"عبد الماجد دریابادی" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
{{خانہ معلومات عالم دین/عربی|عبد الماجد دریابادی=}}
 
'''عبد الماجد دریابادی''' 16/ مارچ 1892ء مطابق 16/ شعبان 1309ھ کو قصبہ [[دریاآباد، بارہ بنکی|دریاباد]]، ضلع [[بارہ بنکی، اتر پردیش]]، [[بھارت]] کے ایک علمی گھرانہ "قدوائی خاندان" میں پیدا ہوئے۔ اُن کے دادا مفتی مظہر کریم دریابادی( وفات: 1289ھ مطابق 1872ء) کو 1857ء کے معرکہ انقلاب کی حمایت اور برطانوی سرکار کے خلاف فتوائے جہاد پر دستخط کرنے کے جرم میں برطانوی حکومت نے [[جزائر انڈومان]] میں 14 برس قید کی سزا دی ـ مولانا دریابادی کے والد ڈپٹی کلکٹر مولوی عبد القادر ( وفات: 14/ ذی الحجہ 1330ھ مطابق 22/ نومبر 1912ء بمقام منٰی، مکہ مکرمہ، سعودی عرب) تھے ـ مولانا دریابادی ایک ہندوستانی مسلمان محقق اور مفسر قرآن تھے۔ وہ بہت سی ملی تنظیموں اور علمی، تحقیقی اور ادبی اداروں سے منسلک رہے۔ اِن میں [[تحریک خلافت]]، [[رائل ایشیاٹک سوسائٹی، لندن|رائل ایشیاٹک سوسائٹی، لندن]]، ندوة العلماء لکھنؤ، دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، دار العلوم دیوبند، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، دائرة المعارف جامعہ عثمانیہ حیدرآباد، انجمن ترقی اردو ہند، دہلی، ہندوستانی اکیڈمی الٰہ آباد، اترپردیش اردو اکادمی لکھنؤ، حج کمیٹی اترپردیش، حکومت اترپردیش کی انعامی کمیٹی برائے اردو مصنفین]] قابل ذکر ہیں۔ عبد الماجد دریابادی نے [[انگریزی زبان|انگریزی]] کے ساتھ ساتھ [[اردو]] میں بھی ایک [[تفسیر ماجدی|جامع تفسیر قرآن]] لکھی ہے۔ اُن کی اردو اور انگریزی تفسیر کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ تفاسیر اسلام پر مسیحیت کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات کو سامنے رکھتے ہوئے لکھی ہیں، مزید ان تفاسیر میں مسیحیت کے اعتراضات رد کرتے ہوئے [[کتاب مقدس|بائبل]] اور دوسرے مغربی مستشرقین کی کتابوں سے دلائل دیے ہیں۔ مولانا دریابادی کی وفات 6/ جنوری 1977ء مطابق 15/ محرم 1397ھ بروز جمعرات قبل فجر خاتون منزل، احاطہ فقیر محمد خاں پختہ حیدر مرزا روڈ گولہ گنج لکھنؤ میں ہوئی اور تدفین ان کے آبائی وطن قصبہ دریاباد ضلع بارہ بنکی میں ہوئی۔ انہوں نے [[تفسیر ماجدی]] میں [[سورۃ یوسف]] کے آخر میں لکھا ہے کہ اٹھاونویں پشت پر جا کر ان کا شجرہ نسب [[لاوی بن یعقوب|لاوی بن حضرت یعقوب علیہ السلام]] سے جا ملتا ہے۔
 
== شبلی نعمانی سے ملاقات ==