"اسحاق بن راہویہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

902 بائٹ کا اضافہ ،  1 مہینہ پہلے
اضافہ کیا ہے
(مضمون میں اضافہ کیا ہے)
(اضافہ کیا ہے)
ان کوابتدا ہی سے علم حدیث سے شغف تھا اور اسی کے حصول میں انہوں نے سب سے زیادہ محنت وکوشش کی؛ مگرتفسیر وفقہ وغیرہ میں بھی ان کو دسترس تھی، خطیب نے لکھا ہے کہ وہ حدیث وفقہ کے جامع تھے، جب وہ قرآن کی تفسیر بیان کرتے تھے تواس میں بھی سند کا تذکرہ کرتے تھے، ابوحاتم اس بارے میں کہتے ہیں کہ حدیث کے سلسلہ روایت اور الفاظ کا یاد کرنا تفسیر کے مقابلہ میں آسان ہے، ابنِ راہویہ میں یہ کمال ہے کہ وہ تفسیر کے سلسلہ سند کوبھی یاد کرلیتے ہیں۔
<ref>(تہذیب التہذیب:۱۰/۲۱۸)</ref>
=== قوتِ حافظہ اور حدیث سے شغف واعتماد ===
 
اس کدوکاوش کے ساتھ خدا نے قوتِ حافظہ بھی غیرمعمولی دیا تھا، بے شمار احادیث زبانی یاد تھیں، کئی کئی ہزار احادیث تلامذہ کووہ اپنی یادداشت سے لھا دیا کرتے تھے اور کبھی کتاب دیکھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی؛ خود کہتے تھے کہ میں جوکچھ سنتا ہوں اسے یاد کرلیتا ہوں اور جوکچھ یاد کرلیتا ہوں؛ پھرنہیں بھولتا، فرماتے تھے: سترہزار حدیثیں ہروقت میری نظروں کے سامنے رہتی ہیں، ابوذرعہ مشہور محدث کہتے تھے کہ ان کے جیسا قوتِ حفظ رکھنے والا نہیں دیکھا گیا۔
<ref>(تاریخ بغداد:۲)</ref>