"پریم چند" کے نسخوں کے درمیان فرق

179 بائٹ کا ازالہ ،  3 مہینے پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م
}}
 
'''منشی پریم چند''' اردو کا مشہور ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کا اصلی نام '''دھنپت رائے''' ہے، لیکن ادبی دنیا میں پریم چند کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ 1880ء میں منشی عجائب لال کے وہاں ضلع وارانسی مرٹھوا کے گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ایک ڈاک خانے میں کلرک تھے۔ پریم چند ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے تقریباً سات آٹھ برس فارسی پڑھنے کے بعد انگریزی تعلیم شروع کی۔ پندرہ سال کی عمر میں شادی ہو گئی۔ ایک سال بعد والد کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ پورے گھر بار کا بوجھ آپ پر ہی پڑ گیا۔ فکر معاش نے زیادہ پریشان کیا تو لڑکوں کو بطور ٹیوٹر پڑھانے لگے اور میٹرک پاس کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں ملازم ہو گئے۔ اسی دوران میں بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔
 
'''منشی پریم چند''' اردو کا مشہور ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کا اصلی نام '''دھنپت رائے''' ہے، لیکن ادبی دنیا میں پریم چند کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ 1880ء میں منشی عجائب لال کے وہاں ضلع وارانسی مرٹھوا کے گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ایک ڈاک خانے میں کلرک تھے۔ پریم چند ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے تقریباً سات آٹھ برس فارسی پڑھنے کے بعد انگریزی تعلیم شروع کی۔ پندرہ سال کی عمر میں شادی ہو گئی۔ ایک سال بعد والد کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ پورے گھر بار کا بوجھ آپ پر ہی پڑ گیا۔ فکر معاش نے زیادہ پریشان کیا تو لڑکوں کو بطور ٹیوٹر پڑھانے لگے اور میٹرک پاس کرنے کے بعد محکمہ تعلیم میں ملازم ہو گئے۔ اسی دوران میں بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔
 
'''منشی پریم چند کا ابتدائی سوانحی خاکہ'''
 
منشی پریم چند جس کا اصل نام دحنپت رائے سریوستوا تھا 31 جولائی 1880 ء میں بنارس کے قریب گاؤں لامہا میں ،میں، جہاں ان کا والد پوسٹ آفس میں ایک کلرک تھا ۔تھا۔ پریم چند کے والدین نوجوان مر گئے-اس کی ماں جب وہ چودہ تھا اور اس کے والد اب بھی ایک طالب علم تھے.تھے۔ پریم چند اپنے سوتیلی ماں اور اس کے قدم بہن بھائیوں کے لئے ذمہ دار چھوڑ دیا گیا تھا.تھا۔
 
زندگی کے ابتدائی دور میں پریم چند نے بہت زیادہ غربت کا سامنا کیا ۔کیا۔ انہوں نے ایک وکیل کے بچے کو ایک ماہ کے لیے پانچ روپے کمایا ۔کمایا۔ وہ پندرہ سال کی ابتدائی عمر میں شادی شدہ تھی لیکن اس کی شادی ناکام ہوگئی,ہوگئی، بعد میں اس نے دوبارہ شادی کر لی,لی، شاورانا دیوی کے لئے,لئے، ایک بالاوادہاوا (بچے بیوہ),، اور کئی بچے تھے.تھے۔ اس نے زندگی کی جدوجہد کے ذریعے ان کی حمایت کی.کی۔
 
پریم چند نے اپنے میٹرک امتحان کو 1898 میں بڑی کوشش کے ساتھ منظور کیا اور 1899 میں نے اٹھارہ روپے کی ماہانہ تنخواہ کے ساتھ سکولساتھاسکول کی تعلیم کا کام لیا ۔لیا۔ 1919 میں انہوں نے اپنے B.A. کو انگریزی ،انگریزی، فارسی اور تاریخ سے گزرا ۔گزرا۔ بعد میں ،میں، پریم چند نے ڈپٹی ذیلی انسپکٹر آف اسکولوں کے طور پر کام کیا ۔کیا۔
 
پریم چند مالی جدوجہد کی زندگی بسر کی ۔کی۔ ایک بار جب اس نے کچھ کپڑے خریدنے کے لئے دو اور نصف روپے کا قرض لیا.لیا۔ اسے واپس ادا کرنے کے لئے تین سال کے لئے جدوجہد کرنا پڑا.پڑا۔
 
