھی یہیں ہوتا تھا۔
ایک مرتبہ حضرت عمرؓ اورحضرت ابی بن کعبؓ میں کچھ نزاع ہوئی، حضرت زیدؓ کی عدالت میں مقدمہ دائر ہوا، حضرت عمرؓ مدعا علیہ کی حیثیت سے حاضر ہوئے،حضرت زیدؓ نے جیسا کہ آج بھی امراءامرا و روساء کو کرسی دینے کا دستور ہے حضرت عمرؓ کے لئےلیے اپنی جگہ خالی کردی،لیکن مساوات کا جو اصول اسلام نے قائم کیا تھا، صحابہؓ اس پر نہایت شدت سے عمل پیرا تھے،خصوصاً حضرت عمرؓ نےاس کو نہایت عام کردیاکر دیا تھا، اس بناءبنا پر حضرت عمرؓ نے زیدؓ سے فرمایا کہ یہ آپ کی پہلی نا انصافی ہے مجھ کو اپنے فریق کے ساتھ بیٹھنا ہے؛چنانچہ دونوں بزرگ عدالت کے سامنے بیٹھے،مقدمہ پیش ہوا، حضرت ابیؓ مدعی تھے اورحضرت عمرؓ کو انکار تھا، شرعاً منکر پر قسم واجب ہوتی ہے ؛لیکن حضرت زیدؓ نے خلافت کے ادب واحترام کی بنا پر مدعی سے درخواست کی کہ اگرچہ یہ قاعدہ نہیں تاہم آپ امیر المومنین کو قسم سے معاف کردیجئے۔
حضرت عمرؓ نے کہا اس رعایت کی ضرورت نہیں،فیصلہ میں عمر اورایک عام مسلمان آپ کے نزدیک برابر ہونے چاہیے۔
<ref>(کنزالعمال:۳3/۱۷۴،بحوالہ174،بحوالہ بخاری وشکم)</ref>
== بیت المال کی افسری ==
ممالک اسلامیہ میں اگرچہ بہت سے مقامی بیت المال قائم تھے، حضرت زیدؓ اس کے افسر تھے، ۳۱ھ31ھ میں حضرت عثمانؓ نے یہ عہدہ ان کو تفویض فرمایا تھا،بیت المال کے عملہ میں زیدؓ کا ایک غلام وہیب بھی تھا وہ نہایت ہوشیارتھا اور بیت المال کے کاموں میں مدد دیتا تھا، ایک دن وہ بیت المال میں گنگنارہا تھا کہ حضرت عثمانؓ آگئے پوچھا یہ کون ہے، زیدؓ نے کہا میرا مملوک ہے،حضرت عثمانؓ نے فرمایا،اس کا ہم پر حق ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کی مددکرتا ہے (بیت المال کے کام کی طرف اشارہ تھا) چنانچہ ۲2 ہزار اس کا وظیفہ مقرر کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایا،لیکن حضرت زیدؓ کے مزاج میں عصبیت تھی وحروعبد کو ایک نگاہ سے دیکھ نہ سکتے تھے حضرت عثمانؓ سے کہا دو ہزار نہیں ؛بلکہ ایک ہزار مقرر کیجئے،حضرت عثمانؓ نے ان کی درخواست منظور کرلی اوراس کا وظیفہ ایک ہزار مقرر کردیا۔کر دیا۔
== مجلس شوریٰ کی رکنیت ==
حضرت ابوبکرؓ کے عہد میں انصار ومہاجرین کے ممتاز اصحاب کی جو مجلسِ شوریٰ تھی،حضرت زیدؓ بھی اس کے ایک رکن تھے، حضرت عمرؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں اسی جماعت کو باضابطہ کونسل قراردیا تھا،حضرت زیدؓ اس کے بھی ممبر تھے۔
حضرت زیدؓ میں علمی و دینی کمالات کے ساتھ انتظامی قابلیت بھی تھی اوران پر اتنا اعتماد تھا کہ حضرت عمرؓ نے جب مدینہ سے سفر کیا تو اپنا جانشین انہی کو مقرر کیا،حضرت عثمانؓ کا بھی یہی طرز عمل رہا، وہ جب حج کو مکہ معظمہ روانہ ہوتے تو زیدؓ کو کاروبار خلافت سپرد کرجاتے تھے۔
خلافت فاروقی میں زیدؓ کو تین مرتبہ حضرت عمرؓ کی ہم نشینی کا فخر حاصل ہوا۔
۱۶16 ھ اور ۱۷ھ17ھ میں دو مرتبہ حضرت عمرؓ کے حج کے موقع پر تیسری مرتبہ ان کے شام کے سفر کے زمانہ میں شام پہنچ کر زیدؓ کو آپ نے جب خط لکھا تو اس میں زید کا نام اپنے نام سے پہلے تحریر کیا یعنی "الی زید بن ثابت من عمر بن الخطاب" ہر دفعہ حضرت زیدؓ نے خلافت کی ذمہ داریوں کو نہایت ہوشیاری اور مستعدی سے انجام دیا، حضرت عمرؓ ان کے انتظام سےبہت خوش ہوتے اور واپس آکر ان کو کچھ جاگیر دیاکرتے تھے۔
== وفات ==
پچپن،چھپن سال کا سن مبارک تھا کہ پیام اجل آگیا اور 45ھ میں وفات پائی اس وقت تخت حکومت پر امیر معاویہ متمکن تھے اور مروان بن حکم مدینہ منورہ کا امیر تھا وہ زید سے دوستانہ تعلقات رکھتا تھا، چنانچہ اسی نے نماز جنازہ پڑھائی تمام لوگ سخت غمگین تھے، ابوہریرہ نے موت کی خبر سن کر کہا آج حبرالامۃ اٹھ گیا۔
111,622

ترامیم