"زیاد بن لبید" کے نسخوں کے درمیان فرق

1,325 بائٹ کا اضافہ ،  3 مہینے پہلے
مضمون میں اضافہ کیا ہے
(مضمون میں اضافہ کیا ہے)
== وفات ==
[[41ھ]] میں انتقال ہوا، یہ امیر معاویہ کی حکومت کا پہلا سال تھا۔<ref>اسد الغابہ جلد 1 صفحہ 844حصہ چہارم مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور</ref><ref>اصحاب بدر،صفحہ 144،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور</ref>
== فضل وکمال ==
زیادؓ فقہائے صحابہؓ میں تھے، <ref>(تہذیب :۳/۳۸۳)</ref> صحیح ترمذی میں ہےکہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺنے فعمایا کہ اب علم کے اٹھنے کا وقت آپہنچا،زیادؓ نے عرض کیا یہ کیسے ہوسکتا ہے،اب تو علم لوگوں کے رگ وپے میں سرایت کر چکا ارشاد ہوا:
ثکلتک امک یا زیاد !ان کنت لا راک من افقہ رجل بالمدینۃ اولیس الیھود والنصاریٰ یقرؤن التوراۃ والانجیل ولا ینغعون بشئی
یعنی اے زیاد تیری ماں تجھ کو روئے میں تجھ کو نہایت سمجھ دار شخص خیال کرتا تھا کیا دیکھتے نہیں کہ یہودو نصاریٰ تورات وانجیل پڑہتے ہیں ،لیکن ان سے کچھ نفع نہیں اٹھاتے۔
حضرت عبادہؓ نے اس حدیث کو سنا تو فرمایا سچ ہے، سب سے پہلے خشوع اٹھ رہا ہے۔
<ref>(اصابہ:۲/۳)</ref>
آنحضرت ﷺ سے چند حدیثیں روایت کیں، حلقہ روایت میں عوف بن مالک، جبیر بن نفیر، سالم بن ابی الجعدان کی مسند فضل و کمال کے حاشیہ نشین ہیں۔
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}