جب پوچھا گیا کہ وہ اپنے بارے میں کچھ بھی نہیں لکھتا ہے ،ہے، تو اس نے جواب دیا: "میرے پاس کیا عظمت ہے کہ میں کسی کو بتانا چاہتا ہوں ؟ میں اس ملک میں لاکھوں لوگوں کی طرح رہتا ہوں ۔ہوں۔ میں عام ہوں.ہوں۔ میری زندگی بھی عام ہے ۔ہے۔ میں نے ایک غریب اسکول کے استاد خاندان ٹراوایلس میں مبتلا ہوں.ہوں۔ میری پوری زندگی کے دوران ،میں، میں امید کرتا ہوں کہ میں اپنے دکھوں سے آزاد ہو سکتی ہوں ۔ہوں۔ لیکن میں اپنے آپ کو دکھ سے آزاد کرنے کے قابل نہیں رہا ۔رہا۔ اس زندگی کے بارے میں کیا خاص بات ہے جو کسی کو بتایا جائے ؟ "۔
 
پچھلے برسوں کے دوران میں وہ بہت ہی بیمار ہو گئے ۔گئے۔ پیسے اس کی بیوی کو ان کے علاج کے لئے دینے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا ان کی پریس "سرسوتی" چلانے میں استعمال کیا جاتا تھا.تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک کتاب بھی لکھ رہا تھا "مانالسترا" جو کبھی نہیں مکمل ہو جائے گا.گا۔ یہ سب اس کی صحت پر اس کی ابتدائی موت کی قیادت پر سنگین اثر تھا 8 اکتوبر 1936, کی عمر میں 56.
 
'''منشی پریم چند کی ابتدائی ادبی زندگی'''
 
آپ کا پہلا ناول ’’اسرارِ مابعد‘‘ رسالہ آوازِ خلق میں ۱۸؍18؍ اکتوبر ۱۹۰۳ء1903ء کو شائع ہوا۔ ۱۹۰۷ء1907ء میں دوسرا ناول ’’کیش نا‘‘ کے نام لکھا جواب موجود نہیں۔ اس کے بعد ۵5 افسانوں کا مجموعہ ’’سوزِ وطن‘‘ کے نام سے ۱۹۰۸ء1908ء میں منظر عام پر آیا۔ جس میں آپ نے آزادی ،آزادی، حریت، غلامی اور بغاوت کے موضوعات کو چھیڑا۔ حکومتِ برطانیہ نے اس پر پابندی عائد کر دی۔ چنانچہ گورکھ پور کی حکومت نے اس کی تمام نقول حاصل کر کے جلا دیں اور آئندہ کے لیے سخت پابندی عائد کر دی۔ پریم چند نے ان افسانوں میں ’’نواب رائے‘‘ کے قلمی نام سے لکھا۔ بعد میں پریم چند کے نام سے لکھنا شروع کیا۔
 
'''منشی پریم چند کا افسانہ نگار ی میں مقام'''
 
اس بحث میں پڑے بغیر کہ اردو کا پہلا افسانہ نگار کون ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اردو کا پہلا اہم اور بڑا افسانہ نگار پریم چند ہے۔ اردو ادب میں یہ ایک ایسا نام ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان کے دوسرے افسانہ نگاروں کی طرح آپ نے پیار ،پیار، محبت، عشق، ہیرو، ہیروئن جیسے سطحی موضوعات کو اپنے اظہار کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ حقیقت پسندی کی طرف اپنے ذہن و قلم کا رُخ جمایا۔ آپ کے قلم سے ہندوستان کی مٹی کی خوشبو آتی ہے۔ آپ کی افسانہ نگاری کو چار ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔
 
'''منشی پریم چند کی افسانہ نگاری کے ادوار'''
ڈاکٹر مسعود حسین خان نے اپنے مضمون ’’پریم چند کی افسانہ نگاری کے دور ‘‘ میں ان کی افسانہ نگاری کے چار ادوار بتائے ہیں۔
 
