"درود" کے نسخوں کے درمیان فرق

1 بائٹ کا ازالہ ،  2 مہینے پہلے
م
 
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر [[درود]] و [[سلام]] بھیجنا ایک مقبول ترین عمل ہے۔ یہ سنت الٰہیہ ہے، اس نسبت سے یہ جہاں شان مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بے مثل ہونے کی دلیل ہے، وہاں اس عمل خاص کی فضیلت بھی حسین پیرائے میں اجاگر ہوتی ہے کہ یہ وہ مقدس عمل ہے جو ہمیشہ کے لیے لازوال، لافانی اور تغیر کے اثرات سے محفوظ ہے کیونکہ نہ خدا کی ذات کے لیے فنا ہے نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام کی انتہا۔
==قرآن میں حکم==
اللہ تعالٰیٰ نہ صرف خود اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجتا ہے بلکہ اس نے فرشتوں اور اہل ایمان کو بھی پابند فرما دیا ہے کہ سب میرے محبوب پر درود و سلام بھیجیں۔ اس لیے [[قرآن]] حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے<ref>[http://www.irfan-ul-quran.com/quran/urdu/contents/sura/ar/1/ur/1/ra/1/en/1/sid/33#56 القرآن، الاحزاب، 33 : 56]</ref>:
 
{{اقتباس|{{ٹ}}{{ع}}إِنَّ ٱل‍لَّٰهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَىٰ ٱلنَّبِيِّ يَا أَيُّهَا ٱلَّذِينَ آمَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا{{ڑ}}{{ن}}}}
19,936

ترامیم