"راہل سانکرتیاین" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
درستی
م (درستی)
| imagesize = 200 px
}}
'''راہل سانکرتیاین''' ({{lang-hi|राहुल सांकृत्यायन}}؛ولادت: 9 اپریل 18931893ء وفات: 14 اپریل 19631963ء) کو ہندوستانی سفری سفر کا باپ کہا جاتا ہے۔ وہ وہی شخص ہے جنہوں نے نے سفر نامے کو ’ادب کی شکل‘ دینے کے لئے ایک اہم کردار ادا کیا، ہندوستان کے سب سے زیادہ سفر کرنے والے اسکالرز میں سے ایک تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کے پینتالیس سال اپنے گھر سے دور سفر پر صرف کیے۔<ref name="Sharma2009">{{cite book| first = R.S.| last = Sharma| title = [[Rethinking India's Past]]| publisher = Oxford University Press| year = 2009| isbn = 978-0-19-569787-2}}</ref>
 
انہوں نے بہت سی جگہوں پر سفر کیا اور اسی سفر میں تقریبا اسی تناسب سے کئی سفر نامے لکھے۔ وہ اپنے سفری تجربات کے بارے میں مستند وضاحت کے لئے بھی مشہور ہے ، مثال کے طور پر اپنے سفر نامہ "میری لداخ یاترا" میں وہ اس خطے کی مجموعی علاقائی، تاریخی اور ثقافتی خصوصیات کو عدل و انصاف کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ وہ بدھ [[بھکشو]] بن گئے اور آخر کار انہوں نے مارکسی سوشلزم کو قبول کر لیا۔<ref name="Sharma2009"/> سانکرتیاین ایک ہندوستانی قوم پرست بھی تھے، جنہیں برطانوی مخالف تحریریں اور تقاریر تخلیق کرنے کے الزام میں تین سال قید اور جیل میں بند کیا گیا تھا۔<ref name="Sharma2009"/> ان کو اپنے وظیفے کے لئے ’مہاپنڈت‘ (عظیم ترین اسکالر) کہا جاتا ہے۔<ref name="Sharma2009"/> وہ ایک کثیر الجہت کے ساتھ ساتھ ایک کثیر الجماعت دونوں ہی تھے۔<ref name="Sharma2009"/> حکومت ہند نے انھیں 1963ء میں [[پدم بھوشن]] کا سویلین اعزاز سے نوازا۔<ref name="Padma Awards">{{cite web | url=http://mha.nic.in/sites/upload_files/mha/files/LST-PDAWD-2013.pdf | title=Padma Awards | publisher=Ministry of Home Affairs, Government of India | date=2015 | access-date=21 July 2015}}</ref>
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
 
{{ہندی ادیب}}
{{ہندی کے مشہور ادیب}}
{{ہندی ادیب (پیدائش 1931-1940)}}
 
[[زمرہ:1963ء کی وفیات]]
[[زمرہ:اتر پردیش سے آزادی ہند کے فعالیت پسند]]