پہلا دور : ۱۹۰۳ء1903ء تا ۱۹۰۹ء1909ء تک ابتدائی کوشش
 
دوسرا دور : ۱۹۰۹ء1909ء تا۱۹۲۰ءتا1920ء تک تاریخی اور اصلاحی افسانے
 
تیسرا دور : ۱۹۲۰ء1920ء تا۱۹۳۲ءتا1932ء تک اصلاحی اور سیاسی افسانے
 
چوتھادور : ۱۹۳۲ء1932ء تا۱۹۳۶ءتا1936ء تک سیاسی اور فکری افسانے
 
پریم چند کی افسانہ نگاری کا آغاز بیسویں صدی سے ہو جاتا ہے۔ ۱۹19 ویں صدی کی کالونیاں ۲۰ویں20ویں صدی میں کئی نئے ادیبوں سے آشنا ہو گئی تھیں۔ اردو شاعری میں اقبال نے ایک نئی جہت اور احتجاجی لہر کا آغاز کیا۔ ۱۹ویں19ویں صدی کا معذرت خواہانہ لہجہ آہستہ آہستہ احتجاج میں بدل گیا۔ جنگِ عظیم اول ۱۹۱۴ء1914ء اور انقلاب روس ۱۹۱۷ء1917ء نے سامراجی قوتوں کے رعب میں رخنہ ڈال دیا تھا۔ پریم چند بھی اسی نیم سیاسی دور سے متاثر ہوئے۔ ’’سوزِ وطن‘‘ اسی دور کا اظہار ہے۔
 
ادب کے ذریعے انقلاب اور معاشرے میں تبدیلی لانے کا تصور پریم چند کی ابتدائی کہانیوں ہی سے سامنے آ گیا تھا۔ اس حوالے سے وہ مقصدی ادب کی ایسی تحریک کا تسلسل تھے جو ۱۹۵۷ء1957ء کے بعد سر سید اور ان کے رفقاء کے ہاتھوں شروع ہوئی تھی۔ آپ کی ابتدائی کہانیوں میں حقیقت نگاری کا پہلو نمایاں رہاہے۔ پریم چند اس نکتہ سے واقف تھے کہ حقیقت نگاری کا محدود تصور فن کو تباہ کر دیتا ہے۔
 
بقول شمیم حنفی: ’’پریم چند کہانی کی اوپری سطح پر ہی حقیقت کا التباس قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے نیچے وہ آزادی چاہتے ہیں۔ ‘‘
موضوعاتی اعتبار سے منشی پریم چند کے افسانوں کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
 
۱۔جب1۔جب ان پرداستانوں کا اثر تھا۔
 
۲۔جب2۔جب وہ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار تھے۔
 
۳۔جب3۔جب انھوں نے انسانی نفسیات کا مطالعہ طبقاتی جبر کے
 
حوالے سے کیا۔
'''پریم چند کااسلوب'''
 
آپ نے اپنے افسانوں میں سادہ زبان استعمال کی۔ آپ نے سنسکرت کے الفاظ کا کم استعمال کیا۔ آپ نے اکثر کرداروں کے مکالمے ان کی معاشی اور معاشرتی حیثیت کے مطابق لکھے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کے لیے مکالمے ان کے لہجے اور تلفظ میں تخلیق کیے۔ جو آپ کے زبردست مشاہدے کا غماز ہے۔ آپ نے ہندوستان کے لوگوں کو حقیقت پسندی سے روشناس کرایا۔ اُس وقت جب ہندوستان میں مذہبی داستانیں اور مافوق الفطرت موضوعات عروج پر تھے، آپ نے بین الاقوامی، ملکی ،ملکی، علاقائی، معاشرتی اور معاشی مسائل پر قلم اٹھایا۔ آپ نے ہندوستان کے دیہی موضوعات سے ساتھ ساتھ متوسط شہری کی زندگی کے مسائل پر بھی لکھا۔
 
'''پریم چند کے منتخب افسانوں پر تبصرہ'''
 
'''(۱1) کفن'''
 
کفن افسانہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں<ref>{{Cite web|url=https://sirfurdu.com/archives/9479/|title=کفن افسانہ|date=https://sirfurdu.com/archives/9479/|accessdate=https://sirfurdu.com/archives/9479/|website=|publisher=|last=بھٹی|first=مدثر}}</ref>
بقول ڈاکٹر محمد حسین ’’کفن میں پہلی بار پریم چند سماج کی تھوڑی بہت اصلاح کی جگہ اس کے مسلمات پر براہ راست حملہ آور ہوتے ہیں۔۔۔ آخر مردے کے کفن پر پیسہ ضائع کرنے کی بجائے مظلوم انسانوں کو جن کی زندگی جانوروں سے بدتر ہے۔ اس رقم سے دو لمحے بشاط اور خوشی میسر آ جائے تو کیا کفن دینے سے کہیں بہتر کارِ ثواب نہیں ہے‘‘۔
 
