"پارسی" کے نسخوں کے درمیان فرق

3 بائٹ کا اضافہ ،  3 مہینے پہلے
←‏آباد: درستی املا
م (خودکار: اضافہ زمرہ جات +ترتیب (14.9 core): + زمرہ:مہاراشٹر کے معاشرتی گروہ)
(←‏آباد: درستی املا)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل ترمیم از موبائل ایپ اینڈرائیڈ ایپ ترمیم)
 
== آباد ==
قريبی اکثریت [[بمبئبمبئی]] اوراس کے گردو نواح میں آباد ہے۔ یہ لوگ عموما تجارت پیشہ ہیں اور سماجی بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ بمبئی اور کراچی کے کئی سکول ہسپتال اور کتب خانے ان کے سرمائے سے چل رہے ہیں۔ ہندوستان کا پہلا فولاد کا کارخانہ [[جمشید ٹاٹا]] نے [[جمشید پور]] میں بنائی۔ ہندوستان میں جدیدسٹیج ڈرامے اور فلم سازی کے بانی بھی یہی ہیں۔
 
بھارت کی قدیم پارسی برادری کے بارے میں مشہور فوٹوگرافر سونی تارا پورے والا کی تصاویر کی نمائش ممبئی میں جاری ہے۔ ’ممبئی کی شام‘ نامی یہ تصویر 1982 میں لی گئی اور زیرِ نمائش 108 تصاویر میں سے ایک ہے
اس وقت پارسیوں کی آبادی میں پوری دنیا میں 18سال سے کم عمر افراد کا تناسب کل آبادی کا 18فیصد ہے جب کہ 18سے 60 برس تک عمروں تک پارسی افراد کا تناسب 31فیصد ہے اور باقی آبادی 60برس کی عمر سے بھی زیادہ عمررسیدہ ہے اس طرح ان میں شرح پیدائش شرح اموات کے مقابلے میں بہت کم ہے اور پھر امریکا اورکینیڈا میں اب یہ لوگ دوسرے مذاہب کے لوگوں سے شادیاں بھی رچا رہے ہیں حالانکہ ماضی میں یہ لوگ نہ دوسرے مذہب کے فرد کو شادی میں اپنی لڑکی دیتے تھے اور نہ باہر سے یعنی دوسری مذہب کے فرد سے شادی کرتے تھے پارسی کمیونٹی تیزی سے معدوم ہو رہی ہے اور بعید نہیں کہ عنقریب یہ صفحہ ہستی سے ہی مٹ جائے کراچی کی تاریح جب بھی کوئی غیر جانبدار اور دیانتدار تاریخ دان لکھے گا تو وہ اس شہر کی آبادی، اس کے رفاعی اور فلاحی اداروں کے قیام اور ان کے فروغ میں پارسی اقلیت کے نمایاں کردار کو اجاگرکریگا تجارت کے معاملات میں پارسی کمیونٹی نے دیانت داری کے جواعلیٰ معیار قائم کیے وہ سنہرے حروف میں لکھنے کے قابل ہیں۔
نامور کالم نگار اردشیر کاؤس جی طویل علالت کے بعد ہفتہ کو 86 سال کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے۔ پارسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے اردشیر کاؤس جی 13 اپریل 1926 میں کراچی میں پیدا ہوئے، انہوں نے 1988 سے 2011 تک مستقل ڈان اخبار کے لیے ہفتہ وار کالم لکھنے کے فرائض انجام دیے، آپ کا شمار پاکستان کے انتہائی مستند اور بے باک کالم نگاروں میں کیا جاتا تھا۔ وہ گزشتہ بارہ دن سے سینے میں انفیکشن کے باعث کراچی کے ایک اسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ(آئی سی یو) میں زیر علاج تھے۔ وربائی جی سوپری والا پارسی ہائی اسکول اور ڈی جے سندھ گورنمنٹ کالج سے تعلیم کمل کرنے کے بعد وہ اپنے خاندانی کاروبار شپنگ سے منسلک ہو گئے۔ کاؤس جی کے ان کی بیوی نینسی دنشا سے دو بچے ہیں، ان کی بیتی کراچی میں رہائش پزیر اور خاندانی کاروبار سے منسلک ہیں جبکہ ان کے بیٹے جو ایک آرکیٹیکٹ ہیں وہ امریکا میں مقیم ہیں۔ وہ ایک کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بزنس مین اور سماجی کارکن بھی تھے۔
 
== بھارت میں پارسی اہم شخصیات ==
* [[دادابھائی نوروجی]]
2,306

ترامیم