"مسیح الزماں خان" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
خودکار: درستی املا ← اور، کے ارکان، ہو گئے؛ تزئینی تبدیلیاں
(نیا صفحہ)
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم ایڈوانسڈ موبائل ترمیم)
 
م (خودکار: درستی املا ← اور، کے ارکان، ہو گئے؛ تزئینی تبدیلیاں)
|alma_mater = [[مظاہر علوم]]
}}
''' مسیح الزماں خان ''' (1840 - 17 دسمبر 1910) ایک بھارتی عالم دین تھے، جنھوں نے [[دار العلوم ندوۃ العلماء]] کے دوسرے چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ [[میر لائق علی خان سالار جنگ دوم| میر لائق علی خان]] اور [[محبوب علی خان]] کے استاد تھے۔
== سوانح ==
مسیح الزماں خان 1840 (1256 [[ہجری سال|ہجری]]) میں [[شاہجہاں پور]] میں پیدا ہوئے۔<ref name="edu">{{cite book |author1=شمس تبریز خان|title=تاریخ ندوۃ العلماء|volume = 2|page=19 |language=ur}}</ref> انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم احمد علی شاہ آبادی سے حاصل کی ، اور پھر اپنے ہی بھائی محمد زماں خان ہی کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے لیے [[حیدرآباد]] چلے گئے۔<ref name="edu"/>
 
تعلیم کی تکمیل کے بعد مسیح الزماں خان؛ [[میر تراب علی خان، سالار جنگ اول]] کے دونوں بیٹوں [[میر لائق علی خان سالار جنگ دوم| میر لائق علی خان]] اور میر سعادت علی خان کے استاذ بن گئے۔ [[محرم]] 1293 ہجری میں وہ چھٹے [[نظام حیدرآباد]] [[محبوب علی خان]] کے استاذ مقرر ہوئے۔<ref name="work">{{cite book |author1=شمس تبریز خان|title=تاریخ ندوۃ العلماء |volume = 2|page=20 |language=ur}}</ref> تین سال بعد وہ نظام کے تمام تعلیمی امور کا ناظم مقرر ہوئے۔<ref name="work"/> سن 1300 ہجری میں میر تراب علی خان کی وفات کے بعد ، ایک نئی کونسل تشکیل دی گئی اور خورشید جاہ اور نریندر پرشاد اس کے ممبرارکان مقرر ہوئے۔ وہ مسیح الزماں خان سے ناراض ہوگئےہو گئے اور ان کا عہدہ کم کر دیا اور 4 [[محرم]] 1301 ہجری کو پنشن وارنٹ ارسال کر دیا۔<ref name="pension">{{cite book |author1=شمس تبریز خان|title=تاریخ ندوۃ العلماء |volume = 2|pages=21-22 |language=ur}}</ref> چار ماہ بعد وہ شاہجہاں پور واپس آگئے۔<ref name="pension"/>
 
مسیح الزماں خان 1895 میں [[لکھنؤ]] میں [[ندوۃ العلماء]] کے دوسرے اجلاس عام میں شریک ہوئے اور انھیں رکن{{زیر}} انتظامیہ مقرر کیا گیا۔<ref>{{cite book |author1=شمس تبریز خان|title=تاریخ ندوۃ العلماء |volume = 2|page=27 |language=ur}}</ref> 19 جولائی 1903 کو [[محمد علی مونگیری]] کے استعفٰی کے بعد تین سال کے لیے انھیں ندوۃ العلماء کا ناظم عبوری (چانسلر) مقرر کیا گیا۔<ref>{{cite book |author1=شمس تبریز خان|title=تاریخ ندوۃ العلماء |volume = 2|page=31 |language=ur}}</ref><ref>{{cite book |author1=سید محمد الحسنی|title=سیرت حضرت مولانا محمد علی مونگیری: بانی ندوۃ العلماء|page=238|date=مئی 2016 |publisher=مجلس صحافت و نشریات، ندوۃ العلماء|location=لکھنؤ|edition=4 |language=ur}}</ref> ندوۃ العلماء کا جریدہ '' الندوہ '' [[شاہجہاں پور]] سے شروع کیا گیا تھا۔<ref>{{cite book |author1=شمس تبریز خان|title=تاریخ ندوۃ العلماء |volume = 2|page=35 |language=ur}}</ref> انھوں نے 21 اپریل 1905 کو ندوۃ العلماء سے استعفٰی دے دیا۔<ref>{{cite book |author1=شمس تبریز خان|title=تاریخ ندوۃ العلماء |volume = 2|page=39 |language=ur}}</ref> ان کا انتقال 17 دسمبر 1910 کو ہوا۔<ref>{{cite book |author1=شمس تبریز خان|title=تاریخ ندوۃ العلماء |volume = 2|page=25 |language=ur}}</ref>
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
== کتابیات ==
111,622

ترامیم