کفن حقیقت نگاری کے ساتھ ساتھ فنی جمالیات کی ایک عمدہ مثال ہے۔ یہ افسانہ ان کے اس نقطۂ نظر کا ترجمان ہے جو انھوں نے اپنے ایک خط میں بیان کیا۔ وہ لکھتے ہیں ’’محض واقعات کے اظہار کے لیے میں کہانیاں نہیں لکھتا۔ میں اس میں فلسفیانہ یا جذباتی حقیقت کا اظہار کرنا چاہتاہوں جب تک اس قسم کی بنیاد نہیں ملتی میرا قلم نہیں اٹھتا‘‘۔ ۱۹۳۰ء1930ء
 
انھوں نے کفن میں جس جرأت کے ساتھ انسانی فطرت کو بے نقاب کیا ہے وہ ان کے فن کا کمال بھی ہے اور نقطۂ نظر کااظہار بھی۔ آپ نے ’’کفن‘‘ کے بنیادی کرداروں ’’گھیسو‘‘ اور ’’مادھو‘‘ کے باطن میں گھس کر فطرت کو بے نقاب کیا۔
طبقاتی نظام میں محکوم اور مجبور لوگوں کا استحصال ان کے اندر انسانی احساسات کو ختم کر دیتاہے اور ان کو حیوانی سطح پر رہنے پر مجبور کر دیتاہے۔ ’’کفن‘‘ کی یہ طنزیہ صورت حال اس درد ناک منظر سے شروع ہوتی ہے کہ جھونپڑے کے اندر جواں سال بہو دردِ زہ سے تڑپ رہی ہوتی ہے اور باہر گھیسو اور مادھوبجھے ہوئے الاؤ کے گرد بیٹھے خاموشی سے اس کے مرنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ پریم چند کا کمال یہ ہے کہ وہ کم لفظوں میں بڑی حقیقت کو کہانی کا روپ دیتے ہیں۔
 
بنیادی طور پر کفن کی کہانی تین حصوں پر مشتمل ہے۔ جس میں پہلے حصے میں کرداروں کا تعارف، دوسرا حصہ بہو کی موت اور اثرات ،اثرات، تیسرا حصہ
 
'''غربت و افلا س کے میں پیدا ہونے والی بے حسی کا اظہار۔'''
نوٹ: پریم چند کے دو افسانے ’’کفن اور سبحان بھگت‘‘ پریم چند خود یکجا نہ کر سکے جو بعد میں جعلی ایڈیشن کے ناموں سے شائع ہوئے۔
 
'''(۲2) حج اکبر'''
 
بڑھیا ان کے یہاں تین سال سے نوکر تھی۔ اس نے ان کے اکلوتے بچے کی پرورش کی تھی۔ اپنا کام دل و جان سے کرتی تھی۔ اسے نکالنے کا کوئی حیلہ نہ تھا اور خواہ مخواہ کھچڑ نکالنا صابر جیسے حلیم شخص کے لیے غیر ممکن تھا۔ مگر شاکرہ اس معاملہ میں اپنے شوہر سے متفق نہ تھی۔ اسے شک تھا کہ دایا ہم کو لوٹے لیتی ہے۔ جب دایا بازار سے لوٹتی تو وہ دہلیز میں چھپی رہتی کہ دیکھوں اٹا چھپا کر تو نہیں رکھ دیتی۔ لکڑی تو نہیں چھپا دیتی۔ اس کی لائی ہوئی چیز کو گھنٹوں دیکھتی، پچھتاتی ،پچھتاتی، بار بار پوچھتی اتنا ہی کیوں؟ کیا بھاؤ ہے؟ کیا اتنا مہنگا ہو گیا؟ دایہ کبھی تو ان بدگمانیوں کا جواب ملائمت سے دیتی۔ لیکن جب بیگم زیادہ تیز ہو جاتیں، تو ہ بھی کڑی پڑ جاتی تھی۔ قسمیں کھاتی، صفائی کی شہادتیں پیش کرتی۔ تردید اور حجت میں گھنٹوں لگ جاتے۔ قریب قریب روزانہ یہی کیفیت رہتی تھی اور روز یہ ڈراما دایہ کی خفیف سی اشک ریزی کے بعد ختم ہو جاتا تھا۔ دایہ کا اتنی سختیاں جھیل کر پڑے رہنا شاکرہ کے شکوک کی آب ریزی کرتا تھا۔ اسے کبھی یقین نہ آتا تھا کہ یہ بڑھیا محض بچے کی محبت سے پڑی ہوئی ہے۔ وہ دایہ کو ایسے لطیف جذبہ کا اہل نہیں سمجھتی تھی۔[https://www.rekhta.org/stories/haj-e-akbar-premchand-stories?lang=ur]
 
