"زید بن ارقم" کے نسخوں کے درمیان فرق

53 بائٹ کا ازالہ ،  1 مہینہ پہلے
م
خودکار: درستی املا ← 9، 0، 5، 3، 2، 4، ہو گیا، 1، عبد اللہ، 6، امرا، 7، کر لیا، 8، لیے، ہو گئے، کر دیا؛ تزئینی تبدیلیاں
(مضمون میں اضافہ کیا ہے)
م (خودکار: درستی املا ← 9، 0، 5، 3، 2، 4، ہو گیا، 1، عبد اللہ، 6، امرا، 7، کر لیا، 8، لیے، ہو گئے، کر دیا؛ تزئینی تبدیلیاں)
 
[[68ھ]] میں کوفہ میں انتقال فرمایا،یہ مختار بن ابی عبید ثقفی کا دور امارت تھا ۔
 
== فضل و کمال ==
90[[حدیث|حدیثیں]]یں آپ سے مروی ہیں۔ علم و فضل میں آپ کا مرتبہ بہت بلند تھا۔ اعلیٰ پایہ کے [[صحابی|صحابہ]] بھی کئی باتوں میں آپ سے مشورہ لیتے تھے۔ [[نبوت|آغاز نبوت]] میں آپ کا گھر اسلامی تحریک کا مرکز تھا۔ [[عمر ابن الخطاب|عمر فاروق]] نے یہاں حاضر ہوکر [[اسلام]] قبول کیا تھا۔<ref>مکمل اسلامی انسائیکلوپیڈیا،مصنف:[[مرحوم]] [[سید قاسم محمود]]،ص- 918</ref>
حضرت زید اپنے زمانہ میں مرجع علم و فضل تھے لوگ دور دور سے استفادہ کے لئےلیے آتے تھے ،ایک شخص اقصائے قسطاس سے مسئلہ پوچھنے آیا تھا۔<ref>(مسند:۴4/۳۷۲372)</ref>
جہاں کہیں جاتے تو شائقین حدیث آپ کی جانب رجوع کرتے ،ایک مرتبہ بصرہ یا مکہ گئے تو حضرت عباسؓ نے درخواست کی کہ فلاں حدیث جس کو آپ نے روایت کیا تھا اس کے سننے کا پھر مشتاق ہوں۔
<ref>(مسند:۴4/۳۶۷367)</ref>
ایک مرتبہ عطیہ عوفی نے آکر کہا کہ آپ نے میرے داماد سے فلاں حدیث بیان کی تھی میں اس ارادہ سے حاضر ہوا کہ خود آکر آپ سے سنوں انہوں نے حدیث بیان کی تو عطیہ بولے یہ بھی فقرہ تھا فرمایا:
انما انا اخبرک کما سمعت
<ref>(مسند:۴4/۳۹۸398)</ref>
بھائی میں نے جو کچھ سنا تھا تم سے بیان کردیا۔کر دیا۔
حدیثوں کے علاوہ جو دعائیں آنحضرتﷺ سے سنی تھیں اوریاد تھیں وہ لوگوں کو بتلاتے تھے، ایک مرتبہ کہا:
کان رسول اللہ ﷺ یعلمنا ھن ونحن نعلمکموھن
<ref>(مسند:۴4/۳۷۱371)</ref>
یعنی آنحضرتﷺ جس کو سکھلاتے تھے ہم تم کو سکھلاتے ہیں،لیکن آپ روایت حدیث میں بہت محتاط تھے۔
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں۔
كُنَّا إِذَا جِئْنَاهُ قُلْنَا حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّا قَدْ كَبُرْنَا وَنَسِينَا وَالْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ
<ref>(مسند احمد،باب حدیث زید بن ارقمؓ،حدیث نمبر:۱۸۴۹۹18499)</ref>
یعنی ہم حدیث کی درخواست کرتے تو جواب ملتا کہ میں بوڑھا ہوگیاہو گیا اور بھول گیا رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کرنا بڑا کام ہے۔
