"سہل بن سعد" کے نسخوں کے درمیان فرق

16 بائٹ کا ازالہ ،  1 مہینہ پہلے
م
خودکار: درستی املا ← لیے، 2، 5، 3، 1، عبد اللہ، 6، 7، 8
(مضمون میں اضافہ کیا ہے)
م (خودکار: درستی املا ← لیے، 2، 5، 3، 1، عبد اللہ، 6، 7، 8)
 
حضرت سہلؓ مشاہیر صحابہؓ میں ہیں،اکابر صحابہؓ کے فوت ہونے کے بعدان کی ذات مرجع انام بن گئی تھی،لوگ نہایت ذوق وشوق سے حدیث سننے آتے تھے۔
آنحضرتﷺ کے زمانہ میں اگرچہ صغیر السن تھے،تاہم آپ سے حدیث سنی تھی بعد میں حضرت ابی بن کعبؓ، عاصم بن عدیؓ ،عمرو بن عبسہؓ سے اس فن کی تکمیل کی،مروان سے بھی چند روایتیں لیں، اگرچہ وہ صحابی نہ تھا راویانِ حدیث اورتلامذہ خاص کی ایک جماعت تھی جن میں بعض کے نام یہ ہیں:
حضرت ابوہریرہؓ ،حضرت ابن عباسؓ، حضرت سعید بن مسیب، ابو حازم بن دیناز زہری، ابو سہل صبحی،عباسؓ بن سہل(لڑکے تھے) وفاء بن شریح حضرمی ،یحییٰ بن میمون حضری عبداللہعبد اللہ بن عبدالرحمن بن ابی ذباب ،عمروبن جابر حضرمی۔
روایات کی تعداد ۱۸۸188 ہے جن میں سے ۲۸28 متفق علیہ ہیں۔
== اخلاق ==
حب رسول ﷺ کے نشہ میں چور تھے، آنحضرتﷺ ایک ستون کے سہارے کھڑے ہوکر خطبہ دیا کرتے تھے،ایک روز منبر کا خیال ظاہر فرمایا، حضرت سہلؓ اٹھے اور جنگل سے منبر کے لئےلیے لکڑی کاٹ لائے۔
<ref>(مسند:۵5/۳۳۷337)</ref>
ایک مرتبہ آنحضرتﷺ کو بیر بضاعہ سے پانی پلایا تھا۔
<ref>(مسند:۵5/۳۳۸338)</ref>
حق گوئی خاص شعار تھی،آل مروان میں سے ایک شخص مدینہ کا امیر ہوکر آیا،حضرت سہلؓ کو بلا کر کہا کہ علیؓ کو برا کہو، انہوں نے انکار کیا تو کہا کہ اچھا اتنا ہی کہدو کہ "خدا نعوذ باللہ) ابو تراب پر لعنت کرے،حضرت سہلؓ نے جواب دیا کہ یہ علیؓ کا محبوب ترین نام تھا اورآپﷺ اس نام سے بہت خوش ہوتے تھے اس کے بعد ابو تراب کی وجہ تسمیہ بتلائی تو اس کو بھی خاموش ہونا پڑا۔
<ref>(مسلم:۱1/۳۲۶326)</ref>
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
111,622

ترامیم