'''[https://www.rekhta.org/stories/haj-e-akbar-premchand-stories?lang=ur پریم چند سنین کے آئینہ میں]'''
 
۱۸۸۰ء1880ء : پیدائش ،پیدائش، اصل نام دھنپت رائے، چچا نے نام رکھا
 
پریم چند، ابتدائی قلمی نام نواب رائے، دوسرا قلمی نام پریم چند۔
 
۱۸۸۵ء1885ء : مولوی صاحب سے اردو، فارسی پڑھنا شروع کی۔
 
۱۸۹۳ء1893ء : چھٹی جماعت میں داخل ہوئے۔
 
۱۸۹۷ء1897ء : میٹرک کیا۔
 
۱۸۹۹ء1899ء : پرائمری سکولپرائمریاسکول میں نائب معلم مقرر ہوئے۔
 
۱۹۰۰ء1900ء : لکھنا شروع کیا۔
 
۱۹۰۲ء1902ء : پہلا ناول اسرارِ مابعد۔
 
۱۹۰۴ء1904ء : دوسرا ناول کشانا، جونیئر انگلش ٹیچر کا امتحان پاس کیا،
 
ہیڈ ماسٹر بنے۔
 
۱۹۰۷ء1907ء : پہلی کہانی’’انمول رتن‘‘ لکھی۔
 
۱۹۰۸ء1908ء : سب ڈپٹی انسپکٹر مقرر ہوئے۔
 
۱۹۰۹ء1909ء : افسانوں کا دوسرا دور شروع ہوا، تاریخی اور اصلاحی
 
کہانیاں لکھیں۔
 
۱۹۲۰ء1920ء : تیسرا دور شروع ہوا، اصلاحی اور سیاسی کہانیاں۔
 
۱۹۲۱ء1921ء : ملازمت چھوڑدی۔
 
۱۹۲۲ء1922ء : رسالہ ’’مریادا‘‘ کی ادارت سنبھالی۔
 
۱۹۲۵ء1925ء : گنگاہتک مالا میں ملازمت کی۔
 
۱۹۲۸ء1928ء : ہندی رسالہ ’’مادھوری‘‘ کی ادارت کی۔
 
۱۹۳۰ء1930ء : اپنا پرچہ ’’ ھنس‘‘ نکالا۔
 
۱۹۳۲ء1932ء : چوتھا دور ،دور، سیاسی اور فکری۔
 
۱۹۳۶ء1936ء : اکتوبر میں انتقال۔
 
افسانوں کے مجموعے
 
( ۱1 )سوزِوطن(۱۹۰۸ء1908ء (۲2)پریم دلچسپی اول (۱۹۱۵ء1915ء)، (۳3)پریم دلچسپی دوم ( ۱۹۱۸ء1918ء (۴4) پریم بتیسی (۱۹۲۰ء1920ء)، (۵5) خاکِ پروانہ(۱۹۲۰ء1920ء (۶6) خواب وخیال ( ۱۹۲۸ء1928ء)، (۷7) فردوسِ خیال(۱۹۲۹ء1929ء (۸8)پریم چالیسی(۱۹۳۰ء1930ء)، (۹9) آخر تحفہ(۱۹۳۴ء1934ء (۱۰10) زادِ راہ(۱۹۳۶ء1936ء ) ، <ref>{{Cite web|url=https://sirfurdu.com/archives/9625|title=منشی پریم چند فن اور شخصیت|date=https://sirfurdu.com/archives/9625|accessdate=https://sirfurdu.com/archives/9625|website=منشی پریم چند فن اور شخصیت|publisher=https://sirfurdu.com/archives/9625|last=Bhatti|first=Mudassir}}</ref>
 
== ادبی زندگی ==
پریم چند کو ابتدا سے ہی کہانیاں پڑھنے اور سننے کا شوق تھا اور یہی شوق چھوٹے چھوٹے افسانے لکھنے کا باعث بنا۔ ان کی باقاعدہ ادبی زندگی کا آغاز [[1901ء]] سے ہوا۔ جب آپ نے رسالہ (زمانہ) کانپور میں مضامین لکھنے شروع کیے۔ اول اول مختصر افسانے لکھے اور پھر ناول لیکن مختصرافسانہ نویسی کی طرح ناول نگاری میں بھی ان کے قلم نے چار چاند لگا دیے۔ انہوں نے ناول اور افسانے کے علاوہ چند ایک ڈرامے بھی یادگار چھوڑے ہیں۔ <br />
پریم چند [[موہن داس گاندھی|مہاتما گاندھی]] کی تحریک سے متاثر ہوئے اور ملازمت سے استعفا دے دیاتھا۔ وہ دل و جان سے ملک کی آزادی کے یے لڑنا چاہتے تھے۔ لیکن اپنی مجبوریوں کی بنا پر کسی تحریک میں عملی حصہ نہ لے سکے۔ پریم چند کو اردو ہندی دونوں زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ 1936ء میں [[بنارس]] میں ان کا انتقال ہوا۔
 
 
== افسانوی مجموعے ==
سوز وطن<br />
[[پریم پچیسی]]<br />
[[پریم بتیسی]]
 
! تفصیل
|-
| '''اسرارِ معابد''' (اردو)<br />'''دیوستھان رہسیہ''' (ہندی)
| '''آوازِ خلق''' (سلسلہ وار)
| 1903ء (8 اکتوبر)-1905ء (فروری)
| Now lost; satirises women's fondness for jewellery
|-
| '''ہم خرما و ہم ثواب'''<ref>کلیات پریم چند، 1، قومی کونسل براے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی، پہلا اڈیشن، جولائی ستمبر 2000، ص 10</ref> (اردو)''پریما'' (ہندی)<br />
| انڈین پریس/ہندستان پبلشنگ ہائوس
| 1907ء
| '''سوزِ وطن''' (مجموعہ)
| '''زمانہ''' کا ناشر
| 1907ء، 1909ء
| 1907ء ،1909ء
|
| 1909ء میں برطانوی حکومت نے ممنوع کر دیا
|-
| '''وردان''' (ہندی)<br />''جلوۂ ایثار'' (اردو)
| گرنتھ بھنڈار اور دهنجو
| 1912ء
|
|-
| ''[[بازار حسن|سیوا سدن]]'' (ہندی)<br />'''[[بازار حسن (ناول)|بازارِ حسن]]''' (اردو)
| کلکتہ پستک ایجنسی (ہندی)
| 1919ء (ہندی); 1924ء (اردو)
| An unhappy housewife first becomes a courtesan, and then manages an orphanage for the young daughters of the courtesans.
|-
| '''پریماشرم''' (ہندی)<br />'''گوشۂ عافیت''' (اردو)
|
| 1922ء
|
|-
| '''رنگ بھومی''' (ہندی)<br />'''چوگانِ ہستی''' (اردو)
| دار الاشاعت (اردو، 1935ء)
| 1924ء
| 1925ء
| 156
| English title: ''The second wife''۔ About the dowry system in Indiaبھارت (serialised in the magazine ''Chand'' between نومبر 1921 and نومبر 1926, before being published as a novel)
|-
| '''کایاکلپ''' (ہندی)<br />'''پردۂ مجاز''' (اردو)
| لجپت رائے اینڈ سنس، لاہور (اردو)
| 1926ء (ہندی)، 1934ء (اردو)
|
|-
| '''پرتگیہ''' (ہندی)<br />'''بیوا''' (اردو)
|
| 1927ء
|
|-
| '''[[کرمہ بھومی]]''' (ہندی)<br />'''میدانِ عمل''' (اردو)
| مکتبہ جامعہ، دہلی
| 1932ء