ایک مرتبہ چند آدمی سماع حدیث کے لئےلیے حاضر خدمت ہوئے پہلے ان کی تعریف وتوصیف کی کہ اللہ نے آپ کو بڑی فضیلت عطا فرمائی ہے،آپ نے آنحضرتﷺ کا جمال باکمال دیکھا،حدیث سنی ،غزوات میں شریک ہوئے،نماز یں پڑھیں ،اس سے بڑھ کر اورکیا شرف ہوسکتا ہے،فرمایا برادر زاد ے میں بوڑھا ہوا، وہ زمانہ گذر چکا بہت سی باتیں خواب وخیال ہوگئیں، حدیثوں کا بڑا سرمایہ نسیان وسہو کے نذر ہوگیا،ہو گیا، اس لئےلیے جو حدیث خود بیان کردوں وہ سن لیا کرو، باقی روایت کی تکلیف دینا تو یہ مناسب نہیں۔
<ref>(مسنداحمد:۴4/۳۶۶366)</ref>
اسی لئےلیے روایتوں کی کل تعداد (۹۰90) ہے آنحضرتﷺ اور حضرت علیؓ سے حدیثیں سنیں۔
اس سے روایت کرنے والوں میں حضرت انسؓ بن مالک (کتاب سے روایت کرتے تھے) عبداللہعبد اللہ بن عباسؓ،ابو الطفیلؓ، ابو عثمان مہندی،عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ، عبد خیر ہمدانی ، طاؤس ،نضر بن انسؓ، ابو عمر شیبانی،ابو المنہال، عبدالرحمن بن معطم، ابو اسحاق سبیعی،محمد بن کعب، ابو حمزہ طلحہ، ابن یزید،عبداللہیزید،عبد اللہ بن حارث بصری،قاسم بن عوف، یزید بن جان زیادہ مشہور ہیں۔
== اخلاق وعادات ==
اسلام کی روحانی تربیت کا اثر زندگی کے تمام شعبوں میں نمایاں ہے،سورۂ منافقین کی بعض آیات ان کے جوش ملی کی شاہد ہیں۔
ایک غزوہ میں جو نہایت عسرت و تنگی کے زمانہ میں پیش آیا تھا،اپنے چچا کے ساتھ تھے،عبداللہتھے،عبد اللہ بن ابی سرگروہ منافقین اپنی جماعت سے کہہ رہا تھا کہ مہاجرین کی مدد بالکل بند کردو تو وہ تنگ آکر خود بخود مدینہ سے واپس چلے جائیں گے اور میں یہاں سے چل کر ذلیل لوگوں کو شہر بدر کردوں گا، یہ جملے ان کو نہایت ناگوار گذرے،گو ابن ابی ان کا ہم قبیلہ اور رئیس خزرج تھا، مگر انہوں نے اپنے چچا سے شکایت کی ان کی غیرت ایمانی نے واقعہ کو رسول اللہ ﷺ تک پہنچایا،آپﷺ نے زید اور ابن ابی کو بلاکر دریافت کیا،وہ اپنی جماعت کے ساتھ آیا اور قسم کھائی کہ میں نے کچھ نہیں کہا، ابن ارقم جھوٹ بولتے ہیں، اس پر تمام انصار بن ارقم کو ملامت کرنے لگے کہ تم نے رسول اللہ ﷺ سے جھوٹ بیان کیا ،ان کے چچا بھی انصار کے ہم زبان ہوگئےہو گئے کہ مفت میں رسول اللہ ﷺ کو ناراض کرلیا۔کر لیا۔
حضرت زید کو سخت افسوس ہوا، گھر میں جاکر بیٹھ رہے اسی حالت میں نیند آگئی،ابھی بیدار نہ ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ پر سورۂ منافقین کی آیتیں نازل ہوئیں جن میں ان کی تصدیق اور منافقین کا سارا حال مذکور تھا،آپ ﷺ نے آدمی بھیجا کہ زید کو بلالاؤ،خدمت میں پہونچے تو آیتیں سناکر ارشاد ہوا کہ:ان اللہ صدقک یا زید<ref>(بخاری:۴4/۷۲۷،۷۲۸727،728)</ref>اے زید خدانے تمہاری تصدیق فرمائی۔
امر بالمعروف فرائض میں داخل تھا:مسجد قبا میں کچھ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے،ادھر سے گذرے تو فرمایا کہ شاید ان کو معلوم نہیں کہ اوا بین کا اس سے بہتر ایک وقت ہے اوروہ جب ہے کہ گرمی کی شدت سے تلوے جلنے لگیں۔
<ref>(مسند:۳۶۷367)</ref>
ایک مرتبہ مغیرہ بن شعبہؓ نے حضرت علی ؓ کی شان میں نا ملائم الفاظ استعمال کیے، تو انہوں نے کہا کہ آنحضرتﷺ مردوں کو برا کہنے سے منع کیا کرتے تھے،علیؓ کا انتقال ہوچکا اب ان کو براکیوں کہتے ہو۔
<ref>(مسند:۳۶۹369)</ref>
سنت نبویﷺ کے متبع تھے:جنازہ پر عموما ً۴ً4 تکبیریں کہا کرتے تھے، ایک مرتبہ ۵5 کہیں،ایک شخص نے ہاتھ پکڑ کر پوچھا کہ سہو تو نہیں ہوگیا،ہو گیا، فرمایا یہ بھی آنحضرتﷺ کی سنت ہے اس کو میں کیونکر چھوڑدیتا۔
<ref>(مسند:۳۶۹369)</ref>
بارگاہ نبوی میں تقرب حاصل تھا،جب کبھی یہ بیمار پڑتے آنحضرتﷺ ان کی عیادت کے لئےلیے تشریف لیجاتے۔
ایک مرتبہ آنکھ میں درد اٹھا،آپ عیادت کو تشریف لائے،صحت یابی کے بعد پوچھا کیوں ابن ارقم! اگر یہ باقی رہ جاتا تو کیا کرتے؟ عرض کیا صبر کرتا اوراجر کا امیدوار رہتا،فرمایا اگر ایسا کرتے تو خدا کے سامنے بے گناہ جاتے۔<ref>(مسند:۳۶۸و۷۱368و71)</ref>
مصیبت میں لوگوں کی ہمدردی و غمگساری کرتے تھے۔
حرہ کے واقعہ میں حضرت انسؓ کا ایک لڑکا اوربعض اعزہ مارے گئے تو ان کو تعزیت کا ایک خط لکھا کہ میں تم کو خدا کی ایک بشارت سناتا ہوں:آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ خدایا!انصار ان کی اولاددر اولاد،ان کی عورتیں اوران کی تمام اولاد کی مغفرت فرما۔
معاصرین کے کمال کا اعتراف نہایت کشادہ دلی سے کرتے تھے اور سوال کرنے والوں کو ان کے پاس بھیج د یتے تھے۔
ایک مرتبہ ابو المنہال بیع صرف کے متعلق ان سے مسئلہ دریافت کرنے آئے ،انہوں نے کہا براءؓ سے پوچھو، وہ مجھ سے بہتر اورزیاد عالم ہیں، جب وہ حضرت براءؓ بن عازب کے پاس گئے تو انہوں نے مسئلہ بتاکر کہا کہ اس کی تصدیق زیدؓ سے کرالینا وہ مجھ سے بہتر اورزیادہ جاننے والےہیں۔<ref>(مسند:۳۷۰370)</ref>
امراءامرا اورحکام سے ملتے رہتے تھے،عہدِ نبوت میں تجارت پر بسر اوقات تھی۔
 
 
 
{{صحابہ}}
 
[[زمرہ:ساتویں صدی کی شخصیات]]
[[زمرہ:ساتویں صدی کی عرب شخصیات]]
111,622

